انٹرٹینمینٹتازہ ترین

اروندھتی رائے کا برلن فلم فیسٹیول سے دستبرداری کا اعلان

ہمیں سیاست سے باہر رہنا ہوگا,اگر ہم گہرے سیاسی موضوعات پر فلمیں بنائیں تو ہم سیاست کے میدان میں داخل ہوجاتے ہیں،

روئٹرز کے ساتھ

برلینالے فلم فیسٹیول کی جیوری کے سربراہ کے ان ریمارکس پر کہ ’’ ہمیں سیاست سے باہر رہنا ہوگا‘‘ بھارت کی معروف ادیب اروندھتی رائے نے برلن فلم فیسٹیول سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔

پاکستان میں مداحوں سے ملنا میرا خواب ہے، تلوتما شوم

اروندھتی رائے نے، جنہیں 1997 میں اپنی شہرۂ آفاق ناول ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘  پر بکر پرائز ملا تھا، ایک بیان میں کہا کہ وہ امسالہ   ’’حیران اور ناراض‘‘ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فن کو سیاست سے الگ رکھنے کی بات تخلیقی آزادی کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔

وِم وینڈرز کے ریمارکس

جمعرات کے روز وِم وینڈرز سے جب جرمن حکومت کے غزہ پر مؤقف کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا تھا،” ہمیں سیاست سے باہر رہنا ہوگا۔ اگر ہم گہرے سیاسی موضوعات پر فلمیں بنائیں تو ہم سیاست کے میدان میں داخل ہوجاتے ہیں، لیکن ہمارا کردار سیاست کے مقابل ایک توازن قائم رکھنے والے کا ہونا چاہیے۔‘‘

76ویں برلینالے کی افتتاحی تقریب کے دوران جیوری کے اراکین گروپ فوٹو بنواتے ہوئے
دیگر اہم فیسٹیولز، جیسے وینس اور کان کے مقابلے میں زیادہ سیاسی رجحانات رکھنے والا برلینالے گزشتہ کئی ماہ سے فلسطین کے حامی کارکنوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنتا رہا ہےتصویر: Ronny Hartmann/AFP

انہوں نے مزید کہا، ”ہمیں لوگوں کا کام کرنا ہے، سیاست دانوں کا نہیں۔‘‘

دستبرداری کی وجوہات

اروندھتی رائے نے وِم وینڈرز کے تبصروں کو ”ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے بھارتی جریدے ‘دی وائر‘  میں شائع ہونے والے اپنے بیان میں کہا، ”یہ سن کر واقعی حیرت ہوتی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ فن سیاسی نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ”یہ انسانیت کے خلاف ایک ایسے جرم پر مکالمہ روکنے کا طریقہ ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے حقیقی وقت میں پیش آ رہا ہے، جب کہ فن کاروں، ادیبوں اور فلم سازوں کو اسے روکنے کے لیے اپنی پوری طاقت کا استعمال کرنا چاہیے۔‘‘

برلینالے فلم فیسٹیول کی جیوری کے سربراہ   وِم وینڈرز برلینالے 2026 کی افتتاحی تقریب  کے دوران
روز وِم وینڈرز سے جب جرمن حکومت کے غزہ پر مؤقف کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا تھا،’’ ہمیں سیاست سے باہر رہنا ہوگاتصویر: Markus Schreiber/AP Photo/picture alliance

اُدھر برلینالے فیسٹیول کے منتظمین نے ایک ای میل  بیان میں کہا، ”برلینالے رائے  کے فیصلے کا احترام کرتا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ”ہمیں افسوس ہے کہ ہم ان کا استقبال نہیں کر سکیں گے، کیونکہ ان کی موجودگی فیسٹیول کی بحث کو مزید بامقصد بنا دیتی۔‘‘

اُدھر پولینڈ کی فلم پروڈیوسر ایوا پوزنسکا نے، جو جیوری کی ایک رکن بھی ہیں، کہا کہ ججوں سے بطور ایک باڈی جرمنی کے غزہ جنگ پر حکومتی موقف کے بارے میں پوچھنا ”منصفانہ عمل نہیں‘‘ تھا۔

 اروندھتی رائے کی  دستبرداری کی اہمیت

برلینالے فلم فیسٹیول سے رائے کا دستبردار ہونا غزہ جنگ  کے باعث دنیا بھر میں پیدا ہونے والی شدید تقسیم کی تازہ مثال ہے۔

اروندھتی رائے کی کتاب ’’آزادی‘‘ کا سر ورق

اروندھتی رائے بھارت کی معروف ادیب اور بُکر پرائز یافتہ مصنفہ ، ناول نگار اور ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ بھی ہیں

دیگر اہم فیسٹیولز، جیسے وینس اور کان کے مقابلے میں زیادہ سیاسی رجحانات رکھنے والا برلینالے گزشتہ کئی ماہ سے فلسطین کے حامی کارکنوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنتا رہا ہے، کیونکہ فیسٹیول نے غزہ کے معاملے پر کوئی واضح  مؤقف اختیار نہیں کیا۔

برلینالے ٹیلنٹ پروگرام میں پاکستانی فلم ساز خواتین بھی شامل

یہ تنقید اس پس منظر میں اور بھی بڑھ گئی ہے کہ یوکرین کی جنگ اور ایران کی صورتِ حال پر فیسٹیول نے نسبتاً زیادہ کھل کر ردِعمل ظاہر کیا تھا، جہاں اطلاعات کے مطابق سرکاری فورسز کے ہاتھوں ہزاروں حکومت مخالف مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button