یورپتازہ ترین

شامی پناہ گزینوں کی واپسی کا ہدف دمشق حکومت کی تجویز تھی، جرمن چانسلر کی وضاحت

جرمن چانسلر نے کہا کہ شام کی تعمیر نو کے لیے وہاں کے شہریوں کی ضرورت ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا، ’’جو افراد جرمنی میں رہنا چاہتے ہیں اور اچھی طرح ضم ہو چکے ہیں، وہ یہاں رہ سکیں گے۔‘‘

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے منگل کے روز وضاحت کی کہ جرمنی میں مقیم نو لاکھ سے زائد شامی باشندوں میں سے 80 فیصد کی تین سال میں واپسی کا ہدف شام کے عبوری صدر احمد الشرع کی جانب سے تجویز کیا گیا تھا۔
جرمن چانسلر کی جانب سے یہ وضاحت شامی باشندوں کی واپسی سے متعلق اپنے پیر کے روز دیے گئے بیان پر شدید تنقید کا سامنا کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔ میرس نے اس سلسلے میں اپنا ابتدائی بیان پیر کو اس وقت دیا تھا، جب شامی صدر احمد الشرع جرمنی کے دورے پر تھے۔ جرمنی ان ممالک میں شامل ہے، جہاں سابق صد بشار الاسد کے دور میں جاری خانہ جنگی سے فرار ہونے والے شامی پناہ گزینوں کی بہت بڑی تعداد نے پناہ لی تھی۔
جرمن چانسلر نے کہا کہ شام کی تعمیر نو کے لیے وہاں کے شہریوں کی ضرورت ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا، ’’جو افراد جرمنی میں رہنا چاہتے ہیں اور اچھی طرح ضم ہو چکے ہیں، وہ یہاں رہ سکیں گے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اگلے تین سال کے طویل عرصے میں، جو الشرع کی خواہش تھی، جرمنی میں موجود 80 فیصد شامی باشندوں کو اپنے وطن واپس جانا چاہیے۔‘‘
اس بیان پر جرمنی میں مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے تنقید سامنے آئی، جس کے بعد میرس نے منگل کو وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’تین سال میں 80 فیصد واپسی کا ہدف شامی صدر کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’ہم نے اس ہدف کا نوٹس لیا ہے، لیکن اس کام کی وسعت سے بھی آگاہ ہیں۔‘‘
ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں شامی پناہ گزینوں کی قلیل مدت میں واپسی انتہائی پیچیدہ عمل ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ جرمن معیشت میں شامی کارکنوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جبکہ بعض قانون سازوں نے خبردار کیا ہے کہ اس بہت بلند ہدف کو حاصل نہ کرنا ملک میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button