پاکستانتازہ ترین

پاکستان، صومالیہ کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری معاہدہ

دوطرفہ تعلقات اور سلامتی تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان اور صومالیہ نے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جبکہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
یہ پیش رفت صدر مملکت آصف علی زرداری اور صومالیہ کے وزیر داخلہ مسٹر علی یوسف کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ ملاقات میں صدر آصف علی زرداری نے صومالیہ کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ افریقہ عالمی جغرافیائی سیاسی منظرنامے میں ایک اہم مقام رکھتا ہے اور پاکستان صومالیہ سمیت افریقی ریاستوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان صومالیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مشترکہ مفاد کے شعبوں میں قریبی تعاون کی حمایت کرتا ہے۔
پاکستان اور صومالیہ کے درمیان سفارتی پاسپورٹ معاہدے پر صومالیہ کی وزارت خارجہ و بین الاقوامی تعاون کے مستقل سیکرٹری حمزہ عدن ہادو اور پاکستان کی وزارت داخلہ و انسداد منشیات کے خصوصی سیکرٹری مسٹر داؤد محمد بڑیچ نے دستخط کیے۔
صدر زرداری کو آگاہ کیا گیا کہ صومالی وزیر داخلہ کا یہ دورہ گزشتہ 35 برسوں میں صومالیہ کی جانب سے پاکستان کا پہلا دوطرفہ سرکاری دورہ ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ملاقات کے دوران صدر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان بین الاقوامی جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف علاقائی اور عالمی کوششوں کے لیے پُرعزم ہے۔ فریقین نے وسیع تر علاقائی و عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور دوطرفہ تعاون کے مواقع پر بھی گفتگو کی۔
صومالی وزیر داخلہ مسٹر علی یوسف نے دورہ پاکستان کے دوران پرتپاک مہمان نوازی پر حکومت پاکستان، بالخصوص وزارت داخلہ، کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے وزیر داخلہ کی دعوت پر پاکستان آئے ہیں اور صدر مملکت اور پاکستانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
انہوں نے صومالیہ کے صدر کی جانب سے صدر آصف علی زرداری کے نام ایک خط بھی پیش کیا، جس میں مبارکباد، نیک خواہشات اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اعادہ کیا گیا۔
صومالی وزیر نے 1990 کی دہائی میں صومالیہ میں اقوام متحدہ کے مشن کے دوران پاکستانی امن دستوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستان کو صومالیہ کی آزادی کے بعد سے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار اور برادر ملک قرار دیا۔
ملاقات کے دوران فریقین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فوجداری انصاف کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس ضمن میں دوطرفہ حوالگی معاہدے، فوجداری معاملات میں باہمی قانونی معاونت اور سزا یافتہ افراد کی منتقلی کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔
دونوں ممالک نے انسداد منشیات کی کوششوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا، جس میں منشیات کی اسمگلنگ اور منظم جرائم کے خلاف مشترکہ اقدامات، معلومات اور انٹیلی جنس کے تبادلے، اور اہلکاروں کی تربیت شامل ہے۔
صدر مملکت کو بتایا گیا کہ پاکستان نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ذریعے ایڈوانسڈ شناختی مینجمنٹ، سول رجسٹریشن اور محفوظ دستاویزات کے نظام کے حوالے سے صومالیہ کو تعاون کی پیشکش کی ہے، جبکہ صومالی پولیس فورس کی تربیت میں بھی مدد فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات محسن رضا نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ و انسداد منشیات طلال چوہدری بھی موجود تھے، جبکہ صومالی وفد میں پاکستان میں صومالیہ کے سفیر مسٹر شیخ نور محمد حسن اور ڈپٹی پولیس چیف مسٹر عثمان عبداللہی شامل تھے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button