
اڈیالہ جیل میں عمران خان کو فراہم سہولیات کی تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع، حراستی حالات پر نئی بحث
سیلز کے سامنے 57 فٹ لمبی اور 14 فٹ چوڑی راہداری موجود ہے، جہاں آمد و رفت اور چہل قدمی کی سہولت دستیاب ہے
ناصر خان خٹک-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں حراستی سہولیات سے متعلق سپرنٹنڈنٹ جیل کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کرائی گئی تفصیلی رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد سیاسی اور قانونی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
تین صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں عمران خان کو فراہم کردہ رہائشی، غذائی اور طبی سہولیات کی مکمل تفصیل بیان کی گئی ہے، جس کا مقصد عدالتِ عظمیٰ کو ان کی حراستی صورتحال سے آگاہ کرنا بتایا گیا ہے۔
کمپاؤنڈ کی ساخت اور رہائشی انتظامات
رپورٹ کے مطابق عمران خان کو اڈیالہ جیل میں ایک علیحدہ کمپاؤنڈ میں رکھا گیا ہے جو سات سیلز (کمروں) پر مشتمل ہے۔ ان سیلز کے سامنے 57 فٹ لمبی اور 14 فٹ چوڑی راہداری موجود ہے، جہاں آمد و رفت اور چہل قدمی کی سہولت دستیاب ہے۔
کمپاؤنڈ کے ساتھ 35×37 فٹ کا ایک لان بھی موجود ہے، جہاں عمران خان کو روزانہ دھوپ سینکنے، کتابیں پڑھنے اور اخبارات کا مطالعہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ دستاویز کے مطابق یہ کمپاؤنڈ بیک وقت 30 سے 35 قیدیوں کی گنجائش رکھتا ہے، تاہم عمران خان کو “بیٹر کلاس” کیٹیگری کے تحت خصوصی انتظامات فراہم کیے گئے ہیں۔
جیل حکام کا کہنا ہے کہ انہیں صبح سے شام تک قدرتی روشنی اور تازہ ہوا کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے اور ان کی سکیورٹی کے پیشِ نظر خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
ورزش اور صحت سے متعلق سہولیات
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کو جسمانی فٹنس برقرار رکھنے کے لیے سائیکلنگ مشین اور دیگر جم کا سامان فراہم کیا گیا ہے۔ جیل حکام کے مطابق وہ روزانہ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں اور انہیں واک کے لیے بھی مناسب جگہ دستیاب ہے۔
سپرنٹنڈنٹ جیل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ عمران خان کی صحت اور حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے گئے ہیں اور انہیں محفوظ ماحول میں رکھا گیا ہے۔
خوراک کی تفصیلی فہرست
رپورٹ میں عمران خان کو فراہم کی جانے والی خوراک کی مکمل تفصیلات بھی شامل ہیں، جو معمول کی جیل خوراک سے مختلف اور بہتر معیار کی بتائی گئی ہے۔
ناشتہ:
کھجور
اخروٹ
شہد
کافی
دلیہ
لسی
گرم دودھ
چیا سیڈز
مسمی اور انار کا جوس
دوپہر کا کھانا:
دیسی مرغ یا مٹن
سلاد
مکس اچار
آلو چپس
انڈہ فرائی
مکس دال
شام کی خوراک:
بادام
کشمش
پسا ہوا ناریل
دودھ
کھجور
کیلے اور سیب کا شیک
جیل انتظامیہ کے مطابق یہ خوراک ان کی صحت اور غذائی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے فراہم کی جا رہی ہے۔
قانونی اور سیاسی ردِ عمل
رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائے جانے کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ حکومتی حلقے اس رپورٹ کو اس بات کا ثبوت قرار دے رہے ہیں کہ عمران خان کو قانون کے مطابق اور ان کے اسٹیٹس کے مطابق سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے بعض رہنما یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ رپورٹ میں بیان کردہ سہولیات اور عملی صورتحال میں فرق ہو سکتا ہے، اور وہ عدالت سے شفاف نگرانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی یہ رپورٹ اس تناظر میں اہم ہے کہ عمران خان کی حراستی شرائط سے متعلق مختلف درخواستیں زیرِ سماعت رہی ہیں۔ عدالت اس رپورٹ کا جائزہ لے کر آئندہ لائحہ عمل طے کر سکتی ہے۔
حراستی حالات پر جاری بحث
عمران خان کی گرفتاری کے بعد سے ان کی صحت، سکیورٹی اور جیل میں دستیاب سہولیات سیاسی مباحث کا اہم موضوع بنی ہوئی ہیں۔ تازہ رپورٹ نے ایک طرف جیل انتظامیہ کے مؤقف کو تفصیل سے سامنے رکھا ہے تو دوسری جانب ناقدین کے سوالات بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
آنے والے دنوں میں عدالتِ عظمیٰ کی کارروائی اور ممکنہ احکامات اس بحث کی سمت متعین کریں گے کہ آیا موجودہ انتظامات کو برقرار رکھا جائے گا یا مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
فی الحال سپرنٹنڈنٹ جیل کی رپورٹ نے یہ واضح کیا ہے کہ عمران خان کو “بیٹر کلاس” سہولیات کے تحت علیحدہ اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا رہا ہے، تاہم اس معاملے پر سیاسی اور قانونی گفتگو جاری ہے۔



