پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب کے ذیلی ادارے ایکسٹینڈڈ پروگرام آن امیونائزیشن (EPI) میں مبینہ میگا اسکینڈل، موبائل فونز کی خریداری پر سنگین سوالات

مزید یہ بھی الزام سامنے آیا ہے کہ پہلے سے موجود اضافی موبائل فونز کے باوجود نئے موبائل فونز کی مبینہ طور پر فرضی خریداری ظاہر کی گئی، جس سے معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،ذرائع کے ساتھ

لاہور: محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب کے زیرِ انتظام ایکسٹینڈڈ پروگرام آن امیونائزیشن (EPI) میں موبائل فونز کی خریداری سے متعلق مبینہ مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کا ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے، جس میں قومی خزانے کو نقصان پہنچنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق خریداری کے عمل میں نہ صرف ضرورت کا درست تعین نہیں کیا گیا بلکہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اضافی اور مبینہ طور پر مہنگے داموں موبائل فونز خریدے گئے۔

معاملہ کیا ہے؟

ذرائع کے مطابق سال 2014 میں EPI پروگرام کے تحت فیلڈ اسٹاف کو ڈیٹا کلیکشن اور ویکسینیشن مانیٹرنگ کے لیے موبائل فونز فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم الزام ہے کہ اس خریداری میں شفافیت کو نظر انداز کیا گیا اور ضرورت سے زائد موبائل فونز حاصل کیے گئے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 560 موبائل فونز خریدے گئے، جبکہ عملی طور پر صرف 321 فونز استعمال میں لائے گئے۔ باقی فونز یا تو غیر ضروری ثابت ہوئے یا استعمال ہی نہیں کیے گئے۔ اس صورتحال کو قومی خزانے کے ضیاع کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید یہ بھی الزام سامنے آیا ہے کہ پہلے سے موجود اضافی موبائل فونز کے باوجود نئے موبائل فونز کی مبینہ طور پر فرضی خریداری ظاہر کی گئی، جس سے معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔

پی پی آر اے رولز کی خلاف ورزی کا الزام

درخواست گزار نے الزام عائد کیا ہے کہ خریداری کے عمل میں پنجاب پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رولز 2006 کی خلاف ورزی کی گئی۔ ان قواعد کے تحت سرکاری خریداری میں شفافیت، مسابقتی بولی، اور درست نیڈ اسیسمنٹ (Need Assessment) کو یقینی بنانا لازمی ہوتا ہے۔

الزام ہے کہ:

  • درست نیڈ اسیسمنٹ نہیں کی گئی

  • خریداری شفاف طریقہ کار کے تحت نہیں ہوئی

  • سرکاری اختیارات کا مبینہ ناجائز استعمال کیا گیا

  • Misconduct، Inefficiency اور Mis-procurement جیسے سنگین پہلو سامنے آئے

اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ معاملہ نہ صرف انتظامی غفلت بلکہ بدعنوانی کے زمرے میں بھی آ سکتا ہے۔

اعلیٰ حکام کو باضابطہ درخواست

اس معاملے پر باقاعدہ درخواست سیکرٹری ہیلتھ، ڈی جی ہیلتھ سروسز پنجاب اور وزیر اعلیٰ انسپکشن ٹیم پنجاب کو جمع کروائی گئی ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ:

  • مکمل اور شفاف انکوائری کرائی جائے

  • ذمہ دار افسران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے

  • قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی ریکوری یقینی بنائی جائے

تاہم درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود درخواست پر کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔ مزید برآں، مبینہ طور پر درخواست پر “تکنیکی اور غیر متعلقہ اعتراضات” لگا کر معاملے کو طول دیا جا رہا ہے۔

دائرہ اختیار کا معاملہ یا ذمہ داری سے گریز؟

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جب یہ معاملہ متعلقہ اعلیٰ افسران کے سامنے رکھا گیا تو بعض حکام نے اسے اپنے دائرہ اختیار سے باہر قرار دے کر کارروائی سے گریز کیا۔ ناقدین کے مطابق اگر محکمہ کو کرپشن یا بے ضابطگی سے متعلق اطلاعات موصول ہوں تو ان کی غیر جانبدارانہ جانچ پڑتال کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، نہ کہ دائرہ اختیار کا جواز بنا کر معاملہ موخر کرنا۔

شفافیت اور احتساب کا تقاضا

ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت کے شعبے میں ہونے والی کسی بھی مالی بے ضابطگی کے براہ راست اثرات عوامی فلاح و بہبود پر پڑتے ہیں، خصوصاً EPI جیسے پروگرام میں جو بچوں کی ویکسینیشن اور حفاظتی ٹیکہ جات سے متعلق ہے۔ اگر فنڈز کا غلط استعمال ہوا ہے تو یہ نہ صرف مالی نقصان بلکہ عوامی اعتماد کو بھی متاثر کرتا ہے۔

حکومتی مؤقف کا انتظار

تاحال محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب یا متعلقہ حکام کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ ماہرین اور سول سوسائٹی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ شفاف اور آزادانہ انکوائری کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں تاکہ اگر بے ضابطگیاں ثابت ہوں تو ذمہ داروں کا تعین ہو سکے اور آئندہ کے لیے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔

یہ معاملہ اس وقت صوبائی سطح پر صحت کے شعبے میں احتساب اور شفافیت کے حوالے سے ایک اہم امتحان بن چکا ہے، جس کے نتائج نہ صرف انتظامی ڈھانچے بلکہ عوامی اعتماد پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button