یورپتازہ ترین

مشی گن میں عبادت گاہ پر حملہ، فائرنگ کے تبادلے کے بعد مسلح حملہ آور ہلاک

شیرف کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں اور حملہ آور کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں حملہ آور ہلاک ہو گیا۔

ڈیٹرائٹ / مشی گن — خصوصی رپورٹ

امریکی ریاست مشی گن کے شہر ویسٹ بلوم فیلڈ میں ایک یہودی عبادت گاہ پر حملے کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں مسلح حملہ آور ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ جمعرات کو پیش آیا جب ایک نامعلوم شخص نے عبادت گاہ کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

یہ واقعہ ویسٹ بلوم فیلڈ کے مضافاتی علاقے میں واقع ٹیمپل اسرائیل نامی عبادت گاہ میں پیش آیا، جہاں حملہ آور کے ہلاک ہونے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں کسی اور شخص کے زخمی ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔


فائرنگ کا تبادلہ اور حملہ آور کی ہلاکت

آکلینڈ کاؤنٹی کے شیرف مائیکل بوچارڈ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ایک شخص عبادت گاہ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا جب سکیورٹی اہلکاروں نے اسے دیکھا اور صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کی۔

شیرف کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں اور حملہ آور کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں حملہ آور ہلاک ہو گیا۔

انہوں نے کہا
“کم از کم ایک شخص عبادت گاہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے اسے دیکھا اور فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس وقت تک کسی اور شخص کے زخمی ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی، سوائے ممکنہ طور پر شوٹر کے۔”

شیرف نے مزید بتایا کہ تفتیش کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس حملے میں صرف ایک ہی شخص ملوث تھا یا اس کے ساتھ دیگر افراد بھی شامل تھے۔


واقعے کے بعد علاقے میں سخت سکیورٹی

فائرنگ کے واقعے کے فوراً بعد پولیس، بم ڈسپوزل اسکواڈ، اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی۔ عبادت گاہ کے اطراف کے علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا جبکہ شہریوں کو علاقے سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی۔

ٹیلی ویژن چینلز پر نشر ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا تھا کہ عبادت گاہ کے ارد گرد پولیس اور ایمرجنسی گاڑیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ عمارت کے ایک حصے سے دھواں اٹھتا ہوا بھی دیکھا گیا، تاہم حکام نے ابھی تک اس بارے میں واضح تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ آگ کس وجہ سے لگی۔

مقامی میڈیا کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں یہ بھی سامنے آیا کہ حملہ آور نے مبینہ طور پر ایک گاڑی عبادت گاہ کی عمارت میں داخل کرنے کی کوشش کی تھی۔


یہودی اداروں میں لاک ڈاؤن

واقعے کے بعد ڈیٹرائٹ کی جیوش فیڈریشن نے احتیاطی تدابیر کے طور پر شہر اور آس پاس کے علاقوں میں موجود کئی یہودی اداروں اور کمیونٹی مراکز کو عارضی طور پر لاک ڈاؤن کر دیا۔

ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ:

“ہم کمیونٹی کے تمام افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فی الحال اس علاقے سے دور رہیں اور حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔”

حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال مکمل طور پر واضح ہونے تک سکیورٹی اقدامات سخت رکھے جائیں گے۔


گورنر مشی گن کی مذمت

مشی گن کی گورنر گریچن وائٹمر نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیا۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا:

“یہ انتہائی دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ مشی گن کی یہودی برادری کو مکمل امن کے ساتھ زندگی گزارنے اور اپنے مذہبی عقائد پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہمارے معاشرے میں سام دشمنی اور تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔”

گورنر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واقعے کی مکمل تحقیقات کرنے کی ہدایت بھی دی۔


عالمی کشیدگی کے تناظر میں واقعہ

حکام کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب عالمی سطح پر ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

آکلینڈ کاؤنٹی کے شیرف مائیکل بوچارڈ نے بتایا کہ مقامی پولیس اور دیگر سکیورٹی ادارے گزشتہ دو ہفتوں سے ہائی الرٹ پر تھے کیونکہ عالمی کشیدگی کے باعث ایسے واقعات کا خطرہ پہلے ہی ظاہر کیا جا رہا تھا۔

انہوں نے کہا:

“ہم گزشتہ دو ہفتوں سے اس ممکنہ اور افسوسناک صورتحال کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ اس لیے سکیورٹی کی تیاری میں کوئی کمی نہیں رکھی گئی تھی۔”


یہودی تنصیبات پر اضافی سکیورٹی

شیرف کے مطابق مشی گن میں موجود تمام یہودی عبادت گاہوں، کمیونٹی مراکز اور دیگر مذہبی اداروں کے اطراف سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں، علاقے میں سکیورٹی فورسز کی اضافی موجودگی برقرار رکھی جائے گی۔


تحقیقات جاری

پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ حملے کے محرکات اور ممکنہ نیٹ ورک کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے بعد مزید تفصیلات سامنے آئیں گی اور یہ بھی واضح ہو سکے گا کہ آیا حملہ کسی منظم منصوبے کا حصہ تھا یا ایک انفرادی کارروائی۔

ماہرین کے مطابق امریکہ میں عبادت گاہوں اور مذہبی مراکز کی سکیورٹی ایک حساس مسئلہ بن چکا ہے اور حالیہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مذہبی مقامات کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button