مشرق وسطیٰتازہ ترین

پاکستانی سرحدوں کی بندش کے باوجود افغان تجارت مستحکم رہی

وزارتِ تجارت کے مطابق 2025ء میں کُل تجارت یعنی برآمدات اور درآمدات کی مشترکہ مالیت سن 2024ء کے مقابلے میں بڑھ کر تقریباً 13.9 ارب ڈالر ہو گئی

امتیاز احمد روئٹرز اور ڈی پی اے کے ساتھ

پاکستان کے ساتھ اہم سرحدی گزرگاہوں کی بار بار بندش کے باوجود افغانستان کی تجارت 2025ء میں مستحکم رہی۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان تاجروں نے ایران اور وسطی ایشیا کے ذریعے متبادل راستوں پر تیزی سے انحصار کیا۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق گزشتہ برس افغانستان کی تجارت مستحکم رہی، جبکہ افغان برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان نے ایران اور وسطی ایشیا کے ذریعے متبادل راستوں پر انحصار کیا۔یہ استحکام ایک ایسے وقت میں برقرار رہا، جب اسلام آباد حکومت کے ساتھ کشیدگی نے افغانستان اور پاکستان کے مابین قائم شدہ ٹرانزٹ راہداریوں کو متاثر کیا، جو سمندر سے محروم افغانستان کے لیے بندرگاہوں تک رسائی کا بنیادی راستہ رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق افغان تاجروں نے پاکستان کے بجائے ایران کی چابہار بندرگاہ کے ذریعے سامان کی نقل و حمل کو ممکن بنانے کے ساتھ ساتھ ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان کے راستے زمینی راستوں سے ترسیل کو بڑھایا، جس سے تاخیر اور سیاسی عدم استحکام کے اثرات کو کم کیا گیا۔افغان وزارتِ تجارت کے مطابق 2025ء میں کُل تجارت یعنی برآمدات اور درآمدات کی مشترکہ مالیت سن 2024ء کے مقابلے میں بڑھ کر تقریباً 13.9 ارب ڈالر ہو گئی۔ برآمدات تقریباً 1.8 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے برابر ہیں، جبکہ درآمدات 12.1 ارب ڈالر سے کچھ زیادہ ہو گئیں۔

گزشتہ برس بھی بھارت، پاکستان اور کئی وسطی ایشیائی ممالک افغانستان کی برآمدات کے سب سے بڑے مقامات میں شامل رہے
گزشتہ برس بھی بھارت، پاکستان اور کئی وسطی ایشیائی ممالک افغانستان کی برآمدات کے سب سے بڑے مقامات میں شامل رہےتصویر: Fatemeh Bahrami/AA/picture alliance

گزشتہ برس بھی بھارت، پاکستان اور کئی وسطی ایشیائی ممالک افغانستان کی برآمدات کے سب سے بڑے مقامات میں شامل رہے۔ افغانستان نے زیادہ تر خشک میوہ جات، کوئلہ، قالین، زعفران اور زرعی اشیاء برآمد کیں۔

درآمدات میں تیل، مشینری، بنیادی خوراک اور صنعتی خام مال سرفہرست رہے، جو بنیادی طور پر ایران، متحدہ عرب امارات، چین اور علاقائی پڑوسیوں سے آئے۔

 افغانستان نے زیادہ تر خشک میوہ جات، کوئلہ، قالین، زعفران اور زرعی اشیاء برآمد کیں
افغانستان نے زیادہ تر خشک میوہ جات، کوئلہ، قالین، زعفران اور زرعی اشیاء برآمد کیںتصویر: Saifurahman Safi/Xinhua News Agency/picture alliance

افغانستان سرحدی بندشوں کے بعد پاکستان پر انحصار کم کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان سمندر تک رسائی کا سب سے تیز راستہ ہے لیکن افغان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے باوجود تجارتی راستوں میں تنوع نے ملکی معیشت کو جاری رکھنے کے قابل بنایا ہے۔پاکستانی طالبان کے پے در پے حملوں کے بعد اسلام آباد حکومت نے گزشتہ برس اکتوبر میں افغانستان کے ساتھ اپنی تمام سرحد تجارت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان کا الزام ہے کہ حملہ آوروں کی پناہ گاہیں افغانستان میں موجود ہے، جبکہ طالبان کی کابل حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفارتی بحران اور سرحد کی بندش علاقائی تجارت کو ایک نئی شکل دے رہی ہے، جبکہ بھارت اس تنازعے کا فائدہ اٹھا کر کابل کے ساتھ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کو مضبوط کر رہا ہے۔تاہم دونوں ملکوں کی حکومتوں کی جانب سے تاحال کوئی واضح اشارہ نہیں دیا گیا کہ پاک افغان بارڈر کب اور کن شرائط پر دوبارہ کھولا جائے گا۔ جنوبی ایشیا کے ان دو پڑوسی ممالک کے درمیان نوآبادیاتی دور کی یہ سرحد تقریبا 2,600 کلومیٹر سے زائد طویل ہے، جو دشوار گزار پہاڑی سلسلوں پر محیط ہے۔ ڈیورنڈ لائن کے نام سے مشہور اس سرحد کے دونوں اطراف بسنے والے لوگوں کے درمیان گہرے ثقافتی، معاشی اور خاندانی روابط موجود ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button