
شمالی کوریا میں کروز میزائل تجربات: کم جونگ اُن نے بیٹی کے ہمراہ معائنہ کیا، خطے میں کشیدگی میں اضافہ
منگل کو کم جونگ اُن کی بہن کم جونگ اُن نے بھی ایک سخت بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک شمالی کوریا کے خلاف دشمنی رکھتے ہیں۔
ایجنسیاں
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے اپنی کم عمر بیٹی کے ہمراہ جنگی بحری جہاز سے داغے گئے کروز میزائلوں کے تجربات کا معائنہ کیا ہے۔ یہ تجربات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب خطے میں سکیورٹی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور United States اور South Korea کی مشترکہ فوجی مشقیں جاری ہیں۔
خبر رساں ایجنسی Associated Press کے مطابق شمالی کوریا نے ان مشترکہ فوجی مشقوں کے جواب میں سخت ردعمل دینے کی دھمکی دی تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ میزائل تجربات اسی تناظر میں کیے گئے ہیں تاکہ شمالی کوریا اپنی دفاعی اور حملہ آور صلاحیت کا مظاہرہ کر سکے۔
میزائل تجربات کا مشاہدہ
بدھ کے روز شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے Korean Central News Agency کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کم جونگ اُن اور ان کی بیٹی ایک کنٹرول روم میں بیٹھے بڑی سکرین پر میزائلوں کے تجربات کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق میزائل فائر کرنے کا منظر منگل کے روز ویڈیو کے ذریعے دیکھا گیا۔ یہ کروز میزائل شمالی کوریا کے مغربی ساحل کے قریب واقع ہدفی جزیروں کی جانب داغے گئے اور کامیابی کے ساتھ اپنے اہداف تک پہنچے۔
کم جونگ اُن نے تجربات کے بعد کہا کہ شمالی کوریا کے لیے ایک “طاقتور اور قابل اعتماد جوہری روک تھام” برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے۔ ان کے مطابق یہ تجربات ملک کی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے اور دشمنوں کو واضح پیغام دینے کے لیے کیے گئے ہیں۔
کم جونگ اُن کی بیٹی کی بڑھتی ہوئی عوامی موجودگی
اس موقع پر کم جونگ اُن کی بیٹی Kim Ju Ae بھی ان کے ہمراہ موجود تھیں۔ ان کی عمر تقریباً تیرہ سال بتائی جاتی ہے اور وہ 2022 کے اواخر سے اپنے والد کے ساتھ کئی اہم ریاستی اور عسکری تقریبات میں نظر آ رہی ہیں۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران انہیں فوجی پریڈ، ہتھیاروں کے تجربات اور دفاعی معائنوں میں بھی دیکھا گیا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی موجودگی نے عالمی مبصرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
South Korea کی قومی انٹیلی جنس سروس کے بعض حکام کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کم جونگ اُن مستقبل میں اپنی بیٹی کو سیاسی جانشین کے طور پر تیار کر رہے ہوں، تاہم اس بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
بحریہ کی صلاحیت بڑھانے کا منصوبہ
شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع کے مطابق حالیہ تجربات کا بنیادی مقصد بحریہ کی حملہ آور صلاحیت کا مظاہرہ کرنا اور فوجیوں کو جدید ہتھیاروں کے استعمال کی عملی تربیت فراہم کرنا تھا۔

کم جونگ اُن نے اپنی فوجی قیادت کو ہدایت دی کہ بحریہ کو جدید میزائل نظام اور جوہری صلاحیتوں سے لیس کرنے کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کی جنگوں میں بحریہ کا کردار انتہائی اہم ہوگا اور اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے۔
امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقیں
یہ میزائل تجربہ ایسے وقت میں کیا گیا جب United States اور South Korea کی مشترکہ بہار کی فوجی مشقیں شروع ہو چکی ہیں۔ ان مشقوں کا مقصد خطے میں دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا اور ممکنہ خطرات کے خلاف تیاری کو بہتر بنانا بتایا جاتا ہے۔
تاہم شمالی کوریا ان مشقوں کو اپنے خلاف ممکنہ حملے کی تیاری قرار دیتا ہے اور اکثر ان کے جواب میں میزائل تجربات یا فوجی سرگرمیاں بڑھا دیتا ہے۔
کم یو جونگ کا سخت بیان
منگل کو کم جونگ اُن کی بہن کم جونگ اُن نے بھی ایک سخت بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک شمالی کوریا کے خلاف دشمنی رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شمالی کوریا اپنے دشمنوں کو یہ یقین دلانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا کہ اس کی جنگی روک تھام کی صلاحیت مضبوط اور مؤثر ہے۔
نئے جنگی جہاز کا معائنہ
اس سے قبل گزشتہ ہفتے کم جونگ اُن نے اپنے ملک کے ایک نئے جنگی جہاز کا دو روز تک مسلسل معائنہ کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے جہاز سے داغے جانے والے کروز میزائلوں کے تجربات بھی دیکھے اور بحریہ کی جدید کاری کے منصوبوں کا جائزہ لیا۔
کم جونگ اُن نے اس موقع پر اعلان کیا تھا کہ شمالی کوریا اپنی بحریہ کو جوہری ہتھیاروں سے لیس کرنے کے عمل کو تیز کرے گا تاکہ سمندری دفاع کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
ماہرین کے مطابق حالیہ میزائل تجربات سے مشرقی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان پہلے ہی شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام پر شدید تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے بار بار میزائل تجربات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک اپنی عسکری صلاحیت کو مسلسل بڑھا رہا ہے اور خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔



