پاکستاناہم خبریں

اقوام متحدہ میں پاکستان کا کیمیکل ویپنز کنونشن کی حمایت کا اعادہ

انہوں نے زور دیا کہ اس کنونشن کو مضبوط بنانا کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف بین الاقوامی اصولوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔

اقوام متحدہ: پاکستان نے منگل کے روز کیمیکل ویپنز کنونشن (سی ڈبلیو سی) کو عالمی تخفیفِ اسلحہ کے نظام کا ایک بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے اس کے لیے اپنی مضبوط حمایت کا اعادہ کیا اور اس بات پر اصولی مؤقف دہرایا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کسی بھی شخص، کہیں بھی اور کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جس میں شام اور کیمیائی ہتھیاروں کے معاملے پر توجہ مرکوز کی گئی تھی، پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کی عالمی سطح پر توثیق اور اس کے مکمل، مؤثر اور بلا امتیاز نفاذ کے مطالبے کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اس کنونشن کو مضبوط بنانا کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف بین الاقوامی اصولوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
شام کے حوالے سے پاکستان کے مستقل مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے سفیر جدون نے شام کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے مضبوط حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مفاہمت، بحالی، امن اور استحکام کو آگے بڑھانے کے مواقع پیدا ہوئے ہیں، اور اس بات پر زور دیا کہ ان مواقع کو ایک جامع سیاسی عمل کے ذریعے ٹھوس پیش رفت میں تبدیل کیا جائے، جس کے ساتھ مسلسل بین الاقوامی تعاون اور حمایت بھی ضروری ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ شام کی سلامتی کی صورتحال اب بھی ملک کے بعض حصوں میں غیر ملکی فوجی قبضے اور فضائی حملوں سے متاثر ہو رہی ہے، جس کے اثرات کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کے لیے قائم تنظیم (او پی سی ڈبلیو) کے کام پر بھی پڑتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کا خطرہ اور غیر ملکی دہشت گرد جنگجوؤں کی موجودگی بھی شام کی سلامتی کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے اور اس سے او پی سی ڈبلیو کی تصدیقی سرگرمیاں مزید پیچیدہ ہو جاتی ہیں۔ ان عوامل کو دور کرنا ضروری ہے تاکہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق مسائل کے جلد حل کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔
سفیر جدون نے کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن پر عمل درآمد کے لیے شام کے اعلان کردہ عزم کا خیر مقدم کیا اور مشتبہ کیمیائی ہتھیاروں کے مقامات کو محفوظ بنانے اور باقی ماندہ مسائل کے حل کے لیے اس کے تعاون کو سراہا۔ انہوں نے اس ضمن میں اب تک ہونے والی پیش رفت کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے زور دیا کہ او پی سی ڈبلیو کا تکنیکی سیکریٹریٹ کنونشن کے مطابق آزادانہ تصدیقی عمل جاری رکھنے کے قابل ہونا چاہیے تاکہ شام میں موجود مشتبہ کیمیائی ہتھیاروں کو ختم کیا جا سکے اور ان کے پھیلاؤ کے کسی بھی خطرے کو کم کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شامی حکام کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا او پی سی ڈبلیو کے کام میں معاون ثابت ہوگا، جس میں اعلامیہ جمع کرانا، تحقیقات، تجزیہ اور تصدیقی سرگرمیاں شامل ہیں، اور اس سے پیش رفت کی رفتار بھی تیز ہو سکتی ہے۔
اپنے بیان کے اختتام پر سفیر عثمان جدون نے امید ظاہر کی کہ او پی سی ڈبلیو کے تکنیکی سیکریٹریٹ اور شامی حکام کے درمیان مسلسل روابط موجودہ پیش رفت کو آگے بڑھائیں گے اور تمام باقی ماندہ مسائل کے جلد از جلد حل میں مددگار ثابت ہوں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button