مشرق وسطیٰ

کراچی میں امریکی قونصلیٹ کے باہر خونریز جھڑپیں،کراچی میں 10، اسلام آباد میں 2 ہلاک، سندھ میں دفعہ 144 نافذ

بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز، اے ایف پی کے ساتھ

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مبینہ امریکی و اسرائیلی حملوں میں قتل کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں شدید احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ سب سے زیادہ ہنگامہ آرائی کراچی میں ریکارڈ کی گئی جہاں امریکی قونصل خانے کے قریب مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔ اسلام آباد میں بھی مظاہروں کے دوران 2 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔


وزیر داخلہ کی اپیل: احتجاج کریں مگر قانون ہاتھ میں نہ لیں

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بگڑتی صورتحال پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔ اپنے ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا:

“آج پوری امت مسلمہ، پاکستان اور ایران کے عوام کے لیے افسوسناک دن ہے۔ ہر پاکستانی شہری ایرانی عوام کے دکھ میں برابر کا شریک ہے۔ ہم سب آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، لیکن خدارا قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ احتجاج کریں مگر پرامن طریقے سے۔”


کراچی میں شدید جھڑپیں، آنسو گیس اور لاٹھی چارج

کراچی میں مائی کولاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے کے قریب مظاہرین کی بڑی تعداد جمع ہوئی۔ مشتعل مظاہرین نے مبینہ طور پر حفاظتی حصار توڑنے کی کوشش کی جس کے بعد پولیس اور رینجرز نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق:

  • 8 لاشیں سول اسپتال کراچی منتقل کی گئیں

  • 2 زخمی افراد دوران علاج دم توڑ گئے

  • یوں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہوگئی

زخمیوں کی تفصیلات

مجموعی طور پر 73 افراد زخمی ہوئے جنہیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا:

  • 41 زخمی SMMBIT (سول اسپتال کراچی)

  • 7 زخمی JPMC

  • 8 زخمی AKUH

  • 6 زخمی فاطمیہ اسپتال

  • 8 زخمی مقامی احتجاجی مقامات سے

  • 3 زخمی پاپوش نگر سے

ان میں سے 14 افراد تاحال زیر علاج ہیں جبکہ 6 کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔


سندھ بھر میں دفعہ 144 نافذ

صوبائی محکمہ داخلہ نے یکم مارچ سے پورے سندھ میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ پابندیوں میں شامل ہیں:

  • ہر قسم کے احتجاج، مظاہرے، دھرنے اور ریلیاں

  • وال چاکنگ

  • اسلحہ کی نمائش

البتہ رجسٹرڈ پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیوں کے گارڈز کو ڈیوٹی کے دوران اسلحہ رکھنے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم گاڑیوں میں ہتھیاروں کی نمائش پر پابندی ہوگی۔


سندھ حکومت کا بیان اور جے آئی ٹی کی تشکیل

ترجمان وزیر اطلاعات حسین منصور کے ذریعے جاری بیان میں سندھ حکومت نے تصادم میں جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، تاہم سرکاری بیان میں ہلاکتوں کی تعداد 6 بتائی گئی۔

حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT) تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے جو درج ذیل نکات کا جائزہ لے گی:

  • واقعہ کن حالات میں پیش آیا

  • سیکیورٹی میں کیا خامیاں رہیں

  • ذمہ دار افراد کی نشاندہی

بیان میں کہا گیا:

“احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، مگر پرامن ماحول برقرار رکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کسی بھی قسم کی توڑ پھوڑ یا تشدد ناقابل قبول ہے۔”


امریکی سفارت خانے کی ایڈوائزری

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے کراچی اور لاہور میں جاری مظاہروں کی نگرانی کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستان میں موجود امریکی شہریوں کو ہدایت جاری کی:

  • مقامی خبروں پر نظر رکھیں

  • ہجوم سے گریز کریں

  • اپنے اطراف سے باخبر رہیں

  • STEP رجسٹریشن اپ ڈیٹ رکھیں

سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر امریکی قونصل خانے کے اطراف کی سڑکیں ٹریفک کے لیے بند کر دی گئیں۔ رات گئے کنٹینرز لگا کر مزید رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان ایک بار پھر جھڑپیں ہوئیں۔


ملک کے دیگر شہروں میں صورتحال

لاہور، گلگت، ڈی آئی خان اور دیگر شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے تاہم زیادہ تر مقامات پر صورتحال قابو میں رہی۔ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے باہر اضافی سیکیورٹی تعینات کی گئی۔

کراک میں بھی امریکی قونصل خانے کے باہر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے شیلنگ کی۔


سیکیورٹی سخت، رینجرز کی تعیناتی

سندھ رینجرز کے ترجمان کے مطابق:

  • شہر کے اہم مقامات پر اضافی نفری تعینات

  • موبائل ویجیلنٹ ٹیمیں گشت پر مامور

  • حساس تنصیبات کی مسلسل نگرانی

  • شرپسند عناصر کی شناخت کا عمل جاری


مجموعی صورتحال

ملک بھر میں جاری احتجاج نے سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے عوام سے بار بار اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار پرامن اور قانونی طریقوں سے کریں۔

حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ تحقیقات کے بعد ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button