
شام میں سیزفائر قائم مگر شہری خوف اور بے چینی کے شکار
عرب اکثریتی الرقہ اور دیر الزور جیسے علاقوں میں مقامی لوگوں نے ایس ڈی ایف کی پسپائی پر خوشی کا اظہار کیا ہے
اے پی کے ساتھ
عرب اکثریتی الرقہ اور دیر الزور جیسے علاقوں میں مقامی لوگوں نے ایس ڈی ایف کی پسپائی پر خوشی کا اظہار کیا ہے کیونکہ وہ اس گروہ کی حکمرانی سے نالاں تھے۔ ان علاقوں سے ہزاروں کرد باشندے نقل مکانی کر گئے ہیں، جبکہ کرد اکثریتی علاقوں میں رہنے والے غیر کرد افراد اب بھی اُن علاقوں میں موجود ہیں، جو اب بھی ایس ڈی ایف کے کنٹرول میں ہیں۔ مہاجرت کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد 173,000 سے تجاوز کر چکی ہے۔
مسلسل بے گھر ہونے کی کہانی
الرقہ سے نقل مکانی کے بعد صبحی حنان ایک بار پھر اپنے خاندان کے ساتھ بے یار و مددگار حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ اپنی اہلیہ، تین بچوں اور والدہ کے ہمراہ سرد موسم میں قائم ایک اسکول کی عمارت میں مقیم ہیں، جو اس وقت ایس ڈی ایف کے زیرِ کنٹرول شہر قامشلی میں واقع ہے۔

جنگ، ہجرت اور صدمات
سابق صدر بشار الاسد کے دور میں برسوں جاری رہنے والی خانہ جنگی کے باعث اس خاندان کو پہلے ہی سے نقل مکانی کے تجربات سے گزرنا پڑا ہے۔ 2018 میں وہ ترکی کے حمایت یافتہ باغیوں کے حملے کے دوران اپنے آبائی شہر عفرین سے بے گھر ہوئے تھے۔ پانچ سال بعد صبحی حنان بارودی سرنگ کا شکار ہوئے اور اپنے دونوں پاؤں کھو بیٹھے۔ دسمبر 2024 میں ہونے والی اُس بغاوت کے دوران، جس کے نتیجے میں اسد اقتدار سے ہٹ گئے، حنّان کا خاندان دوبارہ ہجرت پر مجبور ہوا اور وہ الرقہ پہنچ گئے۔
راستے میں پیش آنے والے واقعات
صبحی حنّان کے مطابق اس ماہ اپنی تازہ ترین نقل مکانی کے دوران ان کے قافلے کو سرکاری فورسز نے راستے میں روک لیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ سرکاری اہلکاروں نے ان کے ساتھ موجود ایس ڈی ایف کے جنگجوؤں کی اکثریت کو گرفتار اور ایک کو ہلاک کر دیا۔ حنان نے مزید بتایا کہ اہلکار ان کا پیسہ اور موبائل فون لے گئے اور وہ گاڑی بھی ضبط کر لی، جس میں ان کا خاندان سفر کر رہا تھا۔ حنان نے کہا، ”میری عمر 42 سال ہے، لیکن میں نے زندگی میں ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا۔ میرے دونوں پاؤں کٹے ہوئے ہیں، پھر بھی وہ مجھے مار رہے تھے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اب ان کی بس ایک ہی خواہش ہے،” صرف امن اور استحکام چاہیے،چاہے یہاں ملے یا کہیں اور۔‘‘
عینی شاہدین کی تصدیق
قافلے میں شامل ایک اور خاندان کے سربراہ خلیل ایبو نے بھی اس جھڑپ اور سرکاری فورسز کی جانب سے لوٹ مار کی تصدیق کی۔ ان کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ان کے دو بیٹے زخمی ہوئے۔

حکومتی موقف
شام کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں اس ماہ کی کارروائی کے دوران اپنی فورسز کی جانب سے ”قانون اور فوجی ضابطوں کی خلاف ورزی کے متعدد واقعات‘‘ کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔
شام کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ اس ماہ کی کارروائی کے دوران اس کی فورسز نے ”قائم شدہ قوانین اور تادیبی ضابطوں کی متعدد خلاف ورزیاں‘‘ کی ہیں اور وزارت کے مطابق ان خلاف ورزیوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
گزشتہ تشدد سے مختلف صورتحال
اس بار حکومت اور ایس ڈی ایف کے درمیان جھڑپوں میں شہریوں کے خلاف رپورٹ ہونے والے تشدد کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں خاصی کم رہی ہے۔
گزشتہ برس شام کے ساحلی علاقوں اور جنوبی صوبہ السویداء میں ہونے والی جھڑپوں میں علوی اور دروز اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں شہری انتقامی حملوں میں مارے گئے تھے، جن میں سے بیشتر حملے حکومت سے وابستہ جنگجوؤں کی جانب سے کیے گئے تھے۔ اس بار صورتحال کچھ مختلف رہی۔ سرکاری افواج نے کرد اور دیگر شہریوں کے انخلا کے لیے متعدد علاقوں میں ”انسانی راہداریاں‘‘ کھولیں۔

دوسری طرف حکومت کے زیرِ قبضہ آنے والے زیادہ تر علاقے عرب اکثریتی تھے، جہاں کی مقامی آبادی نے حکومتی پیش قدمی کا خیر مقدم کیا۔
جنگ بندی کی ایک اہم شرط یہ بھی ہے کہ سرکاری فورسز کرد اکثریتی شہروں اور قصبوں میں داخل نہیں ہوں گی۔ اس کے باوجود کرد آبادی والے ان علاقوں کے رہائشیوں میں خوف اور بے یقینی برقرار ہے۔



