
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،سیکیورٹی ذرائع کے ساتھ
اسلام آباد: سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج نے 12 اور 13 مارچ کی درمیانی شب افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف ایک مؤثر اور ہدفی کارروائی کرتے ہوئے متعدد اہم تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں “آپریشن غضب للحق” کے تحت کی گئیں جن کا مقصد پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کو کمزور کرنا اور سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران پاک افواج نے صرف ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج سے منسلک دہشت گرد گروہوں کے ٹھکانے اور فوجی نوعیت کی تنصیبات موجود تھیں۔ ان حملوں میں کسی شہری آبادی یا سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
ذرائع کے مطابق کارروائیوں کے دوران جنوبی افغانستان کے شہر قندھار میں واقع ایک اہم ایئر فیلڈ کے قریب موجود آئل سٹوریج سائٹ کو مؤثر انداز میں تباہ کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس آئل سٹوریج سائٹ کے ساتھ منسلک لاجسٹک انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا جس سے دہشت گرد نیٹ ورک کو ایندھن اور رسد کی فراہمی میں شدید خلل پڑا ہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق مذکورہ آئل سٹوریج سائٹ کا تیل نہ صرف طالبان حکومت بلکہ دہشت گرد تنظیمیں بھی اپنی کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی تھیں۔ اس ایندھن کو دہشت گردوں کی نقل و حرکت، اسلحہ کی ترسیل اور دیگر عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، جس کے باعث اسے ایک اہم عسکری ہدف قرار دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے بعد جاری ہونے والی ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ پاک افواج نے انتہائی درستگی کے ساتھ صرف دہشت گردوں کے کیمپس، فوجی تنصیبات اور لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنایا۔ ویڈیو میں شہری علاقوں یا عام آبادی کو نقصان پہنچنے کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس ویڈیو نے ان دعوؤں اور پروپیگنڈے کو بھی مسترد کر دیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ پاکستان کی کارروائیوں کے دوران افغانستان میں سویلین آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج بین الاقوامی قوانین اور جنگی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتی ہیں۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق پاکستان آرمڈ فورسز کی جانب سے جاری اس آپریشن کا مقصد ان تمام نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہے جو افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔
ذرائع کے مطابق “آپریشن غضب للحق” کے تحت کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک مقررہ اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہو جاتے اور سرحد پار موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کو مؤثر طریقے سے ختم نہیں کر دیا جاتا۔
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائیاں پاکستان کی اس پالیسی کا حصہ ہیں جس کے تحت ملک اپنی سرزمین کے دفاع اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کر رہا ہے۔ حکام کے مطابق پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔



