
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی کے ساتھ:
پاکستان میں حالیہ شدید مون سون بارشوں اور بھارت کی جانب سے ڈیموں کے سپل ویز کھولے جانے کے بعد سیلابی صورتحال نے ملک کے مختلف علاقوں میں تباہی مچائی ہے۔ دریائے چناب، ستلج اور راوی میں طغیانی کے بعد لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں، جن کی مدد کے لیے پاک فوج، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، صوبائی حکومتیں اور وفاقی ادارے متحرک ہو گئے ہیں۔
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی خصوصی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوج کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ اب تک 28 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ مختلف ریلیف کیمپس میں ہزاروں خاندانوں کو طبی سہولیات، خوراک اور خیمے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
پاک فوج کے دو جوان شہید، متعدد زخمی
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اسلام آباد میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ امدادی کارروائیوں کے دوران پاک فوج کے دو جوان شہید اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ جوان سیلاب زدہ علاقوں میں اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر عوام کی خدمت میں مصروف تھے۔”
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے مطابق، اس وقت فوج کی 30 یونٹس فلڈ ریلیف آپریشنز میں مصروف ہیں، جن میں 19 انفنٹری اور 7 انجینیئر یونٹس شامل ہیں۔ قراقرم ہائی وے کو کلیئر کر دیا گیا ہے اور خیبرپختونخوا و گلگت بلتستان میں تباہ شدہ پلوں کی مرمت مکمل کی جا چکی ہے۔
20 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج، 225 ٹن راشن تقسیم
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، ملک بھر میں 29 آرمی میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے ہیں، جہاں اب تک 20 ہزار 788 متاثرین کا مفت علاج کیا جا چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 225 ٹن راشن اور دیگر امدادی اشیاء متاثرہ علاقوں میں تقسیم کی جا چکی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ "ہم نے سیلاب کی شدت کے باوجود نہ صرف عوام کی مدد جاری رکھی بلکہ ملک کی سرحدوں پر چوکسی بھی برقرار رکھی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ “سرحدی پوسٹس پر نگرانی بدستور جاری ہے اور کسی بھی پوسٹ کو خالی نہیں کیا گیا۔”
دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں بھی جاری
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ “خیبر پختونخوا میں امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں بھی بدستور جاری ہیں تاکہ کسی کو بھی اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے۔”
این ڈی ایم اے کا انتباہ: سندھ میں سیلاب کا خطرہ
پریس کانفرنس کے دوران چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے بتایا کہ ملک میں مون سون کا آٹھواں سپیل جاری ہے اور جموں و کشمیر کے اطراف بادل پھٹنے کے باعث دریاؤں میں طغیانی آئی ہے۔ بھارت کی طرف سے پانی چھوڑنے کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دریائے ستلج کے فلڈ ایریا سے دو لاکھ سے زائد افراد کا انخلا مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ ہیڈ خانکی میں 10 لاکھ کیوسک پانی کی موجودگی ریکارڈ کی گئی ہے۔ پانی کا دباؤ اب قادرآباد اور پنجند بیراج کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "آنے والے دنوں میں سندھ میں بھی خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس کے لیے ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔”
پنجاب میں دریاؤں کی صورتحال اور ریلیف اقدامات
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ پنجاب کے تین بڑے دریاؤں — چناب، ستلج اور راوی — میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے۔ گنڈا سنگھ والا، مرالہ، ہیڈ خانکی اور قادرآباد کے مقامات پر شدید سیلابی صورتحال ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ “این ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو بروقت اطلاعات فراہم کی ہیں، جس کے نتیجے میں انخلاء ممکن ہوا۔”
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سیلابی صورتحال پر اجلاس کی صدارت کی ہے اور پیشگی اطلاع کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ “یہ نیشنل رسپانس ہے، جس میں پاک فوج، سول ادارے، این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ مل کر کام کر رہے ہیں۔”
سندھ حکومت کو بھی خبردار کر دیا گیا
چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق، پنجاب کے بعد پانی کا دباؤ سندھ کی طرف بڑھے گا۔ “جب دریائے چناب، راوی اور ستلج کا پانی پنجند بیراج پر پہنچے گا تو چھ سے سات لاکھ کیوسک کا ریلا متوقع ہے۔ سندھ حکومت کو خبردار کر دیا گیا ہے کہ وہ پیشگی اقدامات کرے۔ کوٹری اور گدو بیراج پر بھی دباؤ آئے گا۔”
این ڈی ایم اے نے سندھ میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور تمام متعلقہ اداروں کو ضروری انتظامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔
"ہم سب کو مل کر کام کرنا ہو گا”
وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری قوم کو یکجا ہونا ہو گا۔ “آنے والے چند دنوں میں نقصانات کا جائزہ لیا جائے گا اور بحالی کا کام شروع کیا جائے گا۔ حکومت عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔”
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ "مشکل ہو یا آسان وقت، جنگ ہو یا امن، پاک فوج قوم کے ساتھ کھڑی ہے۔ کوئی باطل قوت عوام اور فوج کے درمیان خلیج نہیں پیدا کر سکتی۔”



