بین الاقوامیاہم خبریں

امریکی فوج نے روسی پرچم والا آئل ٹینکر قبضے میں لے لیا

امریکی فورسز نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے وینزویلا سے منسلک مارینیرا نامی آئل ٹینکر پر چڑھائی کر دی ہے۔ اس نے جہاز کے قریب منڈلاتے ہیلی کاپٹر کی ایک تصویر بھی شائع کی۔

امریکی فوج نے شمالی بحر اوقیانوس میں وینزویلا سے تعلق رکھنے والے آئل ٹینکر پر قبضہ کر لیا ہے۔ امریکی قبضے کے وقت اس آئل ٹینکر پر روس کا پرچم لہرا رہا تھا۔ یہ کارروائی روس اور امریکہ کے مابین تناؤ میں اضافہ کر سکتی ہے۔
امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سوشل میڈیا پر لکھا، ”پابندیوں کے شکار اور وینزویلا کے تیل کی غیر قانونی نقل و حمل پر ناکہ بندی دنیا بھر میں مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔“
بدھ کو دو نامعلوم امریکی حکام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ یہ آپریشن امریکی کوسٹ گارڈ اور فوج نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔
اس سے پہلے روسی سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی فورسز نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے وینزویلا سے منسلک مارینیرا نامی آئل ٹینکر پر چڑھائی کر دی ہے۔ اس نے جہاز کے قریب منڈلاتے ہیلی کاپٹر کی ایک تصویر بھی شائع کی۔
قبل ازیں نیوز ایجنسی روئٹرز نے بتایا تھا کہ متاثرہ آئل ٹینکر کی حفاظت کے لیے روس نے ایک آبدوز بھی بھیجی ہے اور یہ کہ روسی حکام نے امریکہ سے اس آئل ٹینکر پر قبضہ نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔
مارینیرا نامی ٹینکر کا نام پہلے بیلا۔ون تھا کہ حال ہی میں اس کا نام مارینزا رکھتے ہوئے اس پر روسی پرچم لہرا دیا گیا تھا۔ قبل ازیں یہ پابندیوں کے شکار ٹینکروں پر عائد امریکی سمندری ناکہ بندی کو توڑتے ہوئے نکل گیا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق یہ ٹینکر ایک مبینہ ”شیڈو فلیٹ“ کا حصہ ہے، جو وینزویلا، روس اور ایران جیسے ممالک کے لیے امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تیل کی سپلائی کرتا ہے۔
امریکی فورسز گزشتہ ماہ سے بحر اوقیانوس میں مارینیرا کا تعاقب کر رہی تھیں، جو وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کے خلاف فوجی آپریشن سے قبل کا مرحلہ تھا۔
روسی وزارت خارجہ نے صرف یہ کہا ہے کہ وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ روس نے اس تعاقب کو غیر متناسب قرار دیا ہے۔
یہ جہاز 2024ء میں امریکہ کی طرف سے اس الزام پر پابندی کا شکار ہوا تھا کہ وہ لبنانی گروپ حزب اللہ سے منسلک ایک کمپنی کے لیے سامان کی اسمگلنگ کر رہا تھا۔
دسمبر میں جب یہ وینزویلا کی طرف جا رہا تھا تو کیریبین میں امریکی کوسٹ گارڈ نے اس پر چڑھنے کی کوشش کی تھی لیکن جہاز نے داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button