پاکستانتازہ ترین

اڈیالہ جیل میں عمران خان کے طبی معائنے پر تنازع ،پی ٹی آئی نے حکومت اور جیل انتظامیہ کے طرزِعمل کو مسترد کر دیا

حکومت پر شفافیت اور سنجیدگی سے کام نہ لینے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

 ناصف اعوان- پاکستان

پاکستان تحریک انصاف نے اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم عمران خان کے آنکھ کے طبی معائنے کے معاملے پر حکومت اور جیل انتظامیہ کے حالیہ طرزِعمل کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے غیر سنجیدہ، غیر شفاف اور بنیادی مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

اتوار کی شام جاری کیے گئے اپنے بیان میں پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کرنا کہ پارٹی قیادت کو پیغام دیا گیا تھا کہ وہ معائنے کے وقت جیل پہنچ جائے، درحقیقت اصل اور سنجیدہ مسئلے سے عوام کی توجہ ہٹانے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔


پی ٹی آئی کا مؤقف,فیصلہ کرنے کا حق عمران خان کی فیملی کا ہے

پی ٹی آئی کے بیان کے مطابق یہ معاملہ پارٹی قیادت کی موجودگی یا عدم موجودگی کا نہیں بلکہ ایک حساس اور نازک طبی مسئلے سے جڑا ہوا ہے۔ پارٹی نے واضح کیا کہ ایسے معاملات میں فیصلہ کرنے کا آئینی، اخلاقی اور قانونی حق عمران خان کی فیملی کو حاصل ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ عمران خان کی فیملی اس وقت تک کسی بھی طبی فیصلے پر رضامند نہیں ہو سکتی جب تک ان کے ذاتی معالجین معائنے کے دوران موجود نہ ہوں۔ پارٹی کے مطابق پارٹی قیادت کو علامتی طور پر مدعو کرنے کی نہ تو کوئی اخلاقی منطق بنتی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی قانونی حیثیت ہے۔


شفاف علاج کا مطالبہ,ذاتی معالجین اور فیملی کی موجودگی ناگزیر

پی ٹی آئی نے اپنے بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا علاج فوری طور پر ان کی فیملی اور ذاتی معالجین کی موجودگی میں شروع کروایا جائے۔ پارٹی نے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا کہ اس کے علاوہ کسی بھی طریقۂ کار کو شفاف، قابلِ اعتماد اور قابلِ قبول نہیں سمجھا جائے گا۔

پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اس پر کسی قسم کی سیاست یا تاخیری حربے ناقابلِ قبول ہیں۔


اپوزیشن اتحاد کا دھرنا,اسلام آباد میں احتجاج تیسرے روز بھی جاری

دوسری جانب اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد میں دھرنا تیسرے روز بھی جاری ہے۔ یہ دھرنا خیبر پختونخوا ہاؤس اور پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دیا جا رہا ہے، جس میں اپوزیشن جماعتوں کے مرکزی اور پارلیمانی رہنما شریک ہیں۔


پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن قیادت کی شرکت

پارلیمنٹ ہاؤس میں دیے گئے دھرنے میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سمیت قومی اسمبلی اور سینیٹ کے متعدد ارکان شریک ہیں۔

شرکاء نے حکومت کے طرزِعمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئین، قانون اور انسانی حقوق کی بالادستی کے لیے اپوزیشن کی جدوجہد جاری رہے گی۔


خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر احتجاج

خیبر پختونخوا ہاؤس کے گیٹ پر دیے گئے دھرنے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، ان کی صوبائی کابینہ کے ارکان، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور درجنوں دیگر ارکانِ اسمبلی موجود ہیں۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی صحت اور بنیادی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا اور جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج جاری رہے گا۔


مجموعی صورتحال

سیاسی مبصرین کے مطابق عمران خان کے طبی معائنے کا معاملہ اب ایک بڑے سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اسے انسانی حقوق اور آئینی اصولوں کا مسئلہ قرار دے رہی ہیں، جبکہ حکومت پر شفافیت اور سنجیدگی سے کام نہ لینے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

اسلام آباد میں جاری دھرنوں اور سخت بیانات کے باعث سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس معاملے پر ملکی سیاست میں مزید کشیدگی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button