
سندھ بھر کے نجی اسکولوں میں 9 جنوری کو ہڑتال کا اعلان، APPSF کا کرپشن اور غیر قانونی مداخلت کے خلاف احتجاج
رہنماؤں کے مطابق اینٹی کرپشن اور دیگر سرکاری اداروں کی جانب سے غیر قانونی مداخلت نے نہ صرف تعلیمی ماحول کو متاثر کیا ہے بلکہ لاکھوں بچوں کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز ، آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا کے ساتھ
آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن (APPSF) نے سندھ بھر کے نجی اسکولوں میں 9 جنوری 2026 کو مکمل ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا اور سندھ کے صدر اختر آرائیں نے مشترکہ طور پر کیا۔ ہڑتال کا مقصد محکمہ تعلیم اور محکمہ اینٹی کرپشن میں مبینہ کرپشن، غیر قانونی مداخلت اور نجی تعلیمی اداروں و اساتذہ کے تقدس کے تحفظ کے لیے احتجاج ریکارڈ کرانا ہے۔
اپنے مشترکہ بیان میں کاشف مرزا اور اختر آرائیں نے کہا کہ سندھ بھر کے تمام نجی تعلیمی ادارے 9 جنوری کو بطور احتجاج بند رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی اسکول اور اساتذہ معاشرے میں ایک باوقار اور ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہے ہیں، لیکن حالیہ اقدامات کے ذریعے انہیں بلاجواز ہراساں کیا جا رہا ہے، جو ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ نجی اسکولوں، اساتذہ اور تعلیمی نظام کے احترام کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ رہنماؤں کے مطابق اینٹی کرپشن اور دیگر سرکاری اداروں کی جانب سے غیر قانونی مداخلت نے نہ صرف تعلیمی ماحول کو متاثر کیا ہے بلکہ لاکھوں بچوں کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
کاشف مرزا نے کہا کہ سندھ کے نجی اسکول تقریباً 60 لاکھ بچوں کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں اور یہ ایک بڑی سماجی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا،“ہم یہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے کہ ہمیں اور والدین کو ملزم اور مجرم کے طور پر کٹہرے میں کھڑا کیا جائے، صرف اس بنیاد پر کہ ہم اپنی سماجی ذمہ داری کے تحت فری شپ (Free Ship) فراہم کر رہے ہیں۔”
فیڈریشن کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت محکمہ تعلیم اور محکمہ اینٹی کرپشن میں ہونے والی کرپشن اور غیر قانونی اقدامات کا فوری نوٹس لے اور ان کا مؤثر تدارک کرے۔ ان کے مطابق فری شپ کی تصدیق کے عمل کو شفاف اور باوقار بنایا جانا چاہیے، جیسا کہ سکھر کے علاقے میں کیا گیا ہے، ویسا ہی طریقہ کار کراچی اور دیگر شہروں میں بھی نافذ کیا جائے۔
اختر آرائیں نے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کو چاہیے کہ وہ اپنے دفاتر میں ایک باقاعدہ اور منظم طریقہ کار کے تحت فری شپ کی تصدیق کا عمل مکمل کرے، جس میں ڈائریکٹوریٹ کا عملہ، اینٹی کرپشن کے نمائندے اور اسکولوں کے نمائندے شامل ہوں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اسکول انتظامیہ تصدیقی عمل میں مکمل تعاون کرے گی، تاہم ڈیٹا کی تصدیق اور اسکولوں کے خلاف تحقیقات کے درمیان واضح فرق ہونا چاہیے۔
فیڈریشن کے مطابق محض اعداد و شمار کے 100 فیصد درست نہ ہونے کے تاثر اور عدالتی احکامات کی خود ساختہ تشریح کی بنیاد پر 60 لاکھ بچوں کے تعلیمی عمل کو اضطراب اور غیر یقینی صورتحال میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ ایسے اقدامات سے نہ صرف والدین بلکہ طلبہ اور اساتذہ بھی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔
کاشف مرزا اور اختر آرائیں نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر تعلیم سندھ اور سیکریٹری اسکول ایجوکیشن سے ملاقات اور باضابطہ خطوط کے ذریعے اس سنگین عوامی مسئلے میں فوری کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ نجی تعلیمی اداروں، اساتذہ اور والدین کے تحفظ کو یقینی بنائے اور اداروں کی عزت و وقار بحال کرے۔
بیان کے اختتام پر آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن نے اسکولوں، اساتذہ اور والدین سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری مداخلت کرے گی تاکہ تعلیمی نظام کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔



