کالمزناصف اعوان

کِس کو ‘ کِس کی کیا فکر ؟…..ناصف اعوان

ہ شاباش جاری رکھو تمھیں کوئی نہیں پوچھے گا اگر چہ ایران نے اسے چیلنج کیا ہے اور اس کو سبق بھی سکھایا ہے اس کے باوجود اس کی سینہ زوری جاری ہے

جمہوریت بارے بعض ممالک بھاشن بڑے دیتے ہیں مگر ان کا عمل اس کے بر عکس ہوتا ہے ۔
امریکا بہادر کو ہی لے لیجئیے وہ جمہوریت اور امن کا راگ الاپتے ہوئے نہیں تھکتا مگر وہ جنگوں کی بات بھی کرتا ہے آمروں کی بھی پیٹھ بھی سہلاتا ہے ۔ کمزور اور ترقی پزیر ملکوں میں اپنے اثر و رسوخ کے لئے مختلف النوع حربے و ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے اور عوام کی منتخب حکومتوں کو گراتا ہے۔ فلسطین پر ایک طویل عرصے سے اسرائیل کی جارحیت ہورہی ہے مگر مجال ہے اسے روکے اسے سمجھائے کہ انہیں بھی جینے کا حق ہے مگر نہیں وہ اسے تھپکی دیتا ہے کہ شاباش جاری رکھو تمھیں کوئی نہیں پوچھے گا اگر چہ ایران نے اسے چیلنج کیا ہے اور اس کو سبق بھی سکھایا ہے اس کے باوجود اس کی سینہ زوری جاری ہے ۔ایران کے ساتھ جنگ ختم ہوئی تو اس نے دوبارہ غزہ پر بمباری کا آغاز کر دیا اور اب قطر پر بھی حملہ کر دیا ہے جس کا جواب اس نے لعن طعن کی صورت دیا ہے مگر ایران نے اس پر میزائل داغ دئیے ہیں ۔
عرض کرنے کا مقصد جتنے بھی جمہوریت پسند ممالک ہیں اپنے اندر تو اس کا بڑی حد تک احترام کرتے ہیں مگر مثالی جمہوریت تب بھی وہاں رائج نہیں طبقات موجود ہیں مساوات نظر نہیں آتی مگر پھر بھی ہم ایسے ملکوں سے ہزار گنا بہتر ہیں ۔یہاں تو اندھیر نگری چوپٹ راج ایسی صورت حال ہے مگر امریکا یا اس کے اتحادیوں کو اس کی کوئی فکر نہیں کہ جبر و ظلم ہوتا ہے تو ہو بنیادی حقوق سلب ہوتے ہیں تو ہوں اظہار رائے کی آزادی ہے یا نہیں ہے اس کا انہیں کوئی خیال نہیں لہذا یہی وجہ ہے کہ آج آئین و قانون کی بالا دستی کا خواب بکھر چکا ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا ماحول ہے جبکہ عوام کی خواہش ہے کہ یہاں بھی یورپی ملکوں کی طرح ایک مربوط منصفانہ و آزادانہ نظام حیات ہو مگر ابی تک یہ خواب ادھورا ہے اس کی دو اہم وجوہات ہیں ایک یہ کہ ہمارا نظام زندگی بدعنوانی کے زہر سے آلودہ ہے لہذا قریباً ہر با اختیار بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتا ہے دوسرے یہ کہ ہم نے امریکا کا دامن تھام رکھا ہے جس نے ہمیں امدادیں اور قرضے تو دئیے دلوائے ہیں مگر بنیادی ترقی کی طرف نہیں جانے دیا گیا تاکہ پاکستان کسی بھی میدان میں خود کفیل نہ ہو سکے اور اپنی معیشت کو چلانے کے لئے اس کے ذیلی اداروں کا دست نگر رہے ۔ دیکھ لیجئیے اس وقت ہم بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں جنہیں اتارنا انتہائی مشکل ہےیہ جانتے ہوئے بھی ہمارا حکمران طبقہ دولت کے انبار لگانے میں مصروف ہے اسے کوئی فکر نہیں کہ ملک کا کیا بنے گا عوام کیسے جئیں گے ۔انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جب پانی سر کے اوپر سے گزر جائے تو پھر تُو کون اور میں کون والے حالات جنم لیتے ہیں ۔ ہمارے اِسی علاقہ میں بنگلہ دیش انڈو نیشیا نیپال اور سری لنکا میں عوامی جدو جہد نے منظر بدل ڈالے ہیں ۔صورت حال یہاں بھی اُسی طرف جا رہی ہے جلد یا بدیر کچھ نہ کچھ ضرور ہو گا کیونکہ نا انصافی اور خراب معاشی حالت نے لوگوں کو گویا زندہ در گور کر دیا ہے۔
