تازہ ترینپاکستان پریس ریلیز

وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت خصوصی اجلاس،محنت کشوں کیلئے بڑی خوشخبری،پولیس اہلکاروں کیلئے باڈی کیم

ان اقدامات کو عوامی، سماجی اور مزدور حلقوں کی جانب سے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے

 سید عاطف ندیم-پاکستان،پنجاب گورنمنٹ کے ساتھ

پنجاب حکومت نے محنت کش طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے ایک بڑا اور تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے امدادی رقم 3 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے کر دی ہے۔ محکمہ سوشل سکیورٹی نے صوبہ بھر میں رجسٹرڈ محنت کشوں کو 10 ہزار روپے فراہم کرنے کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا ہے۔ یہ اقدام رمضان نگہبان پیکیج کے تحت مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر کیا جا رہا ہے۔


مریم نواز راشن کارڈ کے ذریعے 12 لاکھ سے زائد ورکرز مستفید

رمضان نگہبان پیکیج کے تحت مریم نواز راشن کارڈ کے ذریعے صوبہ بھر میں 12 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ورکرز کو 10 ہزار روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس پیکیج کی خاص بات یہ ہے کہ محنت کش ماہِ رمضان کے دوران اپنی ضرورت کے مطابق 10 ہزار روپے کا راشن یا نقد رقم حاصل کر سکیں گے، جس سے بڑھتی مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔


محکمہ سوشل سکیورٹی کی سرگرمیاں تیز,فیلڈ افسران دن رات مصروف

کمشنر سوشل سکیورٹی ذوالفقار علی کھرل نے بتایا کہ محکمہ سوشل سکیورٹی کے تمام فیلڈ افسران مریم نواز راشن کارڈ کی تقسیم کے عمل میں دن رات مصروف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز راشن کارڈ سیل مکمل طور پر فعال ہے اور صوبہ بھر میں ورکرز کی بائیومیٹرک تصدیق کا عمل تیزی سے جاری ہے تاکہ شفاف انداز میں امداد مستحق افراد تک پہنچائی جا سکے۔


پولیس اصلاحات کیلئے اہم فیصلے

ادھر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں پنجاب پولیس میں اصلاحات سے متعلق اہم اور دور رس فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب بھر میں ایف آئی آر کا آن لائن ٹریکنگ سسٹم متعارف کرایا جائے گا، تاکہ شہری اپنی شکایات اور مقدمات کی پیش رفت باآسانی جان سکیں۔


پولیس اہلکاروں کیلئے باڈی کیم

اجلاس میں ہر پولیس اسٹیشن کے 10 اہلکاروں پر باڈی کیم نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب نے فوری طور پر فنڈز کی منظوری دے دی۔
اس منصوبے کے تحت پنجاب بھر میں 14 ہزار باڈی کیم اور 700 پینک بٹن لگائے جائیں گے، تاکہ پولیسنگ کے نظام میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔


ٹریفک پولیس ون ایپ اور سیف سٹی مانیٹرنگ ایپ کا آغاز

وزیراعلیٰ پنجاب نے ٹریفک پولیس ون ایپ اور سیف سٹی مانیٹرنگ ایپ کا بھی باضابطہ آغاز کیا۔ ان ایپس کے ذریعے ٹریفک نظام، نگرانی اور شہریوں کی سہولت میں نمایاں بہتری لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔


پولیس اصلاحات کیلئے واضح روڈ میپ

وزیراعلیٰ مریم نواز نے پولیس اصلاحات کیلئے شارٹ ٹرم، مڈ ٹرم اور لانگ ٹرم پلان تیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اگر اب پولیس اصلاحات نہیں کی گئیں تو پھر کبھی نہیں ہو سکیں گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پولیس کا کام عوام کی خدمت ہے اور پولیس سے صرف مجرموں کو ڈرنا چاہیے، عوام کو نہیں۔


خواتین اور بچوں کے تحفظ پر زیرو ٹالرنس

وزیراعلیٰ پنجاب نے بچوں کے ساتھ درندگی کرنے والوں کیلئے زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے ہوتے ہوئے کوئی بیٹی خود کو غیر محفوظ تصور نہ کرے۔ اگر خواتین تھانے نہیں آ سکتیں تو شکایات کے ازالے کیلئے موبائل پولیس ان کے پاس جائے گی۔ شکایت کرنے والی خاتون کی تذلیل نہیں بلکہ اس کی حوصلہ افزائی اور مدد کی جائے گی۔


تعلیمی اداروں میں بدسلوکی ناقابلِ قبول

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بچے خوف کی وجہ سے بول نہیں پاتے، اس لیے کسی کو تعلیمی اداروں میں بدسلوکی کی جرات نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے بچوں کی حفاظت اور مناسب دیکھ بھال نہ کرنے والے والدین کیلئے قوانین متعارف کرانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔


عوامی خدمت اولین ترجیح, وی آئی پی کلچر پر سخت مؤقف

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ عوام سے زیادہ کوئی وی آئی پی نہیں۔ وی آئی پی کے راستے کلیئر کرنے کیلئے عوام کی تذلیل کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ پنجاب ہے، کوئی ایسا علاقہ نہیں جہاں غریب کا کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔


پولیس میں نوجوانوں کی شمولیت اور جدید نظام

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ پولیس میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو آگے لایا جائے، کالج کے طلبہ کو پولیسنگ سے روشناس کرایا جائے اور سٹیزن مینجمنٹ سسٹم اور ای ٹیگ انفارمیشن سسٹم متعارف کرایا جائے۔
انہوں نے پولیس کو ہر شہری کو “سر” کہہ کر پکارنے اور پولیس سے متعلق چھوٹی شکایات دو سے تین گھنٹوں کے اندر حل کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔


مجموعی تاثر

محنت کشوں کیلئے مالی امداد میں نمایاں اضافہ اور پولیس اصلاحات سے متعلق جامع فیصلے صوبائی حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کا واضح ثبوت ہیں۔ ان اقدامات کو عوامی، سماجی اور مزدور حلقوں کی جانب سے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، جن سے رمضان المبارک کے دوران ریلیف اور صوبے میں قانون نافذ کرنے کے نظام میں بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button