پاکستاناہم خبریں

اقوام متحدہ میں پاکستان کا دو ٹوک مؤقف — “یوکرین تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں، مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے”

سال کے آغاز میں یو این ایس سی آر 2774 کی منظوری کے بعد جو سفارتی رفتار پیدا ہوئی تھی، وہ زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوسکتی تھی اگر یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی جاتی۔

نیویارک/اقوام متحدہ: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یوکرین کی سنگین صورتحال پر اپنا قومی بیان دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یوکرین تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں اور برسوں سے جاری جنگ نے اس حقیقت کو ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے۔ پاکستان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں کمی کے لیے بامعنی اقدامات کریں اور بات چیت کے ذریعے دیرپا جنگ بندی کی طرف سنجیدگی سے بڑھیں۔

یوکرین کی صورتحال پر بحث کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگ نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں تباہ کر دی ہیں اور عالمی امن و استحکام کیلئے مسلسل خطرات پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ سال کے آغاز میں یو این ایس سی آر 2774 کی منظوری کے بعد جو سفارتی رفتار پیدا ہوئی تھی، وہ زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوسکتی تھی اگر یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی جاتی۔


“ترکی اور قطر کی ثالثی قابلِ تحسین ہے، امن کیلئے ہر کوشش کی حمایت کریں گے”

سفیر عاصم افتخار نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان ترکی اور قطر کی جانب سے جاری ثالثی اور امن کی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا حل جس پر تمام فریق متفق ہوں، نہ صرف بندوقوں کو خاموش کر سکتا ہے بلکہ خطے میں دیرپا امن کا راستہ بھی ہموار کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین تنازع کے پیچیدہ تاریخی تناظر اور اس کی حساس نوعیت کے پیش نظر، دانشمندی کا تقاضا ہے کہ فریقین دشمنی اور محاذ آرائی کے بجائے بات چیت اور مذاکرات کو ترجیح دیں۔


“مذاکراتی عمل ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے” — پاکستان

پاکستانی سفیر نے زور دیا کہ تمام فریق سیاسی عزم کا مظاہرہ کریں اور بامعنی، منظم اور نتیجہ خیز مذاکرات کا حصہ بنیں جو تمام فریقوں کے سیکیورٹی خدشات کو ایڈریس کریں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امن عمل کو:

  • اقوام متحدہ کے چارٹر

  • بین الاقوامی قانون

  • اور متعلقہ کثیر جہتی معاہدوں

کے اصولوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ بندی اس سمت میں پہلا منطقی اور ناگزیر قدم ہے۔


شہریوں اور سول انفراسٹرکچر کی حفاظت کو اولین ترجیح قرار دیا

اپنے خطاب میں پاکستانی مندوب نے یوکرین میں انسانی جانوں کے ضیاع، شہریوں کو نشانہ بنانے اور سول انفراسٹرکچر کی تباہی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ نے انسانی المیے کو جنم دیا ہے اور اس کے اثرات پھیلتے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا:
“شہریوں کی زندگیوں اور بنیادی ڈھانچے کا تحفظ سب سے اہم ہونا چاہیے۔ ہم بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کے احترام کا اعادہ کرتے ہیں۔”


“پاکستان سفارت کاری کی طاقت پر مکمل یقین رکھتا ہے”

سفیر عاصم افتخار نے زور دیا کہ پاکستان بات چیت اور سفارت کاری کی طاقت پر مکمل یقین رکھتا ہے اور یوکرین تنازع کے پرامن، منصفانہ، جامع اور پائیدار حل کیلئے ہر بین الاقوامی کوشش کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ دشمنی میں اضافہ اور انسانی نقصانات میں تیزی عالمی ضمیر کیلئے لمحۂ فکریہ ہے۔


پاکستان کے اس مؤقف نے ایک بار پھر عالمی فورمز پر یہ واضح کر دیا ہے کہ اسلام آباد امن، سفارت کاری اور عالمی قانون کی بالادستی کے اصولوں پر قائم ہے، اور وہ ہر ایسے عمل کی حمایت کرے گا جس سے یوکرین سمیت دنیا بھر میں جاری تنازعات میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہو۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button