
ٹرمپ کی دھمکیاں، ایرانی مظاہرین کے لیے مددگار ہیں یا مصیبت؟
یہی بیانات حکومت کی جانب سے جبر کو جواز فراہم کرنے اور مزید سخت کرنے کے لیے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں
مدثر احمد – امریکا-وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
مغربی خاموشی کی قیمت کیا ہے؟
برطانیہ کی یونیورسٹی آف سسیکس میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر کامران متین کا کہنا ہے کہ 2009 کی سبز تحریک (گرین موومنٹ) کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے حمایت نہ ملنے کی وجہ سے اسلامی جمہوریہ ایران مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں مزید دلیر ہو گئی۔ان کے مطابق، "ٹرمپ کی جانب سے حکومت کے خلاف کارروائی کی دھمکی، خاص طور پر وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کے معاملے کے بعد، مظاہرین کے حوصلے بلند کر سکتی ہے اور حکومت کے لیے طاقت کے استعمال کا اعتماد کم کر سکتی ہے۔”ایران میں سبز تحریک 2009 کے متنازع صدارتی انتخابات کے بعد ابھری تھی۔ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس وقت کے صدر محمود احمدی نژاد نے واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی جبکہ اپوزیشن نے بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی کا الزام لگایا تھا۔احمدی نژاد کے مدمقابل امیدوار میر حسین موسوی کی حمایت میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران سبز رنگ کو بطور علامت استعمال کیا تھا۔تاہم اس تحریک کو تب کے امریکی صدر بارک اوباما کے دور میں امریکہ سمیت مغربی حکومتوں کی جانب سے کوئی مضبوط سیاسی حمایت حاصل نہ ہو سکی۔ مظاہرین نے اوباما کے نام کے نعرے لگائے اور امریکی مدد کی اپیلیں ہوئیں، تاہم اس کے باوجود واشنگٹن نے کھلی مداخلت سے گریز کیا۔بعد ازاں سبز تحریک کے خلاف ہونے والے کریک ڈاؤن کے دوران ہزاروں حکومتی مخالفین کو گرفتار کیا گیا، درجنوں مظاہرین مارے گئے اور تب سے حکومت کا سیاسی جبر جاری ہے۔

ٹرمپ کی دھمکی پر ایرانی اپوزیشن منقسم
ٹرمپ کے بیانات پر ایران کے اندر اور جلاوطنی میں مقیم ایرانیوں کے ردِعمل میں واضح نظریاتی تقسیم نظر آتی ہے۔ دائیں بازو کی اپوزیشن، خصوصاً بادشاہت کے حامی اور بعض نسلی گروہ، ان بیانات کا نسبتاً خیرمقدم کر رہے ہیں۔تاہم اس کے برعکس اپوزیشن کے دیگر حلقے شکوک و شبہات کا شکار ہیں اور کچھ نمایاں شخصیات نے تو خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ایرانی نژاد جرمن سیاست دان اور ایوارڈ یافتہ انسانی حقوق کے کارکن بہروز اسدی کا کہنا ہے کہ عالمی حمایت "بغیر کسی شرط، بغیر انحصار اور ایران کے قومی مفادات میں مداخلت کے بغیر” دی جانی چاہیے۔وہ کہتے ہیں، "اگر ایسی حمایت بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق پرامن اجتماع کے حق کا دفاع کرتی ہے تو اس کا خیرمقدم کیا جا سکتا ہے۔”تاہم وہ فوجی کارروائی کے سخت مخالف ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "ہم جنگ اور فوجی حملوں کے سخت خلاف ہیں۔ کوئی بھی جنگ کبھی جمہوریت نہیں لائی۔”
’امریکہ کا غیر یقینی رویہ نقصان دہ ہے‘
سیاسی تجزیہ کار عبدالرضا احمدی اس معاملے کو مثبت انداز میں دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ کے پیغام نے "ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے” اور مظاہرین کو براہِ راست بین الاقوامی حمایت کا احساس دلایا ہے۔احمدی کا کہنا ہے، "پیغام کے منظر عام پر آنے کے بعد مظاہروں میں وسعت آئی۔ یہ دھمکی قانونی اور سیاسی سطح پر ایک اشارہ ہے، اور یورپی یونین بھی غیر جانبدار نہیں رہ سکتی۔”اس کے برعکس ایرانی سیاسی کارکن اور نوبل امن انعام یافتہ نرگس محمدی کے شوہر تقی رحمانی کہتے ہیں کہ ٹرمپ کا طرزِ عمل دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والے بین الاقوامی قانونی اور اخلاقی نظام کو کمزور کرتا ہے۔رحمانی کا کہنا ہے، "ایک عالمی نظام موجود ہے جس میں اقوام متحدہ قانون کے ذریعے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے نمٹتا ہے۔”انہوں نے مزید کہا، "ٹرمپ کا پیغام یہ تاثر دیتا ہے کہ دنیا کی سب سے طاقتور ریاست اپنی مرضی سے اکیلے کارروائی کر سکتی ہے، جو آج کے قانونی اور اخلاقی فریم ورک میں قابلِ قبول نہیں ہے۔”

انہوں نے وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کے معاملے میں امریکی کردار کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ کی ساکھ پر بھی سوال اٹھایا اور کہا، "ٹرمپ نے وینزویلا کے معاملے پر بھی متضاد بیانات دیے ہیں۔ یہی تبدیلیاں امریکی مداخلت کو غیر متوقع اور ممکنہ طور پر نقصان دہ بھی بنا دیتی ہیں”
ایرانی حکام کا ردِعمل
تہران نے ٹرمپ کی دھمکیوں کی سخت مذمت کی ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے انہیں "غیر ذمہ دار اور خطرناک” قرار دیتے ہوئے امریکہ پر ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام لگایا ہے۔ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی عہدیداروں کے بیانات نے "بدامنی کے پیچھے موجود اصل قوتوں” کو بے نقاب کر دیا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی مداخلت عدم استحکام کو جنم دے گی اور کہا، "ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا مطلب خطے میں انتشار اور امریکی مفادات کو نقصان ہو گا۔”انہوں نے امریکیوں کو "اپنے فوجیوں کا خیال رکھنے” کا مشورہ دیتے ہوئے ٹرمپ پر ملک کو خطرناک مہم جوئی کی طرف دھکیلنے کا الزام بھی عائد کیا۔سپریم لیڈر کے مشیر علی شمخانی نے بھی سخت ردِعمل دیا۔ انہوں نے عراق، افغانستان اور غزہ میں امریکی فوجی مداخلت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام ان تجربات سے بخوبی واقف ہیں۔انہوں نے کہا، "کوئی بھی ہاتھ جو کسی بھی بہانے ایران کی سلامتی کی طرف بڑھے گا، اسے کاٹ دیا جائے گا۔”ایران نے اقوام متحدہ میں بھی باضابطہ طور پر اس معاملے کو اٹھایا ہے اور ٹرمپ کے بیانات کو غیر ذمہ دارانہ اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔



