کاروبارتازہ ترین

امریکہ کے ساتھ ’’گرینڈ مدر آف آل ڈیلز‘‘ پاکستان کے لیے تاریخی گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے، ابراہیم مراد

امریکا اور چین کے تعاون سے 100 ارب ڈالر برآمدات، ویتنام ماڈل اپنا کر پاکستان عالمی مینوفیکچرنگ حب بن سکتا ہے

قاسم بخاری-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

لاہور: سابق صوبائی وزیر ابراہیم مراد نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مجوزہ ’’گرینڈ مدر آف آل ڈیلز‘‘ پاکستان کے لیے ایک تاریخی گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے، جو ملکی معیشت کو نئی سمت دینے اور برآمدات میں غیر معمولی اضافے کا باعث بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان امریکا اور چین دونوں کے ساتھ متوازن اور دانشمندانہ معاشی تعاون کو فروغ دے تو ملک 100 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کر سکتا ہے۔

اپنے ایک بیان میں ابراہیم مراد نے کہا کہ عالمی معاشی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور پاکستان کے پاس یہ ایک نادر موقع ہے کہ وہ خود کو علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک مضبوط معاشی کھلاڑی کے طور پر منوائے۔ انہوں نے زور دیا کہ ویتنام ماڈل کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان اپنی صنعتی اور برآمدی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتا ہے۔


ویتنام ماڈل، صنعتی ترقی اور عالمی منڈیوں تک رسائی

سابق صوبائی وزیر نے کہا کہ ویتنام نے درست پالیسی سازی، سرمایہ کار دوست ماحول اور عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات کے ذریعے عالمی برآمدات میں نمایاں مقام حاصل کیا، اور پاکستان بھی اسی ماڈل کو اپنا کر تیز رفتار ترقی کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، نوجوان افرادی قوت اور صنعتی صلاحیتیں اسے عالمی سپلائی چین کا اہم حصہ بنا سکتی ہیں۔


عالمی معیشت اور پاکستان کے لیے مواقع

ابراہیم مراد نے عالمی معاشی حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت چین عالمی مینوفیکچرنگ کا تقریباً 32 فیصد کنٹرول کر رہا ہے، جس کی مالیت تقریباً 6 ٹریلین ڈالر بنتی ہے، جبکہ یورپی یونین کی مجموعی معیشت 22 ٹریلین ڈالر اور امریکا کی جی ڈی پی تقریباً 31 ٹریلین ڈالر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان ان بڑی معیشتوں کے ساتھ موثر تجارتی اور صنعتی روابط قائم کر لے تو برآمدات اور سرمایہ کاری میں بے مثال اضافہ ممکن ہے۔


سپیشل اکنامک زونز اور سرمایہ کاری کے امکانات

سابق صوبائی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے سپیشل اکنامک زونز اور ملکی کاروباری طبقہ مشترکہ منصوبوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ توانائی کے مسائل، ریگولیٹری پیچیدگیوں اور ٹیرف رکاوٹوں کو دور کر دیا جائے تو سرمایہ کاری کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کو طویل المدتی پالیسی فریم ورک فراہم کرے تاکہ انہیں اعتماد حاصل ہو اور وہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کریں۔


درست پالیسی سازی سے پاکستان علاقائی مینوفیکچرنگ حب بن سکتا ہے

ابراہیم مراد نے اس امید کا اظہار کیا کہ درست اور بروقت پالیسی سازی کے ذریعے پاکستان نہ صرف اپنی معیشت کو مستحکم کر سکتا ہے بلکہ خطے کا ایک اہم مینوفیکچرنگ حب بھی بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس وہ تمام وسائل موجود ہیں جن کی مدد سے وہ عالمی منڈی میں مضبوط مقام حاصل کر سکتا ہے، ضرورت صرف وژن، مستقل مزاجی اور پالیسیوں کے تسلسل کی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button