
شیخ زید میڈیکل کالج و اسپتال میں ورلڈ ایڈز ڈے سیمینار کا انعقاد، ایچ آئی وی/ایڈز کے بارے میں آگاہی بڑھانے کی کوشش
اس پروگرام کا انعقاد پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام (PACP) کے تعاون سے کیا گیا
قاسم بخاری.پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
رحیم یار خان: شیخ زید میڈیکل کالج و اسپتال، رحیم یار خان میں ورلڈ ایڈز ڈے کے موقع پر ایک کامیاب آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس سیمینار کا مقصد ایچ آئی وی/ایڈز سے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنا، اس بیماری سے منسلک سماجی بدنامی (اسٹگما) کا خاتمہ کرنا اور اسکریننگ و مشاورت کی اہمیت کو اُجاگر کرنا تھا۔ اس پروگرام کا انعقاد پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام (PACP) کے تعاون سے کیا گیا، جس میں شہر کے مختلف شعبہ جات کے ماہرین اور کمیونٹی کے افراد نے شرکت کی۔
سیمینار کی اہم شخصیات اور شرکاء:
سیمینار کی قیادت میں ظہیر انور جپہ، ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان، نے چیف گیسٹ کے طور پر شرکت کی۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر سمیرا اشرف، پروجیکٹ ڈائریکٹر پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام (PACP) لاہور، اظہر حسین، آپریشنل مینیجر PACP، اور ڈاکٹر لیاقت چوہان، ڈی ایچ او رحیم یار خان بھی اس موقع پر موجود تھے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم، پرنسپل شیخ زید میڈیکل کالج، اور ڈاکٹر فیصل وحید، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ شیخ زید ہسپتال نے سیمینار کی میزبانی کی۔ سیمینار کے آرگنائزر پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفی، کنوینیر ڈسٹرکٹ ایڈز سرویلینس کمیٹی نے استقبالیہ پیش کیا اور ایچ آئی وی/ایڈز کے حوالے سے سیمینار کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔
سیمینار کے اہم موضوعات:
سیمینار میں ایچ آئی وی/ایڈز کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں سب سے اہم موضوعات شامل تھے:
ایچ آئی وی اسکریننگ اور نوٹیفکیشن کے مسائل
کاؤنسلنگ سے متعلق چیلنجز
ایچ آئی وی/ایڈز سے متعلق سماجی بدنامی کا خاتمہ
ڈپٹی کمشنر ظہیر انور جپہ کا خطاب:
ڈپٹی کمشنر ظہیر انور جپہ نے اپنے خطاب میں ایچ آئی وی/ایڈز کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے اور اس بیماری سے جڑی غلط فہمیوں کا خاتمہ کرنے کے لیے مؤثر اشتہاری مہم چلانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ایڈز کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اس مرض کو سمجھ سکیں اور اس کے مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اپنائیں۔
پروفیسر محمد سلیم کا خطاب:
پروفیسر محمد سلیم، پرنسپل شیخ زید میڈیکل کالج نے کہا کہ اس سیمینار کا مقصد نہ صرف ایچ آئی وی/ایڈز سے آگاہی پھیلانا ہے، بلکہ اس کے مریضوں کے ساتھ سماجی رویوں میں تبدیلی لانا بھی ہے۔ انہوں نے مختلف محکموں کے باہمی تعاون کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ اس بیماری کے خلاف جنگ میں تمام اداروں کا تعاون ضروری ہے۔
ایچ آئی وی/ایڈز کے حوالے سے عوامی آگاہی:
سیمینار کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایچ آئی وی/ایڈز کے مریضوں کے ساتھ سماجی بدنامی کا خاتمہ کرنا بہت ضروری ہے۔ اس سیمینار میں شریک ماہرین نے بتایا کہ اس بیماری کے مریضوں کو نہ صرف علاج کی ضرورت ہے، بلکہ انہیں معاشرتی سطح پر بھی مکمل سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ ایچ آئی وی/ایڈز کی اسکریننگ اور کاؤنسلنگ کی اہمیت کو اجاگر کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ اس بیماری کا پھیلاؤ کم کیا جا سکے۔
پھاٹا اور PACP کی کاوشیں:
پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام (PACP) اور پہاڑاں (PHAATA) جیسے ادارے اس سیمینار کے ذریعے ایچ آئی وی/ایڈز کے بارے میں آگاہی پھیلانے اور لوگوں میں شعور پیدا کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ ان اداروں نے سیمینار میں شرکت کرنے والے افراد کو ایچ آئی وی/ایڈز کے حوالے سے معلومات فراہم کی اور اس بات پر زور دیا کہ اس مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
سیمینار کا اختتام:
سیمینار کے اختتام پر شرکاء نے عہد کیا کہ ایچ آئی وی/ایڈز کے خاتمے کے لیے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر کام کرنا ہوگا۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ آگاہی مہمات کو مسلسل جاری رکھا جائے گا تاکہ اس بیماری کے بارے میں درست معلومات عوام تک پہنچائی جا سکیں اور اس کے مریضوں کے ساتھ انسانی ہمدردی کے ساتھ پیش آیا جا سکے۔
اس سیمینار کا انعقاد اس بات کا غماز ہے کہ ایچ آئی وی/ایڈز کے خلاف آگاہی پھیلانے اور اس سے جڑی غلط فہمیوں کا خاتمہ کرنے کے لیے حکومت، صحت کے ادارے اور کمیونٹی سب مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ پاکستان میں ایچ آئی وی/ایڈز کی روک تھام ممکن ہو سکے۔