بہرحال اب جب دنیا کے اندر روایتی سیاست و حکومت کا چل چلاؤ ہے تو ہمارے اہل سیاست و اقتدار کو بھی کوئی نیا عمرانی معاہدہ کر لینا چاہیے کیونکہ رات گئی بات گئی والی صورت حال نہیں رہی کہ سوشل میڈیا نے ایک انقلاب برپا کر دیا ہے یہ سوشل میڈیا ہی کی بنا پر نیپالی عوام نے تخت الٹا دیا۔ سوشل میڈیا پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی چاہے حکومتیں کچھ بھی کر لیں لہذا گزارش ہے کہ ہمیں فرسودہ نظام سے نجات حاصل کر لینا ہو گی علاؤہ ازیں خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہو گی یعنی امریکا بہادر کی ڈکٹیشن سے انکار کرنا ہو گا کیونکہ اس نے ہمیں ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں دیا ۔آج ہمارا سماج بُری طرح سے شکست و ریخت کے عمل سے دوچار ہے ۔غیر یقینی بدگمانی اور بے چینی آخری حدوں کو چھو رہی ہے لہذا ہمارا اسَی فیصد جھکاؤ یا انحصار چین اور روس کی طرف ہونا چاہیے ماضی گواہ ہے کہ چین نے ہماری دامے درمے سخنے مدد کی ہے اور ترقی کی جانب لے جانے کے لئے ٹیکنالوجی بھی دی ۔مغرب و یورپ کا شاید ہی کوئی ملک ہو گا جس نے ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے سے متعلق سوچا ہو لہذا وقت کا اہم تقاضا ہے کہ چین کی دوستی کو مستحکم کیا جائے۔ اب یہ بات درست ہے یا نہیں کہ چین نے سی پیک کو سمیٹنا شروع کر دیا ہے کہ ریلوے کو جو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا اس پروگرام کو ختم کر دیا ہے۔ نہ ہماری امریکا کو فکر ہو نہ چین روس کو تو ذرا سوچیے ہم کہاں کھڑے ہوں گے ؟ شاید اسی تناظر میں ہی اسرائیل کی نظر بد ہمارے اوپر جمی ہوئی ہے ۔ ذرا دیکھیے کہ وہ شتر بے مہار ہو چکا ہے جسے دبانا جھکانا چاہتا ہے اس پر یلغار کر دیتا ہے اس لئے کرتا دھرتاؤں کو سیاسی استحکام لانے کی کوشش کرنی چاہیے جس سے دوسروں کو پیغام جا سکے کہ ہم متحد ہیں مگر افسوس ایسی کوئی کوشش نظر نہیں آرہی اگر کوئی کوشش کی بھی جا رہی ہے تو ایک بڑی سیاسی جماعت کو کھڈے لائن لگانے کے لئے جبکہ وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ابھر کر سامنے آرہی ہے وجہ اس کی یہی ہے کہ اٹھہتر برس میں عوام کو سمجھ آگئی ہے کہ ان کے ساتھ کیا کچھ ہوتا رہا ‘ اہل اختیار امریکا کے مفادات کو مقدم تصور کرتے رہے عوام کو غیر اہم قرار دے کر بد عنوانی کے ریکارڈ قائم کرتے رہے اور وہ یہ سب دیکھ رہا تھا مگر اس نے جمہوریت کی آڑ میں ترقی پزیر ملکوں کے عوام کو بیوقوف بنانے والوں کا ساتھ دیا تاکہ وہ اپنے مفادات کو محفوظ بنا سکے عوام کے شعور کو محدود رکھ سکے مگر اب نہیں کیونکہ سوشل میڈیا دنیائے سیاست و صحافت اور معیشت میں انقلاب لا چکا ہے جس کے آگے روایتی حکمران بے بس ہیں وہ پابندیاں لگا کر بھی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پا رہے کیونکہ ذہن جاگ گئے ہیں اور جاگے ہوؤں کو سلانا ممکن ہی نہیں لہذا حکمرانوں کو بدلتی ہوئی دنیا کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے طرز عمل کو تبدیل کر لینا چاہیے کہ کوئی بھی زور آزمائی ملک ہوں یا لوگ ان پر مسلط نہیں کی جا سکتی وگرنہ ایران اسرائیل کے آگے جھک جاتا مگر ایسا نہیں ہوا وہ اپنی جگہ کھڑا ہے لہذا ہمارے شہ دماغوں کو بھی غور کرنا چاہیے کہ انہوں نے ہر طرح سے اس نظام کو تقویت دینا چاہی ہے مگر وہ ٹوٹ رہا ہے پور ے عالم میں تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے عقلمندی یہی ہے کہ بدلتی رُت کو خندہ پیشانی سے قبول کر لیا جائے !

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button