
انصار ذاہد سیال-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان نے نپاہ وائرس کی ممکنہ سرحد پار منتقلی کو روکنے کے لیے ملک کے تمام داخلی مقامات پر بدھ کے روز فوری طور پر "سخت اور بہتر صحت کی نگرانی” نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد نپاہ وائرس کی بروقت نشاندہی، روک تھام اور کسی بھی ممکنہ پھیلاؤ کو مؤثر انداز میں کنٹرول کرنا ہے۔
نپاہ وائرس ایک خطرناک زونوٹک بیماری ہے جو بنیادی طور پر پھلوں کے چمگادڑوں اور جانوروں، خصوصاً خنزیروں کے ذریعے پھیلتی ہے۔ یہ وائرس انسانوں میں دماغی سوجن (Encephalitis) کا باعث بننے والا مہلک بخار پیدا کر سکتا ہے اور قریبی رابطے کے ذریعے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہو سکتا ہے۔ اگرچہ اس وائرس کے خلاف متعدد ویکسین زیرِ تیاری ہیں، تاہم تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں۔
ڈبلیو ایچ او کی جانب سے نپاہ وائرس کو ترجیحی پیتھوجین قرار
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) نے نپاہ وائرس کو ایک ترجیحی پیتھوجین قرار دے رکھا ہے، جس کی وجہ اس کی تیز رفتار وبا پھیلانے کی صلاحیت، 40 سے 75 فیصد تک اموات کی شرح، اور مؤثر علاج یا ویکسین کی عدم دستیابی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر اس وائرس کو ایک سنگین صحتِ عامہ کا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
پاکستانی حکام کی جانب سے کیے گئے یہ اقدامات ان حفاظتی تدابیر کے مطابق ہیں جو اس سے قبل سنگاپور، ہانگ کانگ، تھائی لینڈ اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک نے اس وقت نافذ کیے تھے جب بھارت میں گزشتہ سال دسمبر کے دوران نپاہ وائرس کے دو کیسز کی تصدیق ہوئی تھی۔
بارڈر ہیلتھ سروسز پاکستان کی ایڈوائزری جاری
اس حوالے سے بارڈر ہیلتھ سروسز-پاکستان (BHS-P)، جو وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ کاری کا ذیلی ادارہ ہے، نے ایک باضابطہ ایڈوائزری جاری کی۔ ایڈوائزری میں عالمی اور علاقائی صحتِ عامہ کی نگرانی کے نظام، بشمول WHO جنوب مشرقی ایشیا ریجن ایپیڈیمولوجیکل بلیٹن، کی رپورٹس کا حوالہ دیا گیا ہے۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ مغربی بنگال، بھارت میں نپاہ وائرس کے مشتبہ کیسز اور اس کی بلند امواتی شرح، زونوٹک نوعیت اور انسان سے انسان میں منتقلی کے امکانات کے باعث پاکستان کی سرحدوں پر حفاظتی اور نگرانی کے اقدامات کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہو گیا ہے۔
تمام داخلی مقامات پر سخت نگرانی بغیر کسی رعایت کے نافذ
ایڈوائزری کے مطابق پاکستان میں نپاہ وائرس کی سرحد پار منتقلی کو روکنے، بروقت تشخیص اور فوری ردعمل کو یقینی بنانے کے لیے مجاز اتھارٹی نے داخلے کے تمام مقامات پر سخت اور بہتر صحت کی نگرانی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ہدایات بین الاقوامی ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور تمام زمینی و سرحدی کراسنگ پوائنٹس پر بغیر کسی رعایت کے لاگو ہوں گی۔
100 فیصد اسکریننگ اور ہیلتھ کلیئرنس لازمی
ایڈوائزری میں ہدایت کی گئی ہے کہ داخلی مقامات پر تعینات تمام انچارج افسران اس بات کو یقینی بنائیں کہ آنے والے تمام مسافروں، ٹرانزٹ مسافروں، عملے کے ارکان، ڈرائیوروں، مددگاروں اور معاون عملے کی 100 فیصد اسکریننگ کی جائے۔
