کالمزناصف اعوان

منظر بدل گئے پس منظر بدل گئے !…….ناصف اعوان

بہرحال جنگ جاری ہے مگر اس کی حمایت نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ تباہی ہے پھر جدید دور کی جنگوں میں جو اسلحہ و بارود استعمال ہو رہا ہے

امریکا کا کہنا ہے کہ اب جنگ نہیں ہو نی چاہیے مگر وہ نئے سرے سے خود کو منظم کرتا ہوا بھی دکھائی دے رہا ہے ۔اس کے پیش نظر ایران نے کہا ہے کہ وہ کوئی مزاکرات نہیں کرے گا اور جنگ کو جاری رکھے گا کیونکہ امریکا ایک شاطر اور بے اعتبارا ملک ہے وہ کہتا کچھ ہے کرتا کچھ ہے ۔ صدر ٹرمپ نے اقتدار میں آتے ہی امن کا نعرہ لگایا تھا اور جنگوں کو رکوانے کی بات کی تھی مگر وہ اس کے برعکس نمودار ہوئے اور اب پورے جنگی جنون کے ساتھ ایران پر حملہ آور ہیں اس سے پہلے وہ وینزویلا کے صدر کو زبردستی اپنے ملک میں لے جا چکے ہیں اسی لئےایران اُس پر یقین نہیں کر رہا. اِس سے صاف ظاہر ہے کہ جنگ طول پکڑے گی لہذا اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہوں گے بلکہ ہو رہے ہیں۔
وطن عزیز میں ہر شعبہء حیات پر اس کے باقاعدہ اثرات پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ تیل کی بچت کے حوالےسے چند بڑے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جبکہ کہنے والے کہتے ہیں کہ تیل موجود ہے اور سپلائی بھی ہو رہی ہے ایران پاکستانی تیل کے جہازوں کو نہیں روک رہا وہ تو خود چاہتا ہے کہ پاکستان جتنا چاہے تیل انتہائی کم قیمت میں خرید لے اُدھر روس نے بھی سستا ترین تیل خریدنے کی پیشکش کی ہے اب تو ایران سے بھی امریکا پابندی ہٹ گئی ہے پھر ناجانے کیوں حکومت ہچکچا رہی ہے شاید وہ مزید تیل کی قیمت بڑھا کر قومی خزانہ بھرنا چاہتی ہے جو سوائے قرضے کی رقوم سے ہی بھرا جا سکتا ہے مگر ہونے والے حکومتی اخراجات سے پھر وہ پہلے والی پوزیشن میں آجاتا ہے لہذا خزانہ اس وقت ہی لبا لب ہو گا جب ہماری برآمدات بڑھیں گی اور بد عنوانی پر قابو پایا جائے گا ۔
بہرحال جنگ جاری ہے مگر اس کی حمایت نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ تباہی ہے پھر جدید دور کی جنگوں میں جو اسلحہ و بارود استعمال ہو رہا ہے وہ ہر ذی روح کے لئے انتہائی مضر ہے اور اگر کوئی ملک کسی دوسرے پر جوہری بم پھینک دیتا ہے تو حیات ختم ہو جاتی ہے اس کے ساتھ والے ممالک بھی مختلف امراض کا شکار ہو کر تڑپنے لگتے ہیں لہذا بڑے چھوٹے ملکوں کو ایران اسرائیل اور امریکا کے مابین ہونے والی جنگ کو رکوانے کے لئے آگے آئیں یہ کسی ایک ملک کا مسلہ نہیں پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آرہی ہے ۔
ایران اور اسرائیل پر جس قدر میزائلوں کی بارش ہو چکی ہے مزید بھی ہو گی جس سے انفرا سٹرکچر کو بے حد و حساب نقصان پہنچے گا اور اسے پہلے والی شکل میں لانے کے لئے طویل عرصہ درکار ہو گا لہذا ضروری ہے کہ حقیقی مزاکرات کے لئے ہر کوئی کوشش کرے یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایک فریق دوسرے کو کہے کہ وہ جنگ بند کر رہا ہے مگر وہ دھوکا دے کر وقت حاصل کرنا چاہ رہا ہو تاکہ تازہ دم ہو کر حملہ آور ہو سکے ۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکا جنگ بند نہیں کرنا چاہتا اور جنگ کو نیا رخ دے کر اس کی مجموعی معیشت کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے اور اسے جھکا کر اپنے مخصوص مقاصد کی تکمیل کا خواہاں ہے لہذا وہ اپنی شرائط پر جنگ ختم کرے گا کہ اس کے پاس برسوں تک لڑنے کی صلاحیت و اہلیت ہے ۔ رہی بات خلیجی مسلم ممالک کی‘ ان کے ساتھ اس کی کوئی لڑائی نہیں مگر اگر امریکی اڈے ان میں موجود رہتے ہیں تو وہ ان پر میزائل ضرور برسائے گا کیونکہ وہاں سے امریکی جہاز اور میزائل اس کی اہم اور حساس تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں لہذا ایران کیسے ان اڈوں کو نظر انداز کر سکتا ہے ۔ اب عین ممکن ہے عربوں کو سمجھ آگئی ہو کہ طاقت کے مراکز تبدیل ہو رہے ہیں تو انہیں سوچ بچار کرنا ہو گی کیونکہ ایران کے آگے اب اسرائیل ہو یا امریکا نہیں ٹھہر سکتے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پیچھے چین روس اور شمالی کوریا کھڑے ہیں جو اسے ہر طرح کی ٹیکنالوجی فراہم کر رہے ہیں اور بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق چین کے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہے کہ وہ دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دے ۔یہ جو امریکا ایران کے اندر اپنی فورسز اتارنا چاہتا ہے علاؤہ ازیں سمندر کا ہر راستہ اپنے قبضہ میں لینے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اس سے اسے کچھ حاصل نہیں ہونے والا کیونکہ پہلی بار خطر ناک ہتھیار اس کا استقبال کریں گے اور اس کی ساری کوششوں پر پانی پھیر دیں گے ایران نے اب تک کی جنگ سے ثابت کیا ہے کہ وہ شکست تسلیم کرنے والوں میں سے نہیں اگرچہ امریکا اور اسرائیل نے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے مگر اس نے بھی ”چھڈیا ان کا ککھ نئیں“ انہوں نے سمجھا تھا کہ بس پانچ چھے حملوں سے اس کی ساری ہوا نکل جائے گی اور وہ اس پر قابض ہو کر اس خطے کو کنٹرول کریں گے اور عربوں کی تو مت مار دیں گے مگر بقول پروفیسر ناصر بشیر منظر بدل گئے پس منظر بدل گئے ۔حالات اپنے شہر کے یکسر بدل گئے۔
ایران نے انہیں دہلا کر رکھ دیا اگرچہ ٹرمپ صدر امریکا نے کہا کہ وہ پانچ روز کے لئے جنگ بند کر رہا ہے مگر حملے جاری رکھے لہذا ایران بھی اپنے حملوں میں تیزی لے آیا ہے اور حیران کن ہتھیاروں سے ان کی چیخیں نکلوا رہا ہے۔ اس کو چین نے مبینہ طور سے اینٹی شپ میزائل بھی بھجوا دئیے ہیں جس کے نتیجے میں امریکا نے اپنے خطرناک اور قیمتی ترین بحری بیڑوں کو واپس بلا لیا ہے۔ اب آتے ہیں امریکی آخری وار کی طرف کہ وہ اپنی جیت کی خاطر ایران پر ایٹم بم گراتا ہے تو کیا اسے جواب نہیں ملے گا ۔ یقیناً اس کا ویسا ہی ردعمل ہوگا کیونکہ چین روس اور شمالی کوریا آرام سے نہیں بیٹھیں گے؟
بہر کیف امریکا اور اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ ان کی جارحانہ پالیسیوں سے قریباً ساری دنیا اختلاف کرتی ہے کیونکہ جب ان کی معیشت ڈوب رہی ہو تو وہ کسی بھی طور جنگ کو درست نہیں کہہ سکتے ۔دیکھا جا سکتا ہے کہ دھیرے دھیرے زندگی کے معمولات محدود سے محدود ہونے لگے ہیں ۔ یورپ میں تشویش کی لہر صاف دیکھی جا سکتی ہے لہذا امریکا نے ایران کو طاقت کے ذریعے زیر کرنے کا جو پروگرام بنایا تھا وہ سب غارت ہو چکا ہے اّس نے اِس قدر مزاحمت کی کہ جس کی دُور دُور تک کوئی امید نہیں تھی لہذا اب جب وہ بڑی کارروائی کرنے کا ارادہ ظاہرکر رہا ہے تو اس کو سخت ترین مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا پھر ان چراغوں میں روشنی نہیں رہے گی لہذا اس کو چاہیے کہ وہ واقعتاً لڑنا بند کر دے اور امن کا پرچم لہرا دے تب جا کر ایران سمیت دنیا کو یقین آئے گا ۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button