
رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان آج داخلی طور پر دو اہم محاذوں پر جنگ لڑ رہا ہے۔ ایک طرف دہشت گردی کی لہر بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں تشویش کی گھنٹیاں بجا رہی ہے، جب کہ دوسری طرف ایک اور زیادہ پیچیدہ اور خطرناک محاذ، یعنی نیریٹو وار، ملک کے داخلی استحکام کو چیلنج کر رہا ہے۔ یہ جنگ گولیوں اور بموں سے نہیں بلکہ "سوشل میڈیا پوسٹس”، "وائرل ویڈیوز”، اور "ٹرینڈز” کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔
اس جنگ کا مقصد محض باتیں کرنا یا نظریات کا اظہار کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ جنگ ایک مکمل نیریٹو کی تشکیل کے لیے ہے جس کا مقصد ریاست کے خلاف شک، نفرت اور بے اعتمادی پیدا کرنا ہے۔ اس میں انفرادی بیانات، مخصوص پوسٹس، اور بعض شخصیات کا کردار خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال ایمان مزاری کا معاملہ ہے، جنہیں ان کے سوشل میڈیا بیانات اور پوسٹس پر شدید ریاستی اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا۔
ایمان مزاری اور ریاستی اعتراضات
ایمان مزاری، جو ایک معروف سیاسی شخصیت ہیں، ان کی بعض سوشل میڈیا پوسٹس اور بیانات پر ریاستی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ ان کے خیالات اور بیانیے کی کئی مقامات پر تنقید کی گئی، اور بعض اداروں نے ان بیانیوں کو "hostile” اور "proscribed” بیانیے کے طور پر قرار دیا۔ لیکن یہاں مسئلہ صرف اختلافِ رائے کا نہیں ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ جب ریاست کو "ٹارچر سیلز”، "جبری گمشدگیاں”، اور "دہشت گرد ریاست” جیسے فریم ورک میں پیش کیا جاتا ہے، تو یہ صرف ایک رائے نہیں رہتی، بلکہ یہ ایک ایسا بیانیہ بن جاتا ہے جو دشمن ممالک کے مفاد میں آتا ہے۔
پاکستان میں بولنے کی آزادی ہے، اور جمہوریت میں تنقید ایک اہم پہلو ہے، مگر ریاستی اداروں اور ملک کے خلاف اس طرح کے بیانیے کا بننا، جو دشمن طاقتوں کو تقویت دے، ایک خطرہ بن سکتا ہے۔ ریاستی ادارے اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ایسے بیانیے ملک کی سلامتی، استحکام اور خودمختاری کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
BYC احتجاج اور بین الاقوامی سطح پر تنازعہ
ایمان مزاری کا نام نہ صرف داخلی سطح پر زیرِ بحث آیا، بلکہ ان کا کردار ایک اہم احتجاجی کیس، یعنی BYC (بلاوجہ یوتھ کمیونٹی) کے حوالے سے بھی سامنے آیا، جس میں عدالتوں میں قانونی کارروائی، ضمانتوں اور حقوق کے معاملات پر بات کی گئی۔ تاہم، اس کیس نے نہ صرف قومی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے ساتھ کشیدگی پیدا کی، خاص طور پر جب ناروے کے سفیر کی ایک عدالتی سماعت میں موجودگی نے سفارتی سطح پر نیا تنازعہ کھڑا کیا۔
پاکستان نے اس پر باقاعدہ طور پر سفارتی احتجاج کیا، اور اس معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ معاملہ صرف "ایک فرد” یا "ایک پوسٹ” کا نہیں، بلکہ یہ ایک منظم سافٹ پاور وار کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستان کے داخلی استحکام کو متاثر کرنا ہے۔
نیریٹو وار: قومی مفاد کے خلاف
پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور عالمی تعلقات کے تناظر میں یہ بات اہم ہے کہ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ یہ نیریٹو وار صرف ایک داخلی یا سوشل میڈیا جنگ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک وسیع تر عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف چلنے والی ایک جنگ کا حصہ ہے۔ ریاست کو کمزور کرنے والے بیانیے اور اداروں کو نشانہ بنانے والی زبان اس جنگ کا بنیادی حصہ ہیں۔ پاکستان کے قومی مفاد کے خلاف چلنے والی اس جنگ میں، قوم کو ہوشیار رہنا ہوگا اور اپنے اتحاد اور اتفاق کو مضبوط کرنا ہوگا۔
سوشل میڈیا: جدید جنگ کا میدان
یہ نیریٹو وار سوشل میڈیا کے ذریعے زیادہ شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا ایک طاقتور آلہ ہے جو عوامی رائے اور خیالات کو شکل دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن جب اس طاقت کا استعمال ریاست کے خلاف پروپیگنڈا اور جھوٹے بیانیوں کو پھیلانے کے لیے کیا جائے، تو اس کا اثر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلے بھی ایسے مواقع آئے ہیں جب دشمن ممالک نے سوشل میڈیا اور مختلف نیریٹوز کا استعمال کرکے ملک کے خلاف جنگیں لڑی ہیں، اور اس وقت بھی یہی خطرہ موجود ہے کہ نیریٹو وار کے ذریعے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کی جائے۔
قوم کا اتحاد اور ہوشیاری
پاکستان میں بولنے کی آزادی اور تنقید کی اجازت جمہوریت کا حصہ ہیں، مگر اس آزادی کا غلط استعمال اور اس کے ذریعے ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا ایک خطرناک راستہ ہو سکتا ہے۔ قوم کو یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ ایک نیریٹو وار ہے، جس میں پاکستان کو مضبوط، متحد اور ہوشیار رہنا ہے۔ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنے نظریات اور بیانیوں میں توازن قائم کرنا ہوگا تاکہ یہ جنگ کسی بھی صورت میں ہمارے مفاد کے خلاف نہ جائے۔
آخرکار، یہ جنگ نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم پیغام رکھتی ہے کہ سوشل میڈیا اور نیریٹو وار کی طاقت کا استعمال کس طرح ملکوں کے استحکام اور سلامتی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ہمیں اپنے داخلی اتحاد کو برقرار رکھنا ہوگا اور سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کرتے ہوئے قومی مفاد کا تحفظ کرنا ہوگا۔