BHS-P کی جانب سے ہیلتھ کلیئرنس کے بغیر کسی فرد کو پاکستان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
نئے اقدامات کے تحت ہر مسافر کے اصل ملک کی لازمی تصدیق اور گزشتہ 21 دنوں کی مکمل سفری اور ٹرانزٹ ہسٹری کی جانچ پڑتال کی جائے گی، چاہے مسافر کی قومیت یا سفری حیثیت کچھ بھی ہو۔
متاثرہ یا ہائی رسک علاقوں سے آنے والوں پر خصوصی نظر
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ داخلی مقامات پر موجود افسران نپاہ وائرس سے متاثرہ یا زیادہ خطرے والے علاقوں سے آنے یا وہاں سے گزرنے والے مسافروں کے لیے خصوصی چوکسی اختیار کریں گے۔
سفری تاریخ کے کسی بھی جھوٹے بیان، چھپانے یا غلط رپورٹنگ کو فوری طور پر دستاویزی شکل دے کر متعلقہ مجاز حکام کو رپورٹ کیا جائے گا۔
تھرمل اسکریننگ اور طبی جانچ لازمی
تمام مسافروں کو داخلی مقامات پر تھرمل اسکریننگ اور طبی معائنے سے گزرنا ہوگا۔ اسکریننگ عملہ نپاہ وائرس کی ابتدائی علامات، جیسے بخار، سر درد، سانس کی علامات اور اعصابی علامات بشمول الجھن، غنودگی یا شعور میں تبدیلی، پر خاص نظر رکھے گا۔
مشتبہ کیسز کی فوری آئسولیشن اور منتقلی
نپاہ وائرس کے مشتبہ کیس کی تعریف پر پورا اترنے والے کسی بھی فرد کو داخلی مقام پر فوری طور پر الگ تھلگ کر دیا جائے گا، اس کی مزید نقل و حرکت پر پابندی ہوگی اور انفیکشن کی روک تھام و کنٹرول (IPC) پروٹوکول کے تحت سختی سے انتظام کیا جائے گا۔
ایڈوائزری کے مطابق ایسے مشتبہ افراد کو فوری طور پر نامزد آئسولیشن سہولت یا تیسرے درجے کے نگہداشت ہسپتال منتقل کیا جائے گا، جبکہ صوبائی اور ضلعی صحت حکام کے ساتھ مکمل رابطہ رکھا جائے گا۔ منظور شدہ ایس او پیز کے تحت متعلقہ طیارے، جہاز، گاڑی اور آس پاس کے علاقوں کو فوری طور پر جراثیم سے پاک کیا جائے گا۔
آئی پی سی اقدامات کی سخت پابندی کی ہدایت
انٹری پوائنٹس کے انچارج افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ انفیکشن کی روک تھام و کنٹرول کے تمام اقدامات، بشمول ذاتی حفاظتی سامان (PPE)، ہاتھوں کی صفائی اور ماحول کی جراثیم کشی، پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ نگرانی یا آئی پی سی اقدامات میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کو سنگین لاپرواہی تصور کیا جائے گا۔
روزانہ رپورٹس اور زیرو رپورٹنگ لازمی
ایڈوائزری کے مطابق تمام داخلی مقامات سے روزانہ کیس یا زیرو کیس رپورٹس BHS-P کے موجودہ نظام میں درج کی جائیں گی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (NCOC) اور نیشنل انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشن فوکل پوائنٹ کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔
کسی بھی قسم کی تاخیر، کمزور نگرانی، کم رپورٹنگ یا ہدایات کی عدم تعمیل کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
این آئی ایچ کی جانب سے بھی الرٹ جاری
علیحدہ طور پر، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) نے بھی صوبائی محکمۂ صحت، صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والے اداروں اور بارڈر ہیلتھ سروسز پاکستان کے لیے نپاہ وائرس کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا ہے، تاکہ ملک بھر میں بروقت تشخیص، رپورٹنگ اور ردعمل کو یقینی بنایا جا سکے۔



