
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں حالیہ منظم عسکریت پسند حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز کی فوری اور مؤثر کارروائیوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ریاست کی جنگ جاری رہے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
بلوچستان میں بیک وقت حملے، صوبہ ایک بار پھر نشانے پر
ہفتے کے روز بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلح علیحدگی پسندوں نے ایک منظم حکمت عملی کے تحت بیک وقت حملے کیے، جنہوں نے صوبے میں ایک بار پھر امن و امان کی صورتحال کو شدید متاثر کیا۔ ان حملوں میں کم از کم 10 سکیورٹی اہلکار اور 11 مقامی شہری جاں بحق ہو گئے، جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
سکیورٹی حکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد صوبے میں خوف و ہراس پھیلانا، ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا اور ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کرنا تھا۔
سکیورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی، درجنوں دہشت گرد ہلاک
سکیورٹی فورسز نے حملوں کے فوری بعد بڑے پیمانے پر جوابی کارروائیاں شروع کیں، جن کے نتیجے میں کم از کم 67 عسکریت پسند ہلاک کر دیے گئے۔ حکام کے مطابق گزشتہ دو دنوں میں مختلف آپریشنز کے دوران ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی کل تعداد 108 سے تجاوز کر گئی ہے۔
فورسز نے کلیئرنس آپریشنز کے دوران متعدد علاقوں کو دہشت گردوں سے خالی کرا لیا جبکہ سرچ آپریشنز تاحال جاری ہیں۔
کوئٹہ میں خوف و ہراس، موبائل اور ٹرین سروس معطل
کوئٹہ میں موجود نامہ نگار کے مطابق حملوں کے دوران صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے باعث شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ سڑکیں سنسان ہو گئیں، موبائل فون سروس عارضی طور پر معطل کر دی گئی جبکہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ٹرین سروس بھی روک دی گئی۔
شہر کے مختلف حصوں میں اضافی سکیورٹی نفری تعینات کر دی گئی اور اہم تنصیبات کی حفاظت مزید سخت کر دی گئی۔
صورتحال حکومتی کنٹرول میں ہے، سکیورٹی حکام
کوئٹہ میں تعینات سینئر سکیورٹی اہلکار نوید حیدر نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
’’یہ حملے ایک منظم منصوبے کے تحت غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش ہیں، تاہم اس وقت حالات مکمل طور پر حکومتی کنٹرول میں ہیں۔ امن و امان کی بحالی کے لیے اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور سکیورٹی فورسز چوکس ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ریاست دشمن عناصر کو کسی صورت اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
وزیراعظم کا دو ٹوک پیغام: کوئی رعایت نہیں دی جائے گی
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ سکیورٹی فورسز نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ ہر قسم کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک ریاستی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
قبائلی رہنما کی صوبائی حکومت پر تنقید
دوسری جانب معروف قبائلی رہنما وڈیرہ خدا بخش مری نے بلوچستان میں بگڑتی صورتحال پر صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا:
’’بلوچستان کے حالات موجودہ صوبائی حکومت کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ سب سے پہلے ان عناصر کا احتساب ہونا چاہیے جو اس تباہی کے ذمہ دار ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جاری بحران محض ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف ایک کثیر جہتی جنگ ہے، جس کا مقابلہ صرف عسکری طاقت سے نہیں بلکہ قومی اتحاد، مؤثر سفارت کاری اور انفارمیشن وارفیئر کے ذریعے ممکن ہے۔
کلیئرنس آپریشن جاری، مغوی افسر اور قیدیوں کی تلاش
حکام کے مطابق صوبے کے کئی علاقوں میں تاحال سکیورٹی کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اغوا کیے گئے ضلعی ڈپٹی کمشنر اور جیل سے چھڑائے گئے قیدیوں کی تلاش کے لیے بھی خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ تمام ذمہ دار عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
نتیجہ
بلوچستان میں حالیہ واقعات نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ صوبہ ایک پیچیدہ سکیورٹی چیلنج سے دوچار ہے، تاہم ریاستی ادارے دہشت گردی کے خلاف مکمل یکجہتی اور عزم کے ساتھ برسرپیکار ہیں۔ حکومت اور سکیورٹی فورسز نے واضح کر دیا ہے کہ امن کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔



