کالمزپیر مشتاق رضوی

فکر اقبال رح اور عصر حاضر……. پیر مشتاق رضوی

​ اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ ایک مسلمان کو اس کی پہچان کرانے کے لیے توحید، خودی، عشق، اور عمل کی تعلیم دیتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو اپنی اسلامی روایات اور اقدار کو مضبوط کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کا قومی تشخص کا فلسفہ اسلام کی تعلیمات اور مشرقی روایات پر مبنی ہے۔ انہوں نے قومی تشخص کو ایک ایسے تصور کے طور پر پیش کیا جو فرد کی خودی اور امت کی وحدت کو فروغ دیتا ہے۔
اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کے نزدیک، قومی تشخص کا مطلب ہے کہ ایک قوم اپنی مخصوص تہذیب، ثقافت، اور اقدار کے ساتھ اپنی تشخص برقرار رکھے اور اپنی آزادی اور خودمختاری کو حاصل کرے۔ انہوں نے اپنی شاعری اور نثر میں بارہا اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کو اپنی تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی اسلامی روایات اور اقدار کو مضبوط کرنا چاہیے۔اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کا فلسفہ قومی تشخص آج بھی پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں ایک اہم موضوع ہے۔
​فکر اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی اساس توحید، خودی، عشق، اور عمل ہے۔ اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اپنی شاعری اور فلسفیانہ تصانیف میں ان اصولوں پر زور دیا ہے۔
"بازو تیرا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے”
​ اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ ایک مسلمان کو اس کی پہچان کرانے کے لیے توحید، خودی، عشق، اور عمل کی تعلیم دیتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو اپنی اسلامی روایات اور اقدار کو مضبوط کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
​”قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان”
​حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کے نزدیک، ایک مسلمان کی پہچان اس کی ایمان، عمل، اور اخلاق سے ہوتی ہے۔ وہ مسلمانوں کو اپنی خودی کو مضبوط کرنے اور اپنی زندگی کو اسلام کی تعلیمات کے مطابق گزارنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کے نزدیک عشق اور عمل لازم و ملزوم ہیں۔
​”عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشق
عشق نہ ہو تو دلیل و برہان بے بنیاد ہے”
​عشق انسان کو عمل کی طرف راغب کرتا ہے اور عمل انسان کو عشق کی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔دوسری طرف، عمل انسان کو عشق کی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔ عمل انسان کو اپنی زندگی کو ایک مقصد کے لیے وقف کرنے کی ترغیب دیتا ہے اور عشق کو عملی جامہ پہناتا ہے۔ علامہاقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اپنی شاعری میں عشق اور عمل کے تعلق کو اس طرح بیان کیا ہے:
​”عشق کی اک آہ ہو جس دم مرے دل میں
عمل میرا عشق کی آہ سے شروع ہوتا ہے”
علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی فکر میں نوجوانوں کا کردار بہت اہم ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو اپنی خودی کو پہچاننے اور اپنی قدر و منزلت کو جاننے کی ترغیب دی ہے۔ آج کے دور میں، نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرکے اپنے ملک اور قوم کی ترقی میں حصہ لینا چاہیے۔
​”خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے”
​آج کے دور میں، علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی فکر ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ہم اپنی خودی کو پہچانیں، اپنی صلاحیتوں کو استعمال کریں، اور اپنے ملک اور قوم کی ترقی میں حصہ لیں۔
​”غلامی میں نہ کام آتی ہیں نہ شمشیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں”
​ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ فلسفہ مادیت سے انکار کرتے ہیں کیونکہ وہ اسے انسان کی روحانی اور اخلاقی ترقی کے خلاف سمجھتے ہیں۔ حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کے نزدیک، فلسفہ مادیت انسان کو صرف مادی خواہشات تک محدود کر دیتا ہے اور اس کی روحانی اور اخلاقی اقدار کو نظر انداز کرتا ہے۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کا ماننا ہے کہ انسان صرف ایک مادی وجود نہیں ہے، بلکہ اس کی ایک روحانی اور اخلاقی پہلو بھی ہے جو اسے مادی خواہشات سے بالاتر کرتی ہے۔ وہ انسان کو اپنی روحانی اور اخلاقی اقدار کو مضبوط کرنے کی ترغیب دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی زندگی کو ایک مقصد کے لیے وقف کر سکے۔
​”اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی ﷺ”
​وہ مادیت کو انسان کی فطرت کے خلاف سمجھتے ہیں اور اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کا فلسفہ خودی اور عشق پر مبنی ہے، جو انسان کو اپنی روحانی اور اخلاقی اقدار کو مضبوط کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ وہ انسان کو اپنی زندگی کو ایک مقصد کے لیے وقف کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور اسے اپنی روحانی اور اخلاقی ترقی کے لیے کام کرنے کی ہمت دیتے ہیں۔
​”سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا”
​علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کے نزدیک، مسلم دنیا کا رہبر، رہنما، اور قائد ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں مسلمانوں کو اپنی خودی، تشخص، اور مقصد کی طرف راغب کیا ہے اور انہیں دنیا کی قیادت کرنے کی ترغیب دی ہے۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کا ماننا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی تاریخ، تہذیب، اور اقدار کی بنیاد پر دنیا کی قیادت کرنی چاہیے۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی خودی کو مضبوط کرنے اور اپنی آزادی کے لیے لڑنے کی ہمت دی ہے۔
