پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

بھارتی پنجاب سے آلودہ ہواؤں کا نیا سلسلہ لاہور اور وسطی پنجاب میں داخل، سموگ کی شدت میں بتدریج اضافہ — ماہرین کی وارننگ

رات گئے لاہور کے کچھ علاقوں میں اے کیو آئی 250 سے تجاوز کر سکتا ہے، جو انسانی صحت کے لیے خطرناک سطح سمجھی جاتی ہے

لاہورپاکستان-وائس آ ف جرمنی اردو نیوزمانیٹرنگ ڈیسک:

بھارتی پنجاب سے آلودہ اور دھوئیں سے بھری ہواؤں کا سلسلہ ایک بار پھر لاہور اور وسطی پنجاب کے مختلف اضلاع میں داخل ہو گیا ہے، جس کے باعث فضائی آلودگی اور سموگ کی شدت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہوا کے دباؤ اور رفتار میں بہتری نہ آئی تو آنے والے دنوں میں اے کیو آئی (AQI) خطرناک سطح تک پہنچ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، رواں سال بھارتی پنجاب میں فصلوں کی باقیات جلانے کے واقعات میں 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان واقعات سے پیدا ہونے والا دھواں سرحد پار ہواؤں کے رخ کے باعث لاہور، قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور گوجرانوالہ کی فضا میں شامل ہو رہا ہے، جس سے شہری علاقوں میں سموگ کی شدت بڑھ گئی ہے۔

کم ہوا کی رفتار اور زیادہ نمی نے آلودگی کو زمین کے قریب قید کر دیا

اسموگ مانیٹرنگ و پیشگوئی نظام کے مطابق، رواں سال اکتوبر کے آخری ہفتے میں ہواؤں کی رفتار 3 تا 5 میل فی گھنٹہ کے درمیان رہی ہے، جو آلودہ ذرات کے بکھراؤ کے لیے ناکافی ہے۔ اسی طرح رات کے اوقات میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی اور فضائی نمی 95 تا 100 فیصد تک پہنچنے سے فضا میں موجود آلودہ ذرات زمین کے قریب جم گئے ہیں، جس کے نتیجے میں حدِ نگاہ (Visibility) میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

دن کے اوقات میں سورج کی روشنی سے وقتی طور پر فضائی اختلاط میں معمولی بہتری ضرور آتی ہے، مگر شام ڈھلتے ہی دوبارہ سموگ کی پرتیں گاڑھی ہونے لگتی ہیں۔ ماہرین نے پیشگوئی کی ہے کہ رات گئے لاہور کے کچھ علاقوں میں اے کیو آئی 250 سے تجاوز کر سکتا ہے، جو انسانی صحت کے لیے خطرناک سطح سمجھی جاتی ہے۔

ہوا کے کم دباؤ والے زونز اور سرحد پار سے آلودگی — سموگ میں اضافے کی بنیادی وجوہات

ماحولیاتی رپورٹ کے مطابق، رواں سال سموگ کی شدت میں اضافے کی بڑی وجوہات میں ہوا کے کم دباؤ والے زونز اور بھارتی پنجاب سے آنے والی آلودگی شامل ہیں۔ ان زونز کے باعث ہوا کا بہاؤ سست پڑ گیا ہے، جس سے آلودہ ذرات فضا میں ٹھہر گئے ہیں اور شہروں پر دھند کی طرح معلق نظر آ رہے ہیں۔

محکمہ ماحولیات پنجاب نے خبردار کیا ہے کہ بھارتی پنجاب میں فصلوں کی باقیات کے جلانے اور جنوبی پنجاب کے گرد آلود طوفانوں کے باعث لاہور اور اس کے گرد و نواح میں فضائی معیار مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

انسدادِ سموگ اقدامات میں تیزی — کسانوں کی آگاہی اور کارروائیاں جاری

محکمہ زراعت اور محکمہ ماحولیات کی مشترکہ ٹیموں نے صوبے بھر میں انسدادِ سموگ مہم تیز کر دی ہے۔ لاہور، ننکانہ صاحب، قصور، حافظ آباد اور شیخوپورہ میں فصلوں کی باقیات جلانے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

حکومتِ پنجاب کے مطابق، اس سال کسانوں کو چھ لاکھ سپرسیڈرز، جدید ہارویسٹرز، کبوٹا مشینیں اور بیلرز فراہم کیے گئے ہیں تاکہ فصل کی باقیات کو جلانے کے بجائے قابلِ استعمال صورت میں جمع کیا جا سکے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، چار لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی رقبہ سپرسیڈرز کے استعمال سے جلنے سے بچ گیا ہے۔

کسانوں میں آگاہی مہم — دیہات، مساجد اور کمیونٹی سطح پر اعلان

پنجاب حکومت کی ہدایت پر زرعی علاقوں میں منجی نہ جلانے کے لیے آگاہی مہم جاری ہے۔ دیہاتوں میں مساجد کے ذریعے اعلانات کیے جا رہے ہیں، جبکہ لمبرداروں، زمینداروں اور کسان نمائندوں کو عملی اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی جا رہی ہے۔

محکمہ ماحولیات کے ترجمان کے مطابق، “گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال انسدادِ سموگ مانیٹرنگ سسٹم مزید فعال اور مربوط ہے۔ عوام کو گھبرانے کی نہیں بلکہ تعاون کی ضرورت ہے۔”

سموگ گنز اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال — فوری ریلیف کے لیے عملی اقدامات

لاہور میں زیادہ آلودہ علاقوں کی نشاندہی کے بعد سموگ گنز (Smog Guns) کے ذریعے مصنوعی بارش نما اسپرے کیے جا رہے ہیں، تاکہ فضا میں موجود ذرات کو فوری طور پر نیچے بٹھایا جا سکے۔ محکمہ ماحولیات کے مطابق، یہ سسٹم شور مچانے کے بجائے ایک عارضی مگر مؤثر حل فراہم کر رہا ہے۔

پنجاب حکومت نے سموگ کے مستقل حل کے لیے جدید بایو مشینری، ماحول دوست ٹیکنالوجی اور زرعی فضلے کے متبادل استعمال کے منصوبے پر کام تیز کر دیا ہے۔

عوام کے لیے احتیاطی ہدایات

محکمہ موسمیات اور محکمہ ماحولیات نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ:

  • صبح اور شام کے اوقات میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

  • حساس افراد (بچوں، بزرگوں، دمے اور دل کے مریضوں) کو ماسک کا استعمال لازمی کرنا چاہیے۔

  • گھروں اور دفاتر میں ایئر پیوریفائر کا استعمال بڑھایا جائے۔

  • گاڑیوں کا غیر ضروری استعمال محدود کریں اور کار پولنگ کو فروغ دیں۔

آئندہ 48 گھنٹوں میں معمولی بہتری کا امکان

محکمہ ماحولیات کی رپورٹ کے مطابق، اگر آئندہ 48 گھنٹوں میں ہوا کی رفتار میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا تو فضا میں موجود آلودہ ذرات کے بکھراؤ سے سموگ کی شدت میں عارضی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ تاہم، مجموعی طور پر نومبر کے آغاز تک فضائی معیار غیر تسلی بخش (Unhealthy) رہنے کا امکان ہے۔


خلاصہ:
بھارتی پنجاب سے آنے والی آلودہ ہوائیں، کم ہوا کی رفتار، اور فصلوں کی باقیات جلانے کے واقعات نے لاہور اور گردونواح میں سموگ کی صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔ پنجاب حکومت اور ماحولیاتی اداروں نے انسدادِ سموگ اقدامات کو تیز کرتے ہوئے شہریوں سے تعاون کی اپیل کی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button