پاکستاناہم خبریں

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی میں توسیع، دوحہ مذاکرات تک فائر بندی برقرار رکھنے پر اتفاق

سرحدی کشیدگی کے بعد اہم پیش رفت، دونوں ممالک کے وفود دوحہ میں مذاکرات کے لیے تیار

اسلام آباد رپورٹ وائس آف جرمنی اردو نیوز: پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی میں دوحہ میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات کے نتائج سامنے آنے تک توسیع پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ سرحدی جھڑپوں اور بڑھتے ہوئے تناؤ کے بعد کیا گیا ہے، جس نے دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں نئی پیچیدگیاں پیدا کر دی تھیں۔

دونوں اطراف سے جنگ بندی کی تصدیق

بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، ایک پاکستانی سیکیورٹی عہدیدار اور ایک افغان طالبان ترجمان نے اس جنگ بندی میں توسیع کی تصدیق کی ہے۔ دونوں ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے تک یہ جنگ بندی برقرار رہے گی۔ اطلاعات کے مطابق پاکستانی وفد پہلے ہی دوحہ پہنچ چکا ہے جبکہ افغان طالبان کا وفد ہفتے کے روز (19 اکتوبر) دوحہ پہنچے گا۔

پس منظر: جنگ بندی کا پہلا مرحلہ

یاد رہے کہ سرحدی کشیدگی اور فائرنگ کے واقعات کے بعد بدھ کے روز دونوں ممالک نے ابتدائی طور پر 48 گھنٹے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، جو ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی تھی۔ جمعرات کے روز پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ:

“ٹھوس شرائط پر جنگ بندی میں توسیع کی بات کی جا سکتی ہے، لیکن اگر مذاکرات کا مقصد محض وقت حاصل کرنا ہے تو یہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔”

وزیر اعظم نے یہ بھی واضح کیا کہ جنگ بندی افغانستان کی نگران حکومت کی درخواست پر عمل میں آئی ہے، جبکہ افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس کے برعکس مؤقف اختیار کیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بیانیے کی سطح پر بھی اختلافات موجود ہیں۔

افغان مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ

اسی دوران، وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت بھی کی، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایسے افغان شہریوں کو مزید مہلت نہیں دی جائے گی اور جلد از جلد ان کی واپسی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اجلاس میں افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے حملوں اور ان کی پشت پناہی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

دفتر خارجہ کا ردعمل

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ:

“پاکستان کو افغان طالبان اور فتنۂ الخوارج کی سرحدی خلاف ورزیوں پر شدید تحفظات ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان افغان شہریوں کی اپنی سرزمین پر موجودگی سے متعلق قانون کے مطابق اقدامات کر رہا ہے، اور امید ظاہر کی کہ ایک دن افغان عوام کو اپنے حقیقی نمائندوں پر مبنی ایک سچی حکومت نصیب ہو گی۔

ترجمان نے بتایا کہ اسلام آباد اور کابل میں سفارتی عملے اور رابطے معمول کے مطابق جاری ہیں، تاہم انہوں نے دوحہ میں ہونے والے مذاکرات یا معاہدے کی تفصیلات شیئر کرنے سے گریز کیا اور کہا:

“اس وقت دوحہ کے حوالے سے معاہدے یا مذاکرات سے متعلق کچھ شیئر کرنے کو نہیں ہے۔”

علاقائی و عالمی اہمیت

سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ جنگ بندی وقتی سہی، لیکن خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ اگر دوحہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں بہتری لا سکتے ہیں بلکہ علاقائی استحکام، سرحدی تحفظ اور معاشی تعاون کے دروازے بھی کھول سکتے ہیں۔

چیلنجز اور توقعات

دونوں ممالک کو اعتماد کی فضا قائم کرنے، دہشت گردی کے خلاف موثر حکمت عملی اپنانے، اور سرحدی انتظام کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ مذاکراتی عمل میں دیر یا عدم سنجیدگی سے نہ صرف جنگ بندی خطرے میں پڑ سکتی ہے بلکہ انسانی جانوں کا ضیاع اور مہاجرین کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔


اختتامیہ:
پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوحہ مذاکرات اور جنگ بندی میں توسیع ایک نرم سفارتی دروازہ ہے، جسے مستقل امن کی راہ میں مضبوط بنیاد بنانے کی ضرورت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں دوحہ میں کیا پیش رفت ہوتی ہے اور کیا دونوں ممالک علاقائی مفاہمت، سیکیورٹی تعاون اور اعتماد سازی کے لیے کوئی مستقل روڈ میپ طے کرنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں یا نہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button