
فلسطینی زمینوں کے اندارج کا معاملہ، اسرائیل پر شدید تنقید
قانونی تنازعات کا حل‘‘ نکالنا ہے اور یہ اقدام خود مختار فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام علاقوں میں مبینہ غیرقانونی زمینوں کی رجسٹریشن کے بعد ضروری ہو گیا تھا۔
اے پی
اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق اتوار کی رات منظور کیے گئے اس فیصلے کا مقصد ”حقوق کی شفاف اور مکمل وضاحت کے ذریعے قانونی تنازعات کا حل‘‘ نکالنا ہے اور یہ اقدام خود مختار فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام علاقوں میں مبینہ غیرقانونی زمینوں کی رجسٹریشن کے بعد ضروری ہو گیا تھا۔

شدید رد عمل
تاہم مصر، قطر اور اردن نے اس اقدام کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مصری حکومت نے اپنے بیان میں اسے ”مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے خطرناک پیش رفت‘‘ قرار دیا۔
قطر کی وزارت خارجہ نے ”مغربی کنارے کی زمین کو نام نہاد ‘ریاستی ملکیت‘ میں تبدیل کرنے کے فیصلے‘‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ”فلسطینی عوام کو ان کے حقوق سے محروم کر دیا جائے گا۔‘‘
بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ
رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی نے بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ”عملی طور پر الحاق کے عمل کے آغاز اور فلسطینی ریاست کی بنیادوں کو کمزور کرنے‘‘ کے مترادف ہے۔
اسرائیلی آبادکاری کی مخالف تنظیم ”پیس ناؤ‘‘ نے اس اقدام کو ”وسیع پیمانے پر زمین پر قبضہ‘‘ قرار دیا ہے۔ اس تنظیم کے شریک ڈائریکٹر جوناتھن مزراحی نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس فیصلے کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں زمین کی رجسٹریشن کے لیے اضافی وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
یہ عمل صرف ”ایریا سی‘‘ میں ہوگا، جو مغربی کنارے کے تقریباً 60 فیصد حصے پر مشتمل ہے اور اسرائیلی سکیورٹی و انتظامی کنٹرول میں ہے۔
مزراحی نے کہا، ”زمین کے حوالے سے کافی ابہام موجود تھا اور اسرائیل نے اب اسے نمٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ ان کے مطابق ایریا سی میں ملکیت کے اس ابہام کو ممکنہ طور پر فلسطینیوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا، ”بہت سی زمین جسے فلسطینی اپنی سمجھتے ہیں، وہ اس نئی رجسٹریشن کے عمل کے تحت ان کی ملکیت نہیں رہے گی۔‘‘ ان کے بقول یہ اقدام اسرائیلی دائیں بازو کی جانب سے فلسطینی علاقوں کے الحاق کے ایجنڈے کو آگے بڑھائے گا۔

آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش
فلسطینی مغربی کنارے کو مستقبل کی خود مختار فلسطینی ریاست کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں جبکہ اسرائیل کے مذہبی دائیں بازو کے کئی حلقے اس علاقے پر مکمل کنٹرول چاہتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے انتہا پسند وزراء کی حمایت سے مغربی کنارے کے ان علاقوں میں، جو اوسلو معاہدوں کے تحت فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام ہیں، کنٹرول سخت کرنے کے اقدامات کی منظوری دی تھی۔ یہ معاہدے 1990 کی دہائی سے نافذ ہیں۔
ان اقدامات میں یہ بھی شامل ہے کہ اسرائیلی یہودی براہ راست مغربی کنارے میں زمینیں خرید سکیں گے اور بعض مذہبی مقامات کا انتظام اسرائیلی حکام کے حوالے کیا جائے گا چاہے وہ فلسطینی اتھارٹی کے زیر کنٹرول علاقوں میں ہی کیوں نہ ہوں۔
اسرائیل 1967 سے مغربی کنارے پر قابض ہے۔
ان تازہ اقدامات کا پس منظر ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر فولکر ترک نے ایک حالیہ بیان میں کہا، ”ہم مقبوضہ فلسطینی علاقے کی آبادی کا تناسب مستقل طور پر بدلنے کی تیز رفتار کوششوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جس دوران لوگوں کو ان کی زمینوں سے محروم کر کے انہیں نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔‘‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے اسرائیل کے ساتھ ممکنہ الحاق کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ علاقے میں استحکام اسرائیل کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ تاہم شدید بین الاقوامی ردعمل کے باوجود ذاتی طور پر صدر ٹرمپ نے حالیہ اسرائیلی اقدامات پر براہ راست تنقید سے گریز کیا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے الحاق شدہ مشرقی یروشلم کے علاوہ مقبوضہ مغربی کنارے میں 5 لاکھ سے زائد اسرائیلی آبادکار بستے ہیں، جن کی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیرقانونی سمجھی جاتی ہیں۔
اس علاقے میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینی بھی آباد ہیں، جو 1967 سے اسرائیلی قبضے میں ہے۔



