بین الاقوامیاہم خبریں

آبنائے ہرمز بند رہنی چاہیے، ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا بیان

خلیج عرب میں بحری جہازوں کی آمد و رفت اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ایران کے مسلسل حملوں کے باعث جمعرات کو تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی

ایجنسیاں
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کو کہا کہ آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کا اختیار استعمال کیا جانا چاہیے اور خلیجی عرب ممالک پر ایران کے حملے جاری رہیں گے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق مجتبی خامنہ ای کی تقرری کے بعد یہ ان کا پہلا بیان تھا جو سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک نیوز اینکر نے پڑھ کر سنایا۔ خامنہ ای خود کیمرے پر نظر نہیں آئے، جبکہ اسرائیلی اندازوں کے مطابق وہ جنگ کے ابتدائی حملوں میں زخمی ہو گئے تھے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے جنگ میں مارے جانے والوں کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا، جن میں ایک سکول پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والے افراد بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دشمن سے معاوضہ حاصل کرے گا، جس سے مراد امریکہ ہے۔ اگر امریکہ نے انکار کیا تو ایران اس کے اثاثوں سے لے گا یا انہیں اسی حد تک تباہ کر دے گا۔
خلیج عرب میں بحری جہازوں کی آمد و رفت اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ایران کے مسلسل حملوں کے باعث جمعرات کو تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی۔ اسی دوران امریکی اور اسرائیلی حملے ایران پر جاری رہے اور جنگ کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔
ایران عالمی معیشت پر اتنا دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اپنی بمباری روک دیں۔ یہ جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تھی۔
ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ایران کے حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ملک کو آئندہ کسی حملے کے خلاف سکیورٹی کی ضمانت نہیں ملتی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بندی یا امریکہ کی جانب سے فتح کے اعلان کے بعد بھی شاید تنازع ختم نہ ہو۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ کام مکمل کریں گے، حالانکہ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران تقریباً تباہ ہو چکا ہے۔
اسی دوران لبنان سےحزب اللہ کے جنگجوؤں نے شمالی اسرائیل پر تقریباً 200 راکٹ داغے، جبکہ مختلف علاقوں میں سائرن بجتے رہے اور ایرانی میزائلوں کو روکنے کے دوران زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ اسرائیل نے تہران اور لبنان میں حملوں کی ایک اور لہر شروع کی جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے۔
اقوام متحدہ کا ادارہ براءے پناہ گزین کے مطابق جاری جنگ کے باعث ایران میں 32 لاکھ تک افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگ تہران اور دیگر بڑے شہروں سے ملک کے شمالی حصوں یا دیہی علاقوں کی طرف نقل مکانی کر گئے ہیں۔ لبنان میں بھی کم از کم 7 لاکھ 59 ہزار افراد اندرونِ ملک بے گھر ہو چکے ہیں۔
ایرانی حکام کسی پسپائی کے امکان کو مسترد کرتے ہیں،ایرانی صدر نے جمعرات کو آن لائن بیان میں کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے دنیا کو ایران کے ‘جائز حقوق’کو تسلیم کرنا ہوگا، ہرجانہ ادا کرنا ہوگا اور مستقبل میں حملوں کے خلاف ضمانت دینا ہوگی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button