مشرق وسطیٰاہم خبریں

شام میں کُرد فورسز کی پسپائی، ترکی میں جشن کا سماں

الرقہ کی العقطان جیل پر شامی حکومت کا مکمل کنٹرول، خطے میں طاقت کا توازن بدلنے لگا

ایجنسیاں

شام میں جاری سیاسی اور عسکری تبدیلیوں کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں شامی حکومت نے شمال مشرقی شہر الرقہ میں واقع حساس اور اسٹریٹجک حیثیت کی حامل العقطان جیل پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس پیش رفت کو کرد قیادت والی شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے لیے ایک بڑی شکست قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پڑوسی ملک ترکی میں اس صورتحال پر کھلے عام جشن منایا جا رہا ہے۔

العقطان جیل: داعش قیدیوں کا حساس مرکز

العقطان جیل الرقہ کے شمالی علاقے میں واقع ہے اور اسے خطے کی سب سے اہم حراستی تنصیبات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس جیل میں داعش کے درجنوں مشتبہ ارکان اور سینئر رہنماؤں کو رکھا گیا تھا، جن میں یورپی شہریت رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
داعش کی 2019 میں شکست کے بعد سے یہ جیل کرد قیادت والی شامی ڈیموکریٹک فورسز کے زیرِ انتظام تھی اور اسے عالمی سطح پر ایک حساس سیکیورٹی مقام سمجھا جاتا رہا ہے۔

اچانک کارروائی، ایس ڈی ایف کا انخلاء

یہ تازہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایس ڈی ایف کے جنگجوؤں نے اچانک العقطان جیل اور اس کے اطراف سے انخلاء کر لیا۔ شامی حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جیل کا مکمل انتظامی اور سیکیورٹی کنٹرول سنبھال لیا۔
ریاستی خبر رساں ادارے سانا کے مطابق شامی حکام نے جیل میں موجود قیدیوں کی حالت، سیکیورٹی صورتحال اور ریکارڈز کی جامع جانچ شروع کر دی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے یا فرار کے خدشے کو ختم کیا جا سکے۔

18 جنوری کے معاہدے کا پہلا مرحلہ مکمل

شامی حکام کے مطابق العقطان جیل کا کنٹرول سنبھالنا 18 جنوری کو طے پانے والے معاہدے کے پہلے مرحلے کی تکمیل ہے۔ اس معاہدے کے تحت وزارت داخلہ مرحلہ وار جیلوں اور حراستی مراکز کی انتظامی ذمہ داری سنبھالے گی۔
معاہدے کے مطابق ایس ڈی ایف کے جنگجوؤں کو الرقہ سے محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے، جن میں خاص طور پر کوبانی (عین العرب) کا علاقہ شامل ہے۔

ترکی میں خوشی کی لہر

دوسری جانب اس پیش رفت پر ترکی میں جشن کا ماحول دیکھا جا رہا ہے۔ انقرہ حکومت طویل عرصے سے کرد قیادت والے مسلح گروہوں کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتی رہی ہے۔
ترکی کا مؤقف ہے کہ ایس ڈی ایف، کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے منسلک یا اس کی حمایت یافتہ ہے، جس کے خلاف ترکی گزشتہ کئی دہائیوں سے برسرِ پیکار ہے۔ اس تنازعے میں اب تک دسیوں ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

انقرہ کے علاقائی مقاصد کو تقویت

سیاسی و عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق شامی ڈیموکریٹک فورسز کی پسپائی اور شامی حکومت کی پیش قدمی انقرہ کے علاقائی اہداف کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ ترکی طویل عرصے سے شام کے شمالی علاقوں میں کرد عسکری و سیاسی اثر و رسوخ کے خاتمے کا خواہاں رہا ہے، اور حالیہ پیش رفت اس سمت میں ایک اہم موڑ قرار دی جا رہی ہے۔

خطے میں طاقت کا نیا توازن

ماہرین کا کہنا ہے کہ العقطان جیل کا شامی حکومت کے کنٹرول میں آنا نہ صرف داعش قیدیوں کے مستقبل کے حوالے سے اہم ہے بلکہ یہ شمالی شام میں طاقت کے توازن میں بھی بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
ایس ڈی ایف کی کمزوری اور شامی حکومت کی مضبوط ہوتی گرفت سے یہ خدشات بھی جنم لے رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں مزید علاقوں میں کنٹرول کی کشمکش شدت اختیار کر سکتی ہے۔

نتیجہ

الرقہ میں العقطان جیل پر شامی حکومت کا کنٹرول اور کرد فورسز کی پسپائی خطے کی سیاست اور سلامتی کے منظرنامے میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ جہاں ترکی اس پیش رفت کو اپنی اسٹریٹجک کامیابی قرار دے رہا ہے، وہیں اس کے اثرات شام کے اندرونی حالات، داعش قیدیوں کے مستقبل اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے نئے توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ آنے والے دن اس تبدیلی کے حقیقی مضمرات کو مزید واضح کریں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button