پاکستاناہم خبریں

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون میں بڑی پیش رفت، دو ارب ڈالر کے سعودی قرضے جے ایف-17 جنگی طیاروں کے معاہدے میں تبدیل ہونے کا امکان

اسلام آباد اور ریاض اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو دیے گئے تقریباً دو ارب ڈالر کے قرضوں کو جے ایف-17 لڑاکا طیاروں کی خریداری کے معاہدے میں ایڈجسٹ کیا جائے

ایجنسیاں
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون ایک نئے اور اہم مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں دونوں ممالک کے مابین تقریباً دو ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو پاکستان کے تیار کردہ جے ایف-17 تھنڈر جنگی طیاروں کی فروخت کے معاہدے میں تبدیل کرنے پر سنجیدہ بات چیت جاری ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان ایک تاریخی باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جس کے بعد فوجی اور سیکیورٹی تعاون میں واضح تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے دو پاکستانی سرکاری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اسلام آباد اور ریاض اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو دیے گئے تقریباً دو ارب ڈالر کے قرضوں کو جے ایف-17 لڑاکا طیاروں کی خریداری کے معاہدے میں ایڈجسٹ کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات دونوں اتحادی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو عملی اور ٹھوس شکل دینے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ زیرِ غور معاہدہ محض قرضوں کی تبدیلی تک محدود نہیں بلکہ اس کی مجموعی مالیت تقریباً چار ارب ڈالر ہو سکتی ہے، جس میں دو ارب ڈالر قرض کی تبدیلی جبکہ بقیہ دو ارب ڈالر مالیت کا اضافی فوجی ساز و سامان شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ تاہم یہ بات چیت ابھی ابتدائی اور حساس مرحلے میں ہے، اسی لیے فوجی اور سرکاری ذرائع نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تفصیلات فراہم کی ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ سال ستمبر میں ایک اہم باہمی دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک نے اس اصول پر اتفاق کیا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے نے دہائیوں پر محیط دوطرفہ سیکیورٹی شراکت داری کو باضابطہ اور نمایاں طور پر مزید مضبوط بنا دیا ہے۔
یہ دفاعی معاہدہ ایسے حساس علاقائی حالات میں طے پایا تھا جب اسرائیل کی جانب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اُن اہداف پر حملے کیے گئے جنہیں اسرائیل نے حماس کے ٹھکانے قرار دیا تھا۔ ان حملوں نے خلیجی خطے میں تشویش کی لہر دوڑا دی تھی اور خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی اور دفاعی حکمتِ عملی پر ازسرِ نو غور کرنے پر مجبور کیا تھا۔
پاکستانی ذرائع کے مطابق تازہ مذاکرات خاص طور پر جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی فراہمی پر مرکوز ہیں۔ جے ایف-17 ایک ہلکا، جدید اور کم لاگت لڑاکا طیارہ ہے جسے پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق زیرِ غور مختلف دفاعی آپشنز میں جے ایف-17 طیارے سب سے نمایاں اور ترجیحی انتخاب کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
سعودی عرب کے ایک میڈیا ادارے ’سعودی نیوز 50‘ نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر یہ اطلاع بھی دی کہ پاکستان ایئر فورس کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سعودی عرب میں موجود تھے، جہاں انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون اور دوطرفہ دفاعی تعلقات پر اعلیٰ سطحی مذاکرات کیے۔
دفاعی امور کے ماہر اور ریٹائرڈ ایئر مارشل امیر مسعود نے اس حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت کم از کم چھ ممالک کے ساتھ دفاعی ساز و سامان کی فراہمی کے لیے یا تو مذاکرات کر رہا ہے یا معاہدے طے کر چکا ہے۔ ان کے مطابق ان سودوں میں جے ایف-17 لڑاکا طیارے، ان کے الیکٹرانک سسٹمز اور جدید اسلحہ شامل ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ سعودی عرب بھی ان ممکنہ خریدار ممالک میں شامل ہے، تاہم وہ جاری مذاکرات کی تفصیلات کی باضابطہ تصدیق نہیں کر سکے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق جے ایف-17 طیارے کی عالمی منڈی میں کشش میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ اس کا جنگی حالات میں آزمودہ ہونا اور نسبتاً کم لاگت ہے۔ یہ طیارہ گزشتہ سال مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپوں کے دوران بھی استعمال کیا گیا، جو کئی دہائیوں میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سب سے سنگین تصادم قرار دیا جاتا ہے۔

روئٹرز کی جانب سے تبصرے کے لیے رابطہ کرنے پر پاکستان کی فوج، وزارتِ خزانہ اور وزارتِ دفاع نے فوری طور پر کوئی ردِعمل نہیں دیا، جبکہ سعودی عرب کے سرکاری میڈیا دفتر نے بھی اس معاملے پر تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
پاکستان طویل عرصے سے سعودی عرب کو فوجی معاونت فراہم کرتا آ رہا ہے، جس میں فوجی تربیت، مشاورتی کردار اور دفاعی تعاون شامل ہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب نے بھی مختلف مواقع پر پاکستان کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کے لیے مالی مدد فراہم کی ہے۔ 2018 میں ریاض نے پاکستان کے لیے چھ ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا، جس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں تین ارب ڈالر کی رقم جمع کرانا اور تین ارب ڈالر مالیت کا تیل مؤخر ادائیگی کی بنیاد پر فراہم کرنا شامل تھا۔
حالیہ مہینوں میں پاکستان نے دفاعی شعبے میں بیرونی روابط کو تیزی سے فروغ دیا ہے، کیونکہ حکومت اسلحہ کی برآمدات بڑھا کر ملکی دفاعی صنعت سے آمدن حاصل کرنا چاہتی ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان نے لیبیا کی مشرقی حکومت سے وابستہ لیبیئن نیشنل آرمی کے ساتھ چار ارب ڈالر سے زائد مالیت کا اسلحہ معاہدہ کیا، جو ملک کی تاریخ کے بڑے دفاعی سودوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اس معاہدے میں جے ایف-17 لڑاکا طیارے اور تربیتی طیارے شامل ہیں۔
اس کے علاوہ پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ بھی جے ایف-17 طیاروں کی ممکنہ فروخت پر بات چیت کی ہے، جس کا مقصد جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ سے باہر بھی اپنی دفاعی برآمدات کا دائرہ وسیع کرنا ہے۔
منگل کے روز وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ملکی دفاعی صنعت کے مستقبل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس شعبے کی کامیابی پاکستان کی معاشی صورتحال کو یکسر تبدیل کر سکتی ہے۔ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا،
“ہمارے طیارے آزمودہ ہیں، اور ہمیں اتنے زیادہ آرڈرز مل رہے ہیں کہ پاکستان کو چھ ماہ میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ضرورت نہ رہے گی۔”
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان یہ مجوزہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ نہ صرف دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا بلکہ پاکستان کی دفاعی صنعت کے لیے بھی ایک بڑی کامیابی ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button