پاکستاناہم خبریں

وادیٔ تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے آئی ڈی پیز کو برف باری کی ایک اور آزمائش

ضلع خیبر میں شدید موسم، سڑکیں بند، درجنوں افراد اور گاڑیاں پھنس گئیں

انصار ذاہدسیال-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں وادیٔ تیراہ سے آنے والے بے گھر افراد (آئی ڈی پیز) کو شدید برف باری کے باعث ایک اور سنگین مشکل کا سامنا ہے۔ گزشتہ دو روز سے مسلسل برف باری نے نہ صرف اہم شاہراہوں کو بند کر دیا ہے بلکہ محفوظ مقامات کی جانب جانے والے متاثرین کی متعدد گاڑیاں بھی راستوں میں پھنس گئی ہیں، جس سے انسانی بحران کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

برف باری کے باعث آمدورفت شدید متاثر

ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق جمعرات کی رات شدید برف باری اور سڑکوں پر پھسلن کے باعث مختلف علاقوں میں آمدورفت تقریباً معطل ہو گئی۔ نارے بابا، دوا توئے، پائندہ چینہ، ننگروسہ اور تختکی جیسے مقامات پر آئی ڈی پیز کی گاڑیاں برف میں پھنس گئیں، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل تھے۔

ریسکیو 1122 کا فوری امدادی آپریشن

موسم کی خراب صورتحال کے پیش نظر ریسکیو 1122 نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کے مطابق ابتدائی مرحلے میں تمام پھنسے ہوئے افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا، جس کے بعد بھاری مشینری کی مدد سے گاڑیوں کو نکالنے کا عمل شروع کیا گیا۔

وادیٔ تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے آئی ڈی پیز کو برف باری کی ایک اور آزمائش

انہوں نے بتایا کہ خیبر، پشاور اور صوابی سے اضافی ریسکیو ٹیمیں بھی متاثرہ علاقوں میں پہنچیں۔ جمعرات کی رات مختلف مقامات سے 55 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ 20 سے زائد گاڑیوں کو برف سے نکال لیا گیا۔

ضلع خیبر میڈیا سیل کے مطابق برف باری میں پھنسے آئی ڈی پیز کی منتقلی کا عمل مسلسل جاری ہے۔ متاثرین کو پائندہ چینہ کے اسکول اور ہاسٹل میں منتقل کیا گیا جہاں انہیں کمبل، بچوں کے لیے گرم کپڑے اور خوراک فراہم کی گئی۔

میڈیا سیل نے بتایا کہ ننگروسہ، دوہ توئی سے لرباغ تک امدادی اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے جبکہ دیگر شاہراہوں کو کھولنے کے لیے بھی مشینری کام کر رہی ہے۔ ان سرگرمیوں میں ریسکیو 1122، پولیس، فرنٹیئر کور اور پاک فوج کے جوان حصہ لے رہے ہیں۔

حکومتی نمائندوں کی موقع پر موجودگی

ریسکیو آپریشن کی نگرانی کے لیے صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی، معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان اور رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی تیراہ میں موجود رہے۔ انہوں نے نہ صرف آپریشن کی نگرانی کی بلکہ امدادی سرگرمیوں میں عملی طور پر حصہ بھی لیا۔

معاون خصوصی شفیع جان نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی خود صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور تمام سرکاری وسائل متاثرہ علاقوں میں بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق برف میں پھنسے افراد کو عارضی کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا ہے اور رجسٹریشن کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔

افسوسناک حادثہ: دو بچوں کی جانیں ضائع

تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے ایک خاندان کو اُس وقت المناک حادثے کا سامنا کرنا پڑا جب ان کی گاڑی پھسل کر گہری کھائی میں جا گری۔ حادثے میں دو بچے جان سے گئے جبکہ والدین سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر پشاور کے اسپتال منتقل کیا گیا۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اسپتال کا دورہ کرکے زخمیوں کی عیادت کی اور فوری طبی سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی۔ انہوں نے تیراہ کی سڑکوں کو ہر وقت کھلا رکھنے کے لیے اضافی مشینری اور عملہ تعینات کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔

متاثرین کی فریاد: دہرے عذاب میں مبتلا

تیراہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان عبداللہ آفریدی نے صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آئی ڈی پیز پہلے ہی نقل مکانی کے کرب میں مبتلا ہیں اور اب شدید سردی اور برف باری نے ان کی مشکلات دوگنی کر دی ہیں۔ ان کے مطابق متاثرین کا سامان گاڑیوں میں موجود ہے جو مختلف مقامات پر برف میں پھنسی ہوئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ باغ کے علاقے تک کم از کم 6 سے 7 مقامات پر گاڑیاں پھنسی ہیں، جنہیں نکالنے کے لیے فوری طور پر بھاری مشینری درکار ہے۔ برف باری کے باعث رجسٹریشن پوائنٹس تک پہنچنے میں تقریباً 50 منٹ لگتے ہیں جبکہ شدید سردی میں پیدل سفر بھی انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔

آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن کا عمل معطل

ضلعی انتظامیہ کے مطابق خراب موسم کے باعث گزشتہ دو روز سے آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن کا عمل معطل ہے، تاہم اب تک تقریباً 7 ہزار خاندانوں کی رجسٹریشن مکمل کی جا چکی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 25 ہزار سے زائد افراد تیراہ سے نقل مکانی کر چکے ہیں لیکن ابھی تک ان کی نادرا سے رجسٹریشن نہیں ہو سکی۔

انتظامیہ کے مطابق آئی ڈی پیز کے لیے طوطوئی کے مقام پر انٹری پوائنٹ قائم کیا گیا ہے، جہاں سے کلیئرنس کے بعد انہیں پائندہ چینہ منتقل کیا جاتا ہے اور خوراک و دیگر ضروری اشیا فراہم کی جاتی ہیں۔ متاثرین کو منڈیکس باڑہ کے مقام پر کرائے کی مد میں 22 ہزار روپے بھی ادا کیے جا رہے ہیں۔

نقل مکانی کی وجہ اور مستقبل کا لائحہ عمل

واضح رہے کہ وادیٔ تیراہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کے باعث مقامی آبادی کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ پانچ جنوری سے شروع ہونے والا انخلا 31 جنوری تک جاری رہے گا۔ سرکاری حکام کے مطابق دہشت گرد عناصر کے مکمل خاتمے کے بعد اپریل میں مقامی آبادی کی بحالی کا عمل شروع کیا جائے گا۔

شدید سرد موسم اور سیکیورٹی آپریشن کے باعث تیراہ کے متاثرین اس وقت غیر معمولی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال معمول پر لانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button