
سید عاطف ندیم-پاکستان، وائس آف جرمنی اردو نیوزکے ساتھ
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کو عالمی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے، اور اس سلسلے میں چین نے بھی اسلام آباد کے کردار کو قابلِ تعریف قرار دیا ہے۔ پاکستان میں تعینات چینی سفیر جیانگ زے ڈونگ نے ایک اہم میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک ذمہ دار اور مثبت ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔
چینی سفیر نے واضح کیا کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے، ایسے میں پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی اور سفارتی رابطوں کی کوششیں انتہائی اہم اور قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی یہ کاوشیں کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن کے قیام میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے بعض عالمی طاقتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چند ممالک اجارہ دارانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، جو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں اقوام متحدہ کو فوری، فعال اور مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ تنازع مزید نہ بڑھے اور سفارتی حل کو فروغ مل سکے۔
چینی سفیر نے اس موقع پر چین کے صدر شی جن پنگ کی جانب سے پیش کردہ “گلوبل گورننس” کے تصور کا بھی ذکر کیا، جس کا مقصد دنیا میں ایک منصفانہ، متوازن اور شفاف عالمی نظام قائم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وژن کو پاکستان سمیت متعدد ممالک کی حمایت حاصل ہے، اور موجودہ حالات میں اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
اقتصادی تعاون کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جیانگ زے ڈونگ نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات نہایت مضبوط، جامع اور دیرپا ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون صرف انفراسٹرکچر تک محدود نہیں بلکہ اس میں معیشت، ٹیکنالوجی، زراعت، صحت اور انسانی ترقی کے دیگر شعبے بھی شامل ہیں۔
انہوں نے چین کے پندرھویں پانچ سالہ معاشی و سماجی ترقیاتی منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں عوامی فلاح و بہبود کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، اور چین اس وژن کو بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے آگے بڑھانا چاہتا ہے، جس میں پاکستان ایک اہم شراکت دار ہے۔
اس موقع پر پاکستان کی وزیر مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی شذرہ منصب نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری صرف ایک انفراسٹرکچر منصوبہ نہیں بلکہ ایک جامع ترقیاتی فریم ورک ہے، جس کے تحت پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی، زرعی اصلاحات، صحت کے نظام کی بہتری اور معیارِ زندگی کو بلند کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک کے اگلے مراحل میں گرین انرجی، ڈیجیٹل معیشت اور پائیدار ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جو پاکستان کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے میں مدد دے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی کھل کر حمایت نہ صرف خطے میں پاکستان کے کردار کو تقویت دیتی ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کے مثبت امیج کو بھی مستحکم کرتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، پاکستان اور چین جیسے ممالک کی مشترکہ سفارتی کوششیں امن کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔



