
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،آئی ایس پی آر کے ساتھ
خطے میں سمندری سیکیورٹی کی بدلتی صورتحال اور اہم تجارتی بحری راستوں کو درپیش ممکنہ خطرات کے پیش نظر پاکستان نیوی نے قومی جہاز رانی اور سمندری تجارت کے تحفظ کے لیے ایک اہم آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ پاک بحریہ نے اس مقصد کے لیے “آپریشن محافظ البحر” شروع کیا ہے جس کا بنیادی ہدف ملک کی سمندری تجارت کو محفوظ بنانا اور توانائی کی فراہمی کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔
آپریشن کا مقصد
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ Inter-Services Public Relations (آئی ایس پی آر) کے مطابق اس آپریشن کا مقصد قومی اور بین الاقوامی سمندری راستوں کو محفوظ رکھنا اور ملک کی تجارتی سرگرمیوں کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچانا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سمندری مواصلاتی راستے جنہیں Sea Lines of Communication (SLOCs) کہا جاتا ہے، عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ پاکستان کی معیشت بھی بڑی حد تک انہی راستوں پر انحصار کرتی ہے، اس لیے ان کی حفاظت قومی سلامتی کے لیے نہایت ضروری ہے۔
تجارتی جہازوں کو اسکارٹ فراہم کرنے کا عمل
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نیوی کے جنگی جہاز تجارتی بحری جہازوں کو اسکارٹ فراہم کر رہے ہیں تاکہ ان کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے پاک بحریہ Pakistan National Shipping Corporation (پی این ایس سی) کے ساتھ قریبی تعاون کر رہی ہے۔
حکام کے مطابق اسکارٹ آپریشن کے دوران بحری جہازوں کی نقل و حرکت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ان کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔
سمندری صورتحال کی مسلسل نگرانی
پاکستان نیوی نے موجودہ سمندری صورتحال پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے۔ پاک بحریہ کے جہاز اور نگرانی کے جدید نظام سمندر میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
بحری حکام کے مطابق نگرانی کے اس نظام کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا ممکنہ خطرے کو فوری طور پر شناخت کیا جا سکے اور بروقت حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔
پاکستان کی تجارت میں سمندری راستوں کی اہمیت
ماہرین کے مطابق پاکستان کی تقریباً 90 فیصد تجارت سمندر کے ذریعے انجام پاتی ہے۔ خام تیل، گیس، صنعتی خام مال اور دیگر ضروری اشیاء کی بڑی مقدار بحری راستوں کے ذریعے ملک میں پہنچتی ہے۔
اسی وجہ سے پاک بحریہ نے “آپریشن محافظ البحر” کے تحت اہم سمندری راستوں کو محفوظ، مستحکم اور کھلا رکھنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے تاکہ ملکی معیشت اور توانائی کی سپلائی متاثر نہ ہو۔
کراچی آنے والے جہازوں کو سیکیورٹی
حکام کے مطابق اس وقت پاکستان نیوی کے جنگی جہاز دو تجارتی بحری جہازوں کو اسکارٹ فراہم کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک جہاز آج Karachi پہنچنے والا ہے جبکہ دوسرے جہاز کی سیکیورٹی بھی بحریہ کے جہاز یقینی بنا رہے ہیں۔
بحری حکام کا کہنا ہے کہ اسکارٹ آپریشن کا مقصد نہ صرف جہازوں کی حفاظت کرنا ہے بلکہ سمندری تجارت کے تسلسل کو بھی برقرار رکھنا ہے۔
ابھرتے ہوئے سمندری چیلنجز کا مقابلہ
دفاعی ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی جیوپولیٹیکل کشیدگی، سمندری قزاقی، دہشت گردی اور دیگر سیکیورٹی خطرات کی وجہ سے سمندری راستوں کا تحفظ مزید اہم ہو گیا ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان نیوی نے اپنی آپریشنل تیاریوں کو مزید مؤثر بنایا ہے تاکہ وہ کسی بھی ابھرتے ہوئے خطرے کا فوری اور مؤثر جواب دے سکے۔
قومی اور علاقائی سمندری سلامتی کا عزم
پاکستان نیوی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ نہ صرف پاکستان کی سمندری حدود اور قومی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنائے گی بلکہ خطے میں سمندری سلامتی کے قیام میں بھی اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
بحری حکام کے مطابق “آپریشن محافظ البحر” کے ذریعے پاکستان نیوی یہ واضح پیغام دے رہی ہے کہ ملک کی سمندری تجارت، توانائی کی سپلائی اور بحری راستوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے اور کسی بھی خطرے کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔



