
عرب دنیا ایک ’ثقافتی انقلاب‘ کی طرف بڑھتی ہوئی
مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور جنوبی ایشیا کے خطے میں داخل ہونے کا ''وقت درست‘‘ تھا۔
اے ایف پی
‘بے پناہ امکانات‘
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اس ماہ منعقد ہونے والی آرٹ بازل کی نمائش میں نیویارک کی معروف گاگوسین گیلری کے سینئر ڈائریکٹر اندیشہ آوینی نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے میں ”بے پناہ امکانات‘‘ موجود ہیں اور آرٹ گیلریوں کے لیے نئے خریداروں اور کلکٹرز تک رسائی انتہائی اہم ہے۔
آرٹ بازل اور سوئس بینک یو بی ایس کی جانب سے سن 2025 میں جاری کردہ ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق 2024 میں عالمی آرٹ مارکیٹ میں انتہائی قیمتی فن پاروں کی فروخت 12 فیصد کی کمی کے ساتھ 57.5 ارب ڈالر رہ گئی تھی۔ اس رپورٹ میں غیر یقینی اقتصادی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کو فن پاروں کی طلب میں کمی کی بڑی وجوہات قرار دیا گیا تھا۔

آرٹ بازل کے چیف ایگزیکٹیو نوآ ہورووٹس نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں سے فروخت کیے جانے والے فن پاروں کی مالیت میں کمی آ رہی ہے تاہم اب مارکیٹ میں اعتماد کی بحالی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور جنوبی ایشیا کے خطے میں داخل ہونے کا ”وقت درست‘‘ تھا۔
ثقافتی منصوبوں پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری
خلیجی عرب ریاستوں نے معیشت کو تیل اور گیس پر انحصار سے نکالنے اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے اربوں ڈالر ثقافتی منصوبوں پر خرچ کیے ہیں۔ ابوظہبی میں لوور میوزیم کی شاخ کے علاوہ دیگر منصوبوں پر بھی خطیر سرمایہ کاری کی جا چکی ہےجبکہ دوحہ میں نیشنل میوزیم آف قطر اور میوزیم آف اسلامک آرٹ قائم کیے گئے ہیں۔ سعودی عرب بھی 2016 کے بعد سے ثقافتی شعبے میں 21.6 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کا اعلان کر چکا ہے۔
دوحہ کی نمائش میں بلغارین نژاد فنکار کرسٹو کے ابتدائی دور کے فن پارے پیش کیے گئے، جن میں Wrapped Oil Barrels بھی شامل ہیں، جو انہوں نے 1958ء سے 1961ء کے درمیان تخلیق کیے تھے۔ کرسٹو اپنی فرانسیسی شریک حیات جین کلود کے ساتھ بڑے پیمانے پر فن کے منصوبوں کے لیے مشہور تھے، جن میں 2021 میں پیرس کی Arc de Triomphe یا ‘فتح کی محراب‘ پر کام بھی شامل ہے۔

کرسٹو کے بھتیجے اور ان کے فن پاروں کے نگران ولادیمیر یاواشیف نے کہا کہ تیل کے ڈرموں کو لپیٹ کر جو فن پارے تیار کیے گئے تھے، وہ کوئی سیاسی یا تیل کی صنعت سے متعلق کوئی پیغام نہیں تھے بلکہ ان کی جمالیات اہم تھیں۔
ثقافتی انقلاب؟
نمائش میں فلسطینی نژاد آرٹسٹ حازم حرب کے فن پارے بھی توجہ کا مرکز رہے، جن میں 1948ء میں ”نکبہ‘‘ کی یاد دلانے والی پرانی چابیوں کے ڈھیر اور غزہ میں تباہ ہونے والے ان کے گھر کی تھری ڈی پرنٹ شدہ چابیاں بھی شامل تھیں۔
حازم حرب نے کہا کہ عرب دنیا میں ”ثقافتی انقلاب‘‘ برپا ہو رہا ہے، قاہرہ سے بیروت اور بغداد سے کویت تک فن اور ثقافت کے ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔



