
مظاہرین پر کریک ڈاؤن کے باعث امریکہ نے ایرانی حکام پر پابندیاں عائد کر دیں
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا، ’’امریکہ آزادی اور انصاف کے مطالبے کرنے والے ایرانی عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔‘‘
امریکہ نے جمعرات کے روز ایرانی سکیورٹی حکام اور بینکاری نیٹ ورکس پر پرامن عوامی احتجاج کے خلاف متشدد کریک ڈاؤن کی منصوبہ بندی اور اربوں ڈالر کی تیل سے آمدنی کی منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے الزامات لگاتے ہوئے ان پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا، ’’امریکہ آزادی اور انصاف کے مطالبے کرنے والے ایرانی عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔‘‘
یورپی کمیشن کی سربراہارزولا فان ڈئر لاین نے کہا کہ برسلز ایران پر نئی پابندیوں کی تجویز ’’فوری طور پر‘‘ پیش کرے گا، کیونکہ ایران میں ملک گیر احتجاج کے شرکاء پر کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔
اپنے آن لائن شائع ہونے والے ایک بیان میں فان ڈئر لاین نےکہا، ’’ایران میں بڑھتی ہوئی ہلاکتیں خوفناک ہیں۔ میں طاقت کے بے جا استعمال اور آزادی پر مسلسل پابندی کی سخت مذمت کرتی ہوں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’جو لوگ اس جبر کے ذمہ دار ہیں، ان پر مزید پابندیاں جلد لگا دی جائیں گی۔‘‘
یورپی یونین نے احتجاج کرنے والے ایرانی عوام کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ یہ احتجاج 1979 میں شاہ کے خلاف اسلامی انقلاب کے بعد سے مذہبی قیادت کے لیے سب سے بڑا چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین اس سے قبل بھی ایرانی حکام کی بڑی تعداد پر ماضی میں کریک ڈاؤن اور روس کی یوکرین کے خلاف جنگ کی حمایت کے باعث پابندیاں عائد کر چکی ہے۔
یورپی یونین میں اس بات کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہایران کی پاسداران انقلاب فورس کو ’’دہشت گرد تنظیم‘‘ قرار دیا جائے، تاہم برسلز کا موقف ہے کہ اس اقدام کے لیے کوئی قانونی بنیاد دستیاب نہیں۔
اپنے بیان میں فان ڈئر لاین نے یہ بات بھی دہرائی کہ یورپی یونین نے پہلے ہی پاسداران انقلاب کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث اثاثوں کے انجماد اور ویزا پابندیوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔




