مشرق وسطیٰ

پاکستان سمیت سات مسلم اکثریتی ممالک کی امریکی صدر ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کا اعلان

غزہ میں مستقل امن، جنگ بندی اور فلسطینی حقِ خود ارادیت کے لیے مشترکہ عزم

مدثر احمد-امریکا، وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

واشنگٹن: پاکستان اور سات دیگر مسلم اکثریتی ممالک نے بدھ کے روز ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہاد ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کے اپنے فیصلے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ اس اقدام کو غزہ میں جاری تنازع کے خاتمے، مستقل جنگ بندی اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کے حصول کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مشترکہ بیان میں پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، ترکی، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے “اپنے رہنماؤں کو دی گئی دعوت” کا خیرمقدم کیا اور بورڈ آف پیس میں شمولیت کے مشترکہ فیصلے کا اعلان کیا۔


بورڈ آف پیس میں شمولیت کا باضابطہ فیصلہ

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ
“وزراء اپنے ممالک کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے مشترکہ فیصلے کا اعلان کرتے ہیں۔ ہر ملک اپنے متعلقہ قانونی اور دیگر ضروری طریقہ کار کے مطابق شمولیت کی دستاویزات پر دستخط کرے گا، جن میں مصر، پاکستان اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، جو پہلے ہی شمولیت کا اعلان کر چکے ہیں۔”

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے منگل کو، جبکہ پاکستان اور مصر نے بدھ کے روز الگ الگ طور پر بورڈ میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔


غزہ امن منصوبہ اور اقوام متحدہ کی قرارداد 2803

بیان میں کہا گیا کہ وزرائے خارجہ نے صدر ٹرمپ کی قیادت میں امن کی کوششوں کے لیے اپنے ممالک کی حمایت کا اعادہ کیا اور بورڈ آف پیس کو ایک عبوری انتظامیہ کے طور پر اس کے مشن کے نفاذ میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

یہ مشن غزہ میں تنازع کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے جامع منصوبے کے تحت تشکیل دیا گیا ہے، جس کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے ذریعے کی گئی ہے۔

مشترکہ بیان کے مطابق اس فریم ورک کا مقصد:

  • غزہ میں مستقل اور منصفانہ امن کا قیام

  • بین الاقوامی قانون کے مطابق فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور ریاستی حیثیت کا تحفظ

  • خطے کے تمام ممالک اور عوام کے لیے سلامتی اور استحکام کی راہ ہموار کرنا


گزشتہ تعاون اور پس منظر

بیان میں یاد دلایا گیا کہ تمام آٹھ ممالک نے گزشتہ سال اکتوبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور مبینہ نسل کشی کے خاتمے کے منصوبے پر کام کیا تھا۔ اس تناظر میں بورڈ آف پیس میں شمولیت کو اسی سفارتی تسلسل کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔


پاکستان کا مؤقف: غزہ میں دیرپا امن کے لیے عزم

ادھر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے غزہ میں امن کے لیے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان غزہ میں دیرپا امن اور فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے حقِ خود ارادیت کو یقینی بنانے کے لیے اپنے برادر عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ ماضی میں بھی کام کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔


دفتر خارجہ کا مؤقف

یہ پیش رفت دفتر خارجہ کے اس علیحدہ بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی جس میں تصدیق کی گئی تھی کہ پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ پاکستان کو یہ دعوت گزشتہ ہفتے دی گئی تھی۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق:
“امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی طرف سے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو دی گئی دعوت کے جواب میں، پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے فریم ورک کے تحت غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کی حمایت کے لیے بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ کرتا ہے۔”


جنگ بندی، انسانی امداد اور تعمیر نو کی امید

دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان کو امید ہے کہ اس فریم ورک کے تحت:

  • غزہ میں مستقل جنگ بندی نافذ ہوگی

  • فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد میں نمایاں اضافہ ہوگا

  • غزہ کی تعمیر نو کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کیے جائیں گے

بیان میں یہ امید بھی ظاہر کی گئی کہ یہ کوششیں ایک قابلِ اعتماد اور وقت سے جڑی سیاسی پیش رفت کے ذریعے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کے حصول کا باعث بنیں گی، جس کے نتیجے میں ایک آزاد، خودمختار اور متصل ریاست فلسطین قائم ہو سکے گی، جس کا دارالحکومت القدس ہو۔


بورڈ آف پیس: ایک متنازع مگر بااثر تجویز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بورڈ آف پیس کے قیام کی تجویز گزشتہ سال ستمبر میں غزہ تنازع کے خاتمے کے منصوبے کے اعلان کے دوران پیش کی تھی۔ تاہم حالیہ دنوں میں عالمی رہنماؤں کو بھیجے گئے دعوت ناموں میں اس بورڈ کے کردار کو غزہ سے آگے بڑھا کر عالمی تنازعات کے حل تک وسعت دینے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق، امریکی انتظامیہ کی جانب سے تقریباً 60 ممالک کو بھیجے گئے ایک مسودہ چارٹر میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی ملک تین سال سے زائد مدت تک رکنیت برقرار رکھنا چاہے تو اسے ایک ارب ڈالر کی رقم ادا کرنا ہوگی۔


یورپی خدشات اور اقوام متحدہ کا کردار

چارٹر میں شامل شرائط کے باعث بعض یورپی حکومتوں میں خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے کردار کو کمزور کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اس تنقید کے جواب میں الزام عائد کیا ہے کہ بعض ممالک عالمی تنازعات کے خاتمے کی ان کی کوششوں کی حمایت نہیں کر رہے۔


مستقبل کا لائحہ عمل

فنانشل ٹائمز کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ بورڈ آف پیس کو ایک مستقل عالمی ادارے میں تبدیل کرنے پر غور کر رہی ہے، جو اقوام متحدہ کے متبادل یا مدمقابل کردار ادا کر سکتا ہے۔

چارٹر کے مطابق بورڈ کو ایک “زیادہ فرتیلا اور مؤثر بین الاقوامی امن ساز ادارہ” کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کی صدارت خود ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ بورڈ کا آغاز غزہ تنازع کے حل سے ہوگا، جس کے بعد اسے دیگر عالمی تنازعات تک توسیع دی جائے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button