
صومالیہ کے وزیر داخلہ و وفاقی امور کی نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں چیف آف دی نیول اسٹاف سے ملاقات
پاک بحریہ اور صومالیہ کے مابین دفاعی و بحری تعاون کے فروغ پر تبادلۂ خیال
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
وفاقی جمہوریہ صومالیہ کے وزیر داخلہ، وفاقی امور اور مفاہمت، ایچ ای علی یوسف علی (ہوش) نے نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی بحری سلامتی، دفاعی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ملاقات کا پس منظر اور اہمیت
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بحرِ ہند اور اس سے ملحقہ سمندری راستوں کی سلامتی عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ پاکستان اور صومالیہ دونوں ممالک سمندری تجارت، انسدادِ بحری قزاقی اور علاقائی استحکام کے حوالے سے مشترکہ مفادات رکھتے ہیں، جس کے باعث اس ملاقات کو دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
بحری سلامتی اور علاقائی تعاون پر گفتگو
ملاقات کے دوران چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے صومالیہ کے وزیر کو بحرِ ہند میں امن و استحکام کے لیے پاک بحریہ کے کردار سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک بحریہ علاقائی اور عالمی سطح پر بحری سلامتی کے فروغ، سمندری قزاقی کے خاتمے اور محفوظ تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے فعال کردار ادا کر رہی ہے۔
صومالیہ کے وزیر داخلہ علی یوسف علی (ہوش) نے خطے میں امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک بحریہ کا تجربہ اور پیشہ ورانہ مہارت صومالیہ کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے، خاص طور پر بحری سیکیورٹی اور استعداد کار میں اضافے کے شعبوں میں۔
دفاعی تعاون اور تربیتی مواقع
دونوں رہنماؤں کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینے، بحری تربیت، پیشہ ورانہ مہارتوں کے تبادلے اور استعداد سازی (Capacity Building) کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر صومالیہ کے وزیر نے پاکستان کی جانب سے صومالی بحری اور سیکیورٹی فورسز کی تربیت میں تعاون پر دلچسپی کا اظہار کیا۔
ایڈمرل نوید اشرف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دوست ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور صومالیہ کے ساتھ بحری شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
باہمی تعلقات کے فروغ پر اتفاق
ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور صومالیہ کے درمیان تاریخی، برادرانہ اور دوستانہ تعلقات موجود ہیں جنہیں مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ دوطرفہ اعلیٰ سطحی روابط، ادارہ جاتی تعاون اور باقاعدہ ملاقاتوں کے ذریعے ان تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔
یادگاری تحائف کا تبادلہ
ملاقات کے اختتام پر دونوں معزز شخصیات کے درمیان یادگاری تحائف کا تبادلہ بھی کیا گیا، جو پاکستان اور صومالیہ کے درمیان دوستی، احترام اور باہمی تعاون کی علامت قرار دیا گیا۔
نتیجہ
نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ہونے والی یہ ملاقات پاکستان اور صومالیہ کے درمیان بحری اور دفاعی تعلقات کو نئی جہت دینے کی جانب ایک مثبت قدم سمجھی جا رہی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے روابط نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ خطے میں مجموعی امن و استحکام کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔



