
مدثر احمد-امریکہ،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
امریکہ نے پاکستان کے ایف-16 لڑاکا طیاروں کے لیے جدید ٹیکنالوجی، اپ گریڈیشن اور معاون دفاعی ساز و سامان کی فروخت کی منظوری دے دی ہے، جس کی مجموعی مالیت 68 کروڑ 60 لاکھ (686 ملین) ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ اس فیصلے کی تصدیق امریکی دفاعی سلامتی تعاون ایجنسی (DSCA) نے کانگریس کو بھیجے گئے اپنے اعلامیے میں کی ہے۔
مواصلاتی اور دفاعی نظام کی اپ گریڈیشن
امریکہ کے نمائندہ کے مطابق، آٹھ دسمبر کو جاری کیے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ایف-16 بیڑے کے لیے جدید Link-16 مواصلاتی/ڈیٹا شیئرنگ نیٹ ورکس کے 92 سسٹمز اور چھ MK-82 انیرٹ 500 پاؤنڈ عمومی مقصد کے بم خریدنے کی درخواست کی تھی۔
یہ Link-16 سسٹم پاکستان کے ایف-16 طیاروں کو نہ صرف امریکی فضائیہ کے ساتھ بہتر رابطہ فراہم کرے گا بلکہ انسدادِ دہشت گردی کے مشترکہ آپریشنز میں ڈیٹا شیئرنگ اور حقیقی وقت میں معلومات تک رسائی کو بھی مضبوط کرے گا۔
اضافی ساز و سامان اور تکنیکی سپورٹ بھی شامل
خط کے مطابق مجوزہ فروخت میں طیاروں کے مختلف پرزے، نئے سافٹ ویئر اپ گریڈز، نیویگیشن کے جدید نظام، معلومات کو خفیہ رکھنے والے آلات، ہتھیاروں کی نصب کاری سے متعلق ٹیکنالوجی، ٹیسٹنگ سسٹمز، اور مرمت و دیکھ بھال کے آلات بھی شامل ہیں۔
یہ تمام سامان پاکستان کے ایف-16 بیڑے کو جدید تقاضوں کے مطابق برقرار رکھنے میں مدد دے گا۔
امریکی خارجہ پالیسی اور علاقائی تعاون کا حصہ
DSCA کی جانب سے کانگریس کو بھیجے گئے خط میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ فروخت امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اہداف کو تقویت دے گی۔
خط میں کہا گیا:
"یہ مجوزہ فروخت پاکستان کو موجودہ اور مستقبل کے انسداد دہشت گردی آپریشنز میں امریکی اور اتحادی فورسز کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھنے میں مدد دے گی۔”
پاکستان کے ایف-16 بیڑے کی جدیدکاری
فروخت میں شامل اپ گریڈز خاص طور پر بلاک 52 اور مڈ لائف اپ گریڈ (MLU) ایف-16 طیاروں کے لیے ہیں۔
ان اپ گریڈز کے ذریعے پاکستان فضائیہ کو 2040 تک ایف-16 طیاروں کی آپریشنل زندگی اور استعداد برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ ساتھ ہی یہ اپ گریڈز پاکستان اور امریکہ کے درمیان مشترکہ جنگی مشقوں اور تربیتی پروگراموں میں مزید ہم آہنگی پیدا کریں گے۔
پاکستان کے دفاعی عزم اور علاقائی توازن
خط میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے اپنی فضائی صلاحیت کو برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
ایجنسی کے مطابق:
"ان ساز و سامان کی فروخت سے خطے میں بنیادی فوجی توازن تبدیل نہیں ہوگا۔”
پاکستان–امریکہ تعلقات میں تازہ پیش رفت
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل آصف منیر سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مضبوط کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ایف-16 بیڑے کی اپ گریڈیشن کو دوطرفہ دفاعی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
برآمد کی باضابطہ منظوری
امریکی حکام کے مطابق، تمام ساز و سامان کی پاکستان کو فراہمی اور اس کی برآمد کی باضابطہ اجازت بھی جاری کر دی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف پاکستان کے فضائی دفاع کو مضبوط کرے گا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اعتماد کو بھی بحال کرے گا، جو گزشتہ چند سالوں میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہا تھا۔



