کھیلاہم خبریں

پاکستان سپر لیگ میں تاریخی توسیع، دو نئی ٹیموں کا باضابطہ اضافہ، سیالکوٹ اور حیدرآباد فرنچائزز ریکارڈ قیمتوں پر فروخت

نیلامی کے پہلے مرحلے میں حیدرآباد کی فرنچائز کے لیے بھی سخت مقابلہ ہوا، جہاں ایف کے ایس گروپ اور آئی ٹو سی آمنے سامنے تھے

اسلام آباد:پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی تاریخ میں ایک اہم اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں لیگ میں دو نئی ٹیموں کا باضابطہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ جمعرات کے روز اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں ہونے والی فرنچائز نیلامی کے دوران سیالکوٹ اور حیدرآباد کی ٹیمیں ریکارڈ بولیوں کے ذریعے فروخت ہوئیں، جس سے پی ایس ایل میں ٹیموں کی مجموعی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔
نیلامی کے دوران او زی ڈویلپرز نے سیالکوٹ کی فرنچائز 1 ارب 85 کروڑ روپے کی خطیر رقم کے عوض حاصل کی، جو پی ایس ایل کی تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی بولی قرار دی جا رہی ہے۔ اس سے چند ہی لمحے قبل ایف کے ایس گروپ نے حیدرآباد کی فرنچائز 1 ارب 75 کروڑ روپے میں اپنے نام کی، جو خود بھی ایک بڑی اور نمایاں بولی سمجھی جا رہی ہے۔
نیلامی میں سیالکوٹ ٹیم کے لیے او زی ڈویلپرز اور معروف سافٹ ویئر کمپنی آئی ٹو سی کے درمیان سخت اور سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ آئی ٹو سی نے آخری بولی 1 ارب 82 کروڑ روپے تک پہنچائی، تاہم او زی ڈویلپرز نے اس بولی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 1 ارب 85 کروڑ روپے کی پیشکش کر دی، جس کے بعد سیالکوٹ فرنچائز ان کے حصے میں آ گئی۔
نیلامی کے پہلے مرحلے میں حیدرآباد کی فرنچائز کے لیے بھی سخت مقابلہ ہوا، جہاں ایف کے ایس گروپ اور آئی ٹو سی آمنے سامنے تھے۔ آئی ٹو سی کی آخری بولی 1 ارب 70 کروڑ روپے رہی، جبکہ ایف کے ایس گروپ نے 1 ارب 75 کروڑ روپے کی بولی دے کر حیدرآباد ٹیم حاصل کر لی۔
پی ایس ایل کے لیے مقرر کردہ بنیادی قیمت کے مطابق ساتویں ٹیم کی ریزرو قیمت 1 ارب 10 کروڑ روپے جبکہ آٹھویں ٹیم کی بنیادی قیمت 1 ارب 70 کروڑ روپے رکھی گئی تھی۔ دونوں نئی ٹیمیں اپنی مقررہ بنیادی قیمت سے کہیں زیادہ رقم پر فروخت ہوئیں، جو لیگ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔
سیالکوٹ اور حیدرآباد پہلی بار 2015 میں پی ایس ایل کے آغاز کے بعد لیگ کا حصہ بنیں گے۔ ان شہروں کی شمولیت سے نہ صرف پی ایس ایل کا جغرافیائی دائرہ وسیع ہوا ہے بلکہ کرکٹ شائقین کو بھی اپنی مقامی ٹیموں کی حمایت کا موقع ملے گا۔
پی ایس ایل کا رواں سیزن 26 مارچ سے 3 مئی تک شیڈول ہے، جس میں اب آٹھ ٹیمیں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی۔ اس سے قبل لیگ میں لاہور قلندرز، اسلام آباد یونائیٹڈ، پشاور زلمی، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، کراچی کنگز اور ملتان سلطانز شامل تھیں۔
فرنچائز نیلامی کے لیے زیر غور شہروں میں فیصل آباد، گلگت، حیدرآباد، مظفرآباد، راولپنڈی اور سیالکوٹ شامل تھے، تاہم حتمی طور پر حیدرآباد اور سیالکوٹ کو منتخب کیا گیا۔
نیلامی کے عمل میں دلچسپی لینے والے سرمایہ کاروں کی فہرست بھی خاصی طویل تھی، جن میں ایف کے ایس، او زی ڈویلپرز، ایم نیکسٹ انک، ڈہرکی شوگر ملز، انویریکس سولر، آئی ٹو سی، جاز، پرزم ڈویلپرز، وی جی او ٹیل اور ولی پاکستان شامل تھے۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ان سرمایہ کاروں کی شرکت نے پی ایس ایل کی کمرشل قدر کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔
اس تاریخی نیلامی کی میزبانی پاکستان کے سابق کپتان اور عالمی شہرت یافتہ کمنٹیٹر وسیم اکرم نے کی، جبکہ پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو سلمان نصیر بھی اسٹیج پر ان کے ہمراہ موجود تھے۔ سلمان نصیر نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس ایل کے دس سال کا سفر اس تاریخی لمحے تک لے آیا ہے، جو لیگ کی ترقی اور استحکام کا مظہر ہے۔
وسیم اکرم نے بولی دہندگان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فرنچائز حاصل کرنا محض ایک ٹیم کی ملکیت نہیں بلکہ یہ ایک مکمل برانڈ، اس کے لوگو، کِٹس، کھلاڑیوں اور شائقین سے جڑنے جیسے بے شمار مواقع فراہم کرتا ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے طویل المدتی فوائد کا باعث بن سکتے ہیں۔
نیلامی سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے رائزنگ اسٹار ایشیا کپ جیتنے والی قومی ٹیم کو 9 کروڑ روپے کا انعام دیا، جبکہ ہانگ کانگ سکسز ٹورنامنٹ جیتنے والی ٹیم کو 1 کروڑ 85 لاکھ روپے کا کیش پرائز دیا گیا، جس پر حاضرین نے تالیاں بجا کر کھلاڑیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
واضح رہے کہ فرنچائز بولیوں کی آخری تاریخ میں متعدد بار توسیع کی گئی تھی۔ ابتدا میں یہ تاریخ 15 دسمبر مقرر کی گئی تھی، جسے بعد ازاں 22 دسمبر اور پھر 24 دسمبر تک بڑھایا گیا۔ اس کی بڑی وجہ یورپ، امریکا اور مشرق وسطیٰ سمیت مختلف خطوں سے سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی تھی، جسے لندن اور نیویارک میں منعقد کیے گئے پی ایس ایل روڈ شوز نے مزید تقویت دی۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق دو نئی ٹیموں کا اضافہ پی ایس ایل کے لیے ایک سنگ میل ہے، جو نہ صرف لیگ کے معیار اور مسابقت کو بڑھائے گا بلکہ پاکستان میں کرکٹ کے فروغ اور معاشی مواقع میں بھی نمایاں کردار ادا کرے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button