Jannah Theme License is not validated, Go to the theme options page to validate the license, You need a single license for each domain name.
پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

خیبر پختونخوا میں مبینہ منشیات کی بڑی کاشت کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ، کارروائی اور تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

اختیار ولی کی پریس کانفرنس: خیبر پختونخوا میں مبینہ منشیات کی بڑے پیمانے پر کاشت اور اسمگلنگ پر کارروائی کا مطالبہ

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

پاکستان میں منشیات کی اسمگلنگ اور کاشت سے متعلق سنگین الزامات نے سیاسی اور عوامی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما اختیار ولی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران خیبر پختونخوا حکومت اور متعلقہ حکام سے فوری کارروائی کرنے کی اپیل کی، ساتھ ہی متعدد اہم دعوے بھی سامنے رکھے۔

“پاکستان بھر اور سرحد پار منشیات اسمگل ہو رہی ہیں” — اختیار ولی کا دعویٰ

اختیار ولی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ملک بھر اور پڑوسی ممالک تک منشیات بڑی مقدار میں اسمگل کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق:

  • انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے خصوصی طور پر درخواست کی تھی کہ
    “چونکہ وہ اسی ضلع سے تعلق رکھتے ہیں اور تیراہ ویلی بھی کے پی کے دائرے میں آتی ہے، اس لیے منشیات کے اس نیٹ ورک کے خلاف مؤثر کارروائی انہی کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔”

ان کے بقول، اگر صوبائی حکومت اس مبینہ کاروبار کو روکنے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ:

  • نوجوانوں کے تحفظ

  • عوامی مفاد

  • اور صوبے کے مستقبل

کے لیے ان کی “سنجیدگی کی مضبوط علامت” ہوگی۔

صوبائی وزیر شفی جان کی تردید اور اختیار ولی کا ردِ عمل

اختیار ولی نے بتایا کہ صوبائی وزیر شفی جان نے ایک ٹی وی ٹاک شو پر اس دعوے کی مکمل تردید کی اور کہا: “ایسا کوئی کاروبار موجود نہیں ہے۔”

اختیار ولی کے مطابق، انہوں نے اینکر سے کہا کہ:

“ایسا کوئی کاروبار موجود نہیں ہے۔”مائیک اور کیمرہ لے کر علاقے میں جائیں خود دیکھیں کہ کیا واقعی 3,500 ایکڑ پر منشیات کی کاشت نہیں ہو رہی؟مقامی لوگوں کی ویڈیوز میں جن افراد کا ذکر ہے، ان کا بھی جائزہ لیا جائے

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ویڈیوز میں کچھ مقامی لوگ زمین کے مالکان کے بارے میں بھی بات کرتے ہیں۔

“آزاد تحقیقات کروائی جائیں” — میڈیا، اداروں اور تھرڈ پارٹی انسپکٹرز کا مطالبہ

اختیار ولی نے مطالبہ کیا کہ: صحافیوں، اینکرز، ریاستی اداروں اور تھرڈ پارٹی انسپکٹرز کو سامنے لایا جائے تاکہ سچ عوام کے سامنے آئے۔ اس سے پہلے نہ علی امین اور نہ محمود خان اسے روک سکے کیونکہ مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے ارکان، پارلیمنٹیرینز، وزراء اور بااثر افراد اس میں شامل ہیں اور سب حصہ وصول کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ:

“پہلے نہ علی امین گنڈاپور اور نہ محمود خان اس کاروبار کو روک سکے، کیونکہ مبینہ طور پر سیاسی لوگ، ارکان اسمبلی، وزراء اور بااثر حلقے اس میں فائدہ اٹھاتے رہے۔”

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ الزامات صرف مؤقف کی صورت میں پیش کیے جا رہے ہیں—انہیں ثابت کرنے کے لیے آزاد تحقیقات ضروری ہیں۔

“منشیات کی کمائی سے ریاست مخالف سرگرمیوں کی مالی معاونت ہوتی ہے” — سنگین دعویٰ

اختیار ولی نے دعویٰ کیا کہ: منشیات کی اس کمائی سے ریاست مخالف حملوں اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی جاتی ہے۔ یہی رقم سرحد پار دہشت گردوں اور عام لوگوں تک پہنچا کر بارودی مواد خریدنے میں استعمال ہوتی ہے۔

یہ انتہائی سنگین الزامات ہیں جن کی تصدیق کسی آزاد تحقیقاتی رپورٹ سے تاحال نہیں ہوئی۔

وزیراعلیٰ کے پی کے سے استعفے کا مطالبہ

اپنے خطاب میں اختیار ولی نے کہا کہ:

  • اخلاقی طور پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو مستعفی ہونا چاہیے

  • جو وزیر اس مطالبے کی مخالفت کرتا ہے وہ بھی “اپنی پوزیشن کھو بیٹھتا ہے” اور اسے بھی عہدہ چھوڑ دینا چاہیے

انہوں نے زور دیا کہ:

“تمام سیکیورٹی ادارے یہ دیکھیں کہ آیا یہ مبینہ فنڈز صرف صوبے تک محدود ہیں یا کہیں اور بھی منتقل ہوتے ہیں۔”

انہوں نے بغیر کسی براہِ راست الزام کے یہ سوال بھی اٹھایا کہ:

  • کیا یہ فنڈز “بنی گالہ تک” بھی پہنچتے ہیں؟

  • یا یہ محض افواہیں ہیں؟

اس پر بھی آزادانہ تحقیق کا مطالبہ کیا گیا۔


اختتام: معاملہ تحقیقات کا متقاضی

اختیار ولی کی پریس کانفرنس کے بعد یہ موضوع سیاسی حلقوں اور میڈیا میں زیر بحث ہے۔

فی الحال:

  • حکومت کے پی کی تردید موجود ہے

  • اختیار ولی کے سنگین دعوے سامنے آ چکے ہیں

  • عوام اور مبصرین شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں

اس معاملے میں کسی حتمی مؤقف یا فیصلے کے لیے آزاد، غیر جانبدار اور جامع تحقیق کی ضرورت ہے۔

"سید عاطف ندیم کا شمار اُن باصلاحیت پاکستانی صحافیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے بین الاقوامی میڈیا میں پاکستان کی مثبت نمائندگی کی ہے۔ وہ اس وقت معروف جرمن میڈیا ادارے ’وائس آف جرمنی‘ سے بطور نمائندہ وابستہ ہیں اور پاکستان کے حوالے سے خبریں، تجزیے اور فیچرز عالمی سامعین تک پہنچا رہے ہیں۔”

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button