
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز اے پی کے ساتھ
پاکستان میں 2025ء گزشتہ ایک دہائی کے دوران سب سے خونریز سال ثابت ہوا، جہاں دہشت گردی کے واقعات میں ہونے والی ہلاکتوں میں 74 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ان مجموعی اموات میں نصف سے زائد حصہ عسکریت پسندوں کا تھا۔
پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم ایک غیر سرکاری تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کے مطابق ملک میں 2025ء میں تشدد کے نتیجے میں 3,413 افراد ہلاک ہوئے، جو 2024 میں 1,950 رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 2,138 عسکریت پسند بھی شامل تھے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024 کے مقابلے میں عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں میں 124 فیصد اضافہ بالخصوص تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف تیز تر انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔ ٹی ٹی پی افغانستان کیطالبان حکومت کا حصہ نہیں، تاہم حالیہ برسوں میں اس نے پاکستان کی سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ کیا ہے۔
پی آئی سی ایس ایس کے مینیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ خان کے مطابق ہلاکتوں میں اس اضافے کی ایک بڑی وجہ خودکش حملوں میں اضافہ اور وہ امریکی فوجی ساز و سامان بھی ہے، جو 2021ء میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد شدت پسند گروہوں کے ہاتھ لگا، جس سے ان کی عملی جنگی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق 2025ء میں 667 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 26 فیصد اور 2011 ء کے بعد سے سب سے زیادہ سالانہ تعداد ہے۔ اسی طرح 580 شہری بھی ہلاک ہوئے، جو 2015 کے بعد شہریوں کی ہلاکتوں کی سب سے زیادہ سالانہ تعداد ہے، جبکہ اسی عرصے کے دوران حکومت نواز امن کمیٹیوں کے 28 ارکان بھی ہلاک ہو گئے۔
پی آئی سی ایس ایس کے مطابق 2025 میں عسکریت پسندوں کے کم از کم 1,066 حملے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ خودکش حملوں میں 53 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے انٹیلیجنس کی بنیادوں پر کارروائیوں کے دوران تقریباً 500 عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا، جو 2024 میں 272 بنتے تھے، جبکہ بیشتر حملوں کی ذمہ داری مختلف عسکریت پسند گروہوں، بشمول ٹی ٹی پی، نے قبول کی۔

یہ رپورٹ اس بیان کے چند ہفتے بعد سامنے آئی ہے جس میں ملکی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ 2025 میں سکیورٹی فورسز نے 67,023 انٹیلیجنس بنیادوں پر آپریشن کیے، جن میں 1,873 عسکریت پسند ہلاک ہوئے، جن میں 136 افغان شہری بھی شامل تھے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی 9 اکتوبر کو کابل میں ہونے والے دھماکوں کے بعد بڑھی، جن کا الزام افغان طالبان کی حکومت نے پاکستان پر عائد کیا۔ قطر کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی بڑی حد تک برقرار ہے، تاہم نومبر میں استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے تین ادوار کے باوجود دونوں فریق کسی معاہدے پر نہ پہنچ سکے۔
دسمبر میں پاکستان کے نئے مقرر کردہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے افغان طالبان کی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اسلام آباد کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے یا پاکستانی طالبان کی حمایت میں سے ایک کا انتخاب کر لے۔