​”خودی ہے طوفِ فکر و نظر سے پیدا
خودی ہے تیرے بحر بیکراں کا ساحل”
​ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شاعری میں مسلمانوں کو دنیا کی قیادت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی صلاحیتوں پر یقین کرنے کی ترغیب دی ہے اور انہیں دنیا کی قیادت کرنے کی ہمت دی ہے۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شاعری آج بھی مسلمانوں کو دنیا کی قیادت کرنے کی ترغیب دیتی ہے اور انہیں اپنی خودی، تشخص، اور مقصد کی طرف راغب کرتی ہے۔
​”غرب کی تہذیب کا ہے یہ عجیب دھوکہ
کہ جس سے ہے انسان کی فطرت کی تباہی”
​آج کا پاکستانی علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شاعری سے روگرداں ہے
علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شاعری میں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام ہے، لیکن آج پاکستان میں فرقہ واریت اور سیاسی انتشار کا دور دورہ ہے، جس سے علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کے پیغام سے دوری پیدا ہوئی ہے۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شاعری میں خودی اور خود اعتمادی کا درس ہے، لیکن آج پاکستان میں غربت اور بے روزگاری کا مسئلہ بہت بڑا ہے، جس سے نوجوانوں کا علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شاعری سے دلچسپی کم ہو گئی ہے۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شاعری میں علم اور تعلیم کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے، لیکن آج پاکستان میں تعلیمی نظام کی خرابی کی وجہ سے نوجوانوں کو علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شاعری کا صحیح مفہوم نہیں سمجھایا جا رہا۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شاعری میں اسلامی اور پاکستانی اقدار کی ترجمانی ہے، لیکن آج پاکستان میں غیر ملکی افکار کا غلبہ ہے، جس سے نوجوانوں کا علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شاعری سے دلچسپی کم ہو گئی ہے۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شاعری کو اکثر نوجوان صرف اشعار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن اس کا صحیح مفہوم اور پیغام نہیں سمجھتے۔
​”گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا”
​ان وجوہات کی بنا پر آج کا پاکستانی علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شاعری سے روگرداں ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شاعری آج بھی نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے اور ان کا پیغام آج بھی زندہ ہے۔ پاکستانی نوجوان کو فکر اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ اور تعلیمات علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی طرف راغب اور رجوع کرنے کی بہت زیادہ ضرورت اور اہمیت ہے۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی فکر اور تعلیمات نوجوانوں کو اپنی خودی، تشخص، اور مقصد کی طرف راغب کرتی ہیں اور انہیں اپنی زندگی کو ایک مقصد کے لیے وقف کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔
​”اگر کرنی ہے جہانگیری محمد ﷺ کی غلامی کر
عرب کا تاج سر پر رکھ، خداوند عجم ہو جا”
​علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی فکر اور تعلیمات نوجوانوں کو اپنی تاریخ، تہذیب، اور اقدار کی بنیاد پر اپنی زندگی کو استوار کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ وہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں پر یقین کرنے کی ترغیب دیتی ہیں اور انہیں اپنی زندگی کو ایک مقصد کے لیے وقف کرنے کی ہمت دیتی ہیں۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی فکر اور تعلیمات نوجوانوں کو اپنی خودی کو مضبوط کرنے اور اپنی آزادی کے لیے لڑنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ وہ نوجوانوں کو اپنی تاریخ، تہذیب، اور اقدار کی بنیاد پر اپنی زندگی کو استوار کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی فکر اور تعلیمات نوجوانوں کو اپنی زندگی کو ایک مقصد کے لیے وقف کرنے کی ترغیب دیتی ہیں اور انہیں اپنی صلاحیتوں پر یقین کرنے کی ہمت دیتی ہیں۔ وہ نوجوانوں کو اپنی خودی کو مضبوط کرنے اور اپنی آزادی کے لیے لڑنے کی ترغیب دیتی ہیں۔
​پاکستانی نوجوان کو اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی فکر اور تعلیمات کی طرف راغب اور رجوع کرنے کی بہت زیادہ ضرورت اور اہمیت ہے۔ فکر قبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کے ذریعے نشاۀ الثانیہ کا دوبارہ احیاء ممکن ہے۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی فکر اور تعلیمات میں اسلامی تہذیب اور اقدار کی بنیاد پر ایک نئی زندگی اور نشاۀ الثانیہ کا پیغام ہے۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی فکر میں اسلامی تہذیب کی بنیاد پر ایک نئی زندگی اور نشاۀ الثانیہ کا پیغام ہے۔ وہ مسلمانوں کو اپنی تاریخ، تہذیب، اور اقدار کی بنیاد پر اپنی زندگی کو استوار کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ فکراقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کے ذریعے نشاۀ الثانیہ کا دوبارہ احیاء ممکن ہے۔ اسی لیے عصر حاضر میں اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ سے رہنمائی کی ضرورت و اہمیت مسلمہ حقیقت ہے۔
​”ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر”

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button