کالمزحیدر جاوید سید

کیا امریکہ و ایران جنگ بندی کی طرف بڑھ رہے ہیں ؟ …….حیدر جاوید سید

میری معلومات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان اب تک جنگ بندی کے حوالے سے بلاواسطہ یا بلواسطہ کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔

علاقائی و عالمی صورتحال بالخصوص ایران پر مسلط جنگ سے پیدا شدہ مشکلات و مسائل پر کالم لکھنے لگا تھا کہ پچھلے 24 گھنٹوں سے ایران امریکہ مذاکرات ( مبینہ ) کے حوالے سے پاکستان میں ایران کے سفیر جنابِ رضا امیری مقدم کا بیان آگیا آپ پہلے ایرانی سفیر اور دو دیگر ذمہ داران کے بیانات پڑھ لیجے پھر اس موضوع پر بات کرتے ہیں ذرائع ابلاغ کے مطابق ” ایرانی فوج کے ترجمان کے بعد پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے بھی امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے بلاواسطہ یا بلواسطہ مذاکرات کی تردید کر دی۔
اپنے بیان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ پاکستان جیسے دوست ممالک تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت کی بنیاد ڈالنا چاہتے ہیں، امید ہے دوست ممالک کی کوششیں کامیاب ہو جائیں گی۔ رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ دوست ممالک جارحیت کے خاتمے کے لیے فریقین سے رابطے میں رہتے ہیں،
لیکن میری معلومات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان اب تک جنگ بندی کے حوالے سے بلاواسطہ یا بلواسطہ کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر رہے ہیں، ایران مختلف ممالک کے پیغامات کا جواب دے رہا ہے، ایران کا مؤقف واضح ہے کہ وہ اپنا دفاع جاری رکھے گا۔
اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے دوران مذاکرات کی باتیں قابل یقین نہیں ہیں، عباس عراقچی پاکستانی ہم منصب اور دیگر ممالک کے سفارتکاروں سے رابطے میں ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ایران ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان کے ترجمان نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اپنی شکست کو معاہدے کا نام نہ دے، خطے میں امریکی سرمایہ کاری کے آثار باقی نہیں رہیں گے” ایرانی افواج اور وزارت خارجہ کے ترجمانوں کے علاوہ پاکستان میں ایرانی سفیر کے بیانات آپ پڑھ چکے
ایران امریکہ مذاکرات کیلئے پاکستان کے ثالثی کردار اور قبولیت کی بات منگل کی دوپہر شروع ہوئی اسی روز وائٹ ہاؤس نے سرکاری طور پر تصدیق کی کہ پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اس موضوع پر بات ہوئی ہے منگل کی سپہر میں ہی تجزیہ نگار یہ کہتے دیکھائی دیئے کہ امریکی صدر جو یہ کہہ رہے ہیں کہ ایرانی طاقتور شخصیت سے مذاکرات کیلئے بات ہوئی ہے یہ درست ہے لیکن صدر ٹرمپ کی براہ راست کسی ایرانی شخصیت سے بات نہیں ہوئی بلکہ ان کا پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے توسط سے ایرانی سے رابطہ ہوا شہباز شریف نے ایرانی صدر سے جو گفتگو کی اس سے یہ تاثر ابھرا کہ دونوں ملک جنگ بندی کیلئے بات چیت پر آمادہ ہیں لیکن دونوں کے سامنے سوال یہ ہے کہ بات ہوتو کیسے اور کہاں ہو ثالث کون ہوگا اور ضامن کون ؟
تجزیہ نگاروں کی بات ابھی تھمی نہیں تھی کہ ذرائع ابلاغ کے توسط سے ایران کی جانب سے مذاکرات کیلئے 6 شرائط بھی سامنے آگئیں جس سے یہ تاثر مزید پختہ ہوگیا کہ ” کچھ نہ کچھ ” ہے اور چل ضرور رہا ہے اسی دوران صدر ٹرمپ کی خوش فہمیوں اور یوٹرن سے عبارت دوتین بیانات بھی آگئے لیکن یہ فی الوقت ہمارا موضوع نہیں
ایران امریکہ مذاکرات کے امکانات پر بات صدر ٹرمپ کے اس بیان سے شروع ہوئی جو انہوں نے ایرانی توانائی مراکز کو 48 گھنٹے بعد تباہ کرنے کی اپنی ڈیڈ لائن میں 5 دن کی توسیع کے حوالے سے دیا اسی بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ایران بات چیت چاہتا ہے اس لئے فوری طورپر توانائی کے مراکز پر حملوں کے فیصلے کو 5 دن کے لئے ملتوی کردیا ہے
منگل کی شام ہی اس تحریر نویس نے ایک نجی چینل کے پروگرام میں عرض کیا کہ "صدر ٹرمپ اور امریکہ پر اعتبار کیسے کیا جائے کیونکہ ایران جنگ کے آغاز کے وقت طرفین میں مذاکرات جاری تھے مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ کے اعلان سے قبل امریکہ اسرائیل کے ہمراہ ایران پر چڑھ دوڑا
