
پاکستانی سرحدوں کی بندش کے باوجود افغان تجارت مستحکم رہی
وزارتِ تجارت کے مطابق 2025ء میں کُل تجارت یعنی برآمدات اور درآمدات کی مشترکہ مالیت سن 2024ء کے مقابلے میں بڑھ کر تقریباً 13.9 ارب ڈالر ہو گئی

گزشتہ برس بھی بھارت، پاکستان اور کئی وسطی ایشیائی ممالک افغانستان کی برآمدات کے سب سے بڑے مقامات میں شامل رہے۔ افغانستان نے زیادہ تر خشک میوہ جات، کوئلہ، قالین، زعفران اور زرعی اشیاء برآمد کیں۔
درآمدات میں تیل، مشینری، بنیادی خوراک اور صنعتی خام مال سرفہرست رہے، جو بنیادی طور پر ایران، متحدہ عرب امارات، چین اور علاقائی پڑوسیوں سے آئے۔

افغانستان سرحدی بندشوں کے بعد پاکستان پر انحصار کم کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان سمندر تک رسائی کا سب سے تیز راستہ ہے لیکن افغان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے باوجود تجارتی راستوں میں تنوع نے ملکی معیشت کو جاری رکھنے کے قابل بنایا ہے۔پاکستانی طالبان کے پے در پے حملوں کے بعد اسلام آباد حکومت نے گزشتہ برس اکتوبر میں افغانستان کے ساتھ اپنی تمام سرحد تجارت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان کا الزام ہے کہ حملہ آوروں کی پناہ گاہیں افغانستان میں موجود ہے، جبکہ طالبان کی کابل حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفارتی بحران اور سرحد کی بندش علاقائی تجارت کو ایک نئی شکل دے رہی ہے، جبکہ بھارت اس تنازعے کا فائدہ اٹھا کر کابل کے ساتھ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کو مضبوط کر رہا ہے۔تاہم دونوں ملکوں کی حکومتوں کی جانب سے تاحال کوئی واضح اشارہ نہیں دیا گیا کہ پاک افغان بارڈر کب اور کن شرائط پر دوبارہ کھولا جائے گا۔ جنوبی ایشیا کے ان دو پڑوسی ممالک کے درمیان نوآبادیاتی دور کی یہ سرحد تقریبا 2,600 کلومیٹر سے زائد طویل ہے، جو دشوار گزار پہاڑی سلسلوں پر محیط ہے۔ ڈیورنڈ لائن کے نام سے مشہور اس سرحد کے دونوں اطراف بسنے والے لوگوں کے درمیان گہرے ثقافتی، معاشی اور خاندانی روابط موجود ہیں۔



