
ضلع قصور کے سیلاب زدہ سرحدی علاقوں میں پاکستان رینجرز (پنجاب) کی امدادی کارروائیاں جاری
6890 افراد اور 1024 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا – ریسکیو، انتظامیہ اور دیگر محکموں کے ساتھ مربوط آپریشن
سید عاطف ندیم-پاکستان: ضلع قصور کے سرحدی علاقے حالیہ دنوں میں شدید مون سون بارشوں اور دریائے ستلج میں آنے والے غیر معمولی سیلابی ریلوں کی زد میں آ کر بدترین صورتحال سے دوچار ہو چکے ہیں۔ خاص طور پر گنڈا سنگھ والا اور اس کے ملحقہ دیہی علاقوں میں تباہ کن صورتحال نے سینکڑوں خاندانوں کو بے گھر کر دیا ہے اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اس ہنگامی صورتحال میں پاکستان رینجرز (پنجاب) نے حسب روایت فرنٹ لائن پر آ کر امدادی سرگرمیوں کی قیادت سنبھالی ہے۔ ادارے کے تربیت یافتہ اور مستعد جوانوں نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا اور اب تک 6890 افراد اور 1024 مویشیوں کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات تک منتقل کیا جا چکا ہے۔
امدادی سرگرمیوں کا دائرہ کار اور اداروں کے درمیان تعاون
پاکستان رینجرز کی یہ کارروائیاں تنہا نہیں، بلکہ ایک جامع اور ہم آہنگ طریقے سے کی جا رہی ہیں جس میں ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ، پولیس، ہائی وے ڈیپارٹمنٹ، محکمہ صحت اور محکمہ آبپاشی کے ادارے بھی شامل ہیں۔ تمام اداروں کے درمیان قریبی رابطہ اور تعاون کی بدولت امدادی کاموں میں تیزی لائی جا رہی ہے اور متاثرہ آبادی تک بروقت رسائی ممکن ہو رہی ہے۔
دور دراز علاقوں تک رسائی اور انفراسٹرکچر کی بحالی میں تعاون
پاکستان رینجرز کے جوان نہ صرف سیلاب میں پھنسے افراد کو محفوظ نکالنے میں پیش پیش ہیں بلکہ وہ ان علاقوں میں بھی رسائی حاصل کر رہے ہیں جو زمینی راستوں سے کٹ چکے ہیں۔ کشتیوں اور خصوصی آلات کی مدد سے ان دیہاتوں تک رسائی حاصل کی جا رہی ہے جہاں اب تک کوئی ادارہ نہیں پہنچ سکا تھا۔
اس کے ساتھ ساتھ، خراب سڑکوں کی مرمت، راستوں کی بحالی، اور امدادی سامان کی ترسیل کے لیے رینجرز کے اہلکار ضلعی انتظامیہ کو بھرپور معاونت فراہم کر رہے ہیں، تاکہ متاثرہ علاقوں سے رابطہ بحال رکھا جا سکے۔
ریلیف کی فراہمی اور عوامی خدمت کا جذبہ
سیلاب سے متاثرہ افراد کو نہ صرف ریسکیو کیا جا رہا ہے بلکہ ان کے لیے عارضی رہائش، خوراک، پینے کا صاف پانی، اور ابتدائی طبی امداد کی فراہمی بھی جاری ہے۔ پاکستان رینجرز (پنجاب) نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہیں اور جب تک خطرہ ٹل نہیں جاتا، امدادی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
پاکستان رینجرز کے ترجمان کے مطابق:
"ہمارے جوان دن رات میدانِ عمل میں موجود ہیں۔ یہ قومی خدمت کا موقع ہے اور ہم اپنی ذمہ داریوں کو پوری لگن اور دیانتداری سے نبھا رہے ہیں۔ عوام کی جان و مال کا تحفظ ہمارا اولین فرض ہے۔”
عوام اور حکومت کی جانب سے سراہا گیا کردار
علاقے کے متاثرہ عوام نے پاکستان رینجرز کے بروقت اقدامات پر دلی اطمینان اور شکرگزاری کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت ریسکیو کارروائیاں نہ کی جاتیں تو جانی نقصان میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا تھا۔ مقامی عمائدین، منتخب نمائندوں اور سول سوسائٹی نے بھی پاکستان رینجرز کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
حکومتِ پنجاب کی جانب سے بھی سیلابی حالات سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی کی تعریف کی گئی ہے، جس میں تمام متعلقہ اداروں کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت متحرک کیا گیا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کی مکمل بحالی تک امدادی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
ایک قومی فریضہ
قدرتی آفات کسی بھی قوم کے لیے ایک بڑا امتحان ہوتی ہیں، اور پاکستان رینجرز (پنجاب) نے اس موقع پر اپنی قومی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف سرحدوں کے محافظ ہیں بلکہ ملک کے اندر کسی بھی بحران کی گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔



