مشرق وسطیٰتازہ ترین

ایران کے خلاف لڑنے کی اجازت مانگنے کا دعویٰ، بھارتی فضائیہ کی خاتون افسر کے بیان پر بحث

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے

نئی دہلی: بھارتی فضائیہ کی ایک خاتون افسر کے مبینہ بیان نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔ بھارتی فضائیہ کی اسکواڈرن لیڈر انکیتا کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بھارتی خواتین پائلٹس حکومت سے ایران کے خلاف کارروائی کی اجازت دینے کی اپیل کر رہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اسکواڈرن لیڈر انکیتا نے کہا کہ بھارتی فضائیہ کی خواتین پائلٹس حکومت سے لفظی طور پر درخواست کر رہی ہیں کہ انہیں ایران کے خلاف کارروائی کی اجازت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فضائیہ ایران کے خلاف بھی وہی سخت جواب دے سکتی ہے جو ماضی میں پاکستان کے خلاف دیا گیا تھا۔

اسرائیل کی حمایت کا اظہار

بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارتی فضائیہ اسرائیل کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل کے خلاف ہونے والے حملوں کا بدلہ لینے کے لیے بھی کارروائی کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق بھارتی پائلٹس کسی بھی ممکنہ چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور عالمی سطح پر اس صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔

پاکستان کا حوالہ

اسکواڈرن لیڈر انکیتا نے اپنے بیان میں پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی فضائیہ پہلے بھی سخت کارروائیاں کر چکی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فضائیہ اپنی کارروائیوں کے ذریعے دشمن کو سبق سکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے مبینہ طور پر ایک فوجی آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ماضی میں پاکستان کے خلاف بھی سخت ردعمل دیا تھا اور وہی طرز عمل مستقبل میں بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔

علاقائی کشیدگی پر خدشات

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا مرکز بنے ہوئے ہیں، اور ایسی صورتحال میں سخت بیانات سفارتی ماحول کو متاثر کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری کی توجہ اس وقت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر مرکوز ہے تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔

سفارتی حلقوں کا مؤقف

سفارتی حلقوں کے مطابق کسی بھی ملک کے فوجی عہدیداروں کے اس نوعیت کے بیانات کو عموماً ریاستی پالیسی کا باقاعدہ اعلان نہیں سمجھا جاتا، تاہم یہ بیانات عوامی اور سیاسی سطح پر بحث کو ضرور جنم دیتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں خطے کے ممالک کے لیے سفارت کاری، مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں زیادہ اہم ہیں تاکہ کسی بڑے تنازع سے بچا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button