پاکستاناہم خبریں

عمران خان کی آنکھ کے علاج پر تنازع: کیا پی ٹی آئی اور علیمہ خان ایک پیج پر ہیں؟، پارٹی کے اندرونی اختلافات بھی عیاں

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے نامزد ڈاکٹروں نے عمران خان کے علاج پر اطمینان کا اظہار کیا تھا

رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان

پاکستان کی سیاست ایک بار پھر سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت کے معاملے پر گرما گئی ہے۔ ان کی آنکھ کے علاج اور طبی معائنے میں مبینہ تاخیر کے مسئلے نے نہ صرف حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے بلکہ پارٹی کے اندر موجود اختلافات بھی کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔

منگل کو وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے بروقت طبی معائنے میں تاخیر کی بڑی وجہ ان کی ہمشیرہ علیمہ خان تھیں۔ دوسری جانب علیمہ خان نے حکومتی مؤقف کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت کا کبھی بھی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا کوئی حقیقی ارادہ نہیں تھا۔


وزیرِ داخلہ کے الزامات: “علاج میں سیاست کی گئی”

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے نامزد ڈاکٹروں نے عمران خان کے علاج پر اطمینان کا اظہار کیا تھا اور حکومتی سطح پر بھی وہی علاج کیا جاتا جو جاری تھا۔ ان کے بقول:

“پارٹی کے تقریباً تمام سیاسی رہنما آن بورڈ تھے، لیکن علیمہ خان صاحبہ ہر تجویز کو ویٹو کر دیتی تھیں۔ اگر نیت ٹھیک ہوتی تو پہلے دن مان جاتے۔”

محسن نقوی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ علیمہ خان کے مؤقف کی وجہ سے تین دن تک میڈیکل چیک اپ نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف ہمدردی اور تعلق کا اظہار کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب “بھرپور سیاست” کی جاتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اطلاعات کے مطابق علیمہ خان نے پارٹی رہنماؤں سے کہا کہ اگر وہ حکومتی شرائط مان لیں تو معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے گا، جس سے حکومت کے شکوک میں اضافہ ہوا۔


علیمہ خان کا ردِ عمل: “ہمارے شکوک مزید بڑھ گئے”

دوسری جانب علیمہ خان نے حکومتی دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ خاندان کا مطالبہ بالکل واضح تھا کہ عمران خان کے ذاتی ڈاکٹر اور خاندان کا ایک فرد طبی معائنے کے وقت موجود ہو۔ ان کے مطابق:

“حکومت نے نہ ذاتی ڈاکٹر کی موجودگی کی اجازت دی اور نہ ہی خاندان کے فرد کو ساتھ رہنے دیا، جس سے ہمارے شکوک مزید بڑھ گئے کہ آخر کیا چھپایا جا رہا ہے۔”

علیمہ خان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت سنجیدہ ہوتی تو شفاف انداز میں طبی سہولیات فراہم کی جاتیں اور خاندان کو اعتماد میں لیا جاتا۔


علی امین گنڈاپور کا وائرل انٹرویو: پارٹی کے اندر دراڑیں؟

اس معاملے میں اس وقت مزید پیچیدگی پیدا ہوئی جب خیبرپختونخوا کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور کا ایک ویڈیو انٹرویو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ انٹرویو میں انہوں نے شکوہ کیا کہ انہیں چار ماہ تک عمران خان سے ملنے نہیں دیا گیا جبکہ دیگر افراد کو رسائی حاصل تھی۔

ان کا کہنا تھا:

“عمران خان کو حقائق کے برخلاف باتیں بتائی گئیں، جس سے مجھے سیاسی نقصان ہوا۔ اگر ملاقاتیں جاری رہتیں تو شاید آنکھ کا مسئلہ یہاں تک نہ پہنچتا۔”

علی امین گنڈاپور نے علیمہ خان کے کردار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اگر ان کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ انہیں عمران خان سے نہ ملنے دیتے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ باہر آ کر ان کے بارے میں منفی بیانیہ بنایا جاتا تھا، جس سے پارٹی میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس بھی علی امین گنڈاپور ایک ویڈیو پیغام میں علیمہ خان پر پارٹی کو تقسیم کرنے اور اسٹیبلشمنٹ کی مبینہ سہولت کاری کے الزامات لگا چکے ہیں۔


پارٹی کی ممکنہ کارروائی اور تردید

نجی میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں میں دعویٰ کیا گیا کہ پی ٹی آئی قیادت نے علی امین گنڈاپور کے بیانات پر ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے ان اطلاعات کی تردید کی۔

انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا:

“علی امین گنڈاپور کو کسی قسم کا نوٹس بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اگر ایسا کوئی نوٹس جاری ہوتا تو وہ میں نے ہی جاری کرنا تھا۔”


تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کی صحت کا معاملہ محض طبی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ان کے بقول تین پہلو نمایاں ہیں:

  1. حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان عدم اعتماد – دونوں جانب سے ایک دوسرے کے مؤقف پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

  2. پارٹی کے اندر اختلافات – علیمہ خان اور علی امین گنڈاپور کے بیانات سے اندرونی تناؤ کا تاثر مضبوط ہوا ہے۔

  3. سیاسی بیانیے کی جنگ – عمران خان کی صحت کو سیاسی ہمدردی اور بیانیے کی تشکیل کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

بعض مبصرین کے مطابق اگر پارٹی قیادت اس معاملے پر متحد مؤقف پیش نہ کر سکی تو یہ اختلافات مستقبل میں مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے حامی حلقے اسے حکومت کی جانب سے “سیاسی دباؤ” قرار دیتے ہیں۔


کیا پی ٹی آئی اور علیمہ خان ایک پیج پر ہیں؟

موجودہ بیانات اور ردِ عمل سے یہ تاثر ضرور ابھرا ہے کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر پارٹی کے اندر مکمل ہم آہنگی نہیں ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت باضابطہ طور پر کسی بھی اندرونی تقسیم کی تردید کرتی رہی ہے۔

سیاسی منظرنامے میں اس تنازع نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے:

  • کیا عمران خان کی صحت کا معاملہ مزید سیاسی کشیدگی کا سبب بنے گا؟

  • کیا پارٹی قیادت اندرونی اختلافات کو کنٹرول کر پائے گی؟

  • اور کیا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہو سکے گی؟

فی الحال یہ معاملہ نہ صرف عمران خان کی صحت بلکہ پاکستان کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی اثرانداز ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں حکومتی اقدامات، عدالتی پیش رفت اور پارٹی کی اندرونی حکمتِ عملی اس تنازع کی سمت کا تعین کریں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button