یہی نہیں بلکہ صدر ٹرمپ نے اوبامہ دور میں ہوئے ایران معاہدے کو یکطرفہ طور پر منسوخ کردیا تھا اس معاہدے میں شامل ممالک ( جرمنی وغیرہ ) نے حالیہ ایران جنگ کے آغاز سے اب تک امریکی فیصلوں جارحیت اور دوسرے معاملات پر ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کو نہ صرف آڑے ہاتھوں لیا بلکہ ان ممالک نے ٹرمپ کی اپیلوں منتوں ترلوں اور دھمکیوں کے باوجود امریکی اتحادی کے طورپر جنگ میں شریک ہونے سے انکار کردیا ہم اس امر کو نظر انداز نہیں کرسکتے کہ ایران کے خلاف جاری جارحیت اور اس پیدا ہوئے مسائل نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے معاشی صورتحال ہرگزرنے والے دن کے ساتھ دنیا بھر کی حکومتوں کے اوسان خطا کررہی ہے ان حالات میں امریکہ پر ایک جانب سے یورپی و دیگر ممالک کا دباو بڑھ رہا ہے تو دوسری جانب خلیج میں اس کے اتحادی ممالک نہ صرف پریشان ہیں بلکہ وہ یہ کہتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں کہ امریکہ نے ان کی قومی سلامتی اور معیشت کیلئے طویل المیعاد خطرات کھڑے کر دیئے ہیںتحریر یہاں تک پہنچی تھی کہ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی رائٹر کی خبر آگئی اس خبر کے مطابق ” ایک سینئر ایرانی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان نے ایران کو ایک امریکی تجویز پیش کر دی ہے، لیکن تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی بات چیت کا مقام ابھی طے ہونا باقی ہے ” لیکن اسی دوران ایک اور خبر بھی آئی وہ یہ کہ ایران نے مقامی ثالث ( جو بظاہر پاکستان بتایا جارہا ہے ) کے ذریعے بھجوائی گئی جنگ بندی کے لئے 15 امریکی شرائط مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ "کسی بیرونی دباؤ میں نہیں آئیں گے اور دشمن کو ’’بھاری نقصان‘‘ پہنچانے کا عزم رکھتے ہیں” یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ امریکی تجاویز اور ایرانی شرائط دونوں پر ہر دو ملکوں کا ابتدائی ردعمل جنگ اور جنگ سے قبل کے حالات کی وجہ سے پیدا ہوئی بداعتمادیوں کا اظہار ہے
ایران لگ بھگ چار دہائیوں سے امریکہ کی ظالمانہ پابندیوں کا سامنا کررہا ہے اس دوران ایران کی داخلی صورتحال کے حوالے سے دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کا بڑا حصہ امریکی خواہشوں کو خبروں کا رنگ دے کر آگے بڑھاتا رہا آج بھی صورتحال مختلف ہرگز نہیں اندریں حالات یہی محسوس ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی توانائی کے مراکز کی تباہی کیلئے دیا گیا 48 گھنٹے کا الٹی میٹم 5 دنوں کے لئے موخر کرنے کے پیچھے جنگ بندی کی خواہش سے زیادہ ایرانی تیل اور گیس کے بڑے ذخائر والے جزیرے خارگ پر زمینی راستے سے قبضہ کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے یاد رہے کہ ایرانی تیل کی 90 فیصد ترسیل خارگ سے ہوتی ہے ۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ ایک ڈیل کی امید رکھتا ہے ۔ دوسری جانب اس امر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ امریکی اب چاہتے یہ ہیں کہ خارگ جزیرے پر موجود ایرانی ڈیفنس کو پن پوائنٹ سٹرائک سے نیوٹرل کیا جائے گا ۔ تیزرفتار آپریشن کے ذریعے گراؤنڈ فورسز اتاری جائیں گی اور تیل کی تنصیبات کو بچاتے ہوئے جزیرے پر قبضہ کیا جائے گا ۔
معروف تجزیہ نگار میاں آصف وسی بابا اس ضمن میں کہتے ہیں کہ ” خارگ ایرانی میزائل اور فائر کی رینج میں ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایران اپنی ہی پٹرولیم تنصیبات کو ایسے تباہ کرنا چاہے گا ؟ یا اگر امریکہ کامیاب ہوتا ہے تو خارگ پر یہ قبضہ ٹرمپ کو بارگیننگ کا ایک موثر ٹول فراہم کرے گا ۔ جو کسی بڑے سمجھوتے کی طرف جانے میں مدد دے گا ”
یہ تحریر بدھ کی دوپہر لکھنا شروع کی تھی اب جمعرات کی صبح سے وقت آگے بڑھ رہا ہے تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ قطر نے ایران کے خلاف جنگ کا حصہ بننے کے امکان کو مسترد کردیا ہے بعض حلقے قطر کی جانب سے ایران کو 6 ارب ڈالر کی مبینہ ادائیگی کی بات بھی کررہے ہیں جسکی فوری طورپر تصدیق ممکن نہیں
ادھر ہمارے ہاں تحریک انصاف اس موقف پر قائم ہے کہ جنگ بند کرانی ہے تو اڈیالہ جیل میں قید عوام اور عالم اسلام کے حقیقی رہنما عمران خان کو رہا کیا جائے دوسری جانب عمران خان کے ایک صاحبزادے قاسم خان نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ دنیا پاکستان کو انسانی حقوق کے احترام پر مجبور کرے کیونکہ پاکستان نے ان کے والد کو جیل میں ڈال رکھا ہے
بہر حال امریکہ اینڈ بُولی اور ایران کے درمیان جنگ بندی کیلئے مذاکرات کے امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا البتہ مطالبات شرائط اور تجاویز کے ایک دو مرحلوں میں رد ہونے پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں
” اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں "

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button