
پاکستان میں غیریقینی معاشی صورتِ حال اور علاقائی کشیدگی کے دوران تعلیمی نظام میں تبدیلیاں…….سید عاطف ندیم
اس کے نتیجے میں کئی نجی اور سرکاری سکولوں نے والدین کو ہفتہ وار سکول بلانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ہوم ورک کا تبادلہ کیا جا سکے اور اساتذہ سے براہ راست ہدایات لی جا سکیں
پاکستان میں غیریقینی معاشی حالات اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے ملک کے تعلیمی نظام میں ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے، جسے سوشل میڈیا اور شہری حلقوں میں مسلسل زیرِبحث لایا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں بچے سکول نہیں جا رہے، اور ان کے والدین روزانہ یا ہفتہ وار سکول کیوں جا رہے ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ان دنوں ہر طرف گونج رہا ہے، اور اس کا تعلق نہ صرف معاشی مسائل سے ہے بلکہ ایک بڑھتے ہوئے معاشرتی اور تعلیمی بحران سے بھی ہے۔
پاکستان میں موجودہ اقتصادی بحران اور توانائی کی کمی کے اثرات تیزی سے عوامی زندگی اور روزمرہ کے کاموں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں میں ایندھن کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں حکومت نے کفایت شعاری کی پالیسی اختیار کی، جس کے تحت تعلیمی اداروں کے آپریشنز میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، توانائی کے بحران کے دوران بجلی کی بچت کے لیے تعلیمی اداروں کی بندش یا کلاسز کی آن لائن منتقلی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پاکستان کے مختلف شہروں میں سکولوں کی بندش اور کلاسز کے محدود اوقات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں کئی نجی اور سرکاری سکولوں نے والدین کو ہفتہ وار سکول بلانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ہوم ورک کا تبادلہ کیا جا سکے اور اساتذہ سے براہ راست ہدایات لی جا سکیں۔ اس غیر معمولی انتظام کے تحت، والدین اپنے بچوں کے ہوم ورک کو سکول لے جاتے ہیں، جہاں وہ اسے اساتذہ کو جمع کراتے ہیں، اگلے ہفتے کا ہوم ورک لیتے ہیں اور بچوں کے تعلیمی عمل کو جاری رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کراچی کے ایک نجی سکول کی منتظمہ نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "ہم نے مکمل طور پر تعلیمی سرگرمیاں بند نہیں کرنا چاہیں کیونکہ بچوں کا تعلیمی تسلسل برقرار رکھنا ضروری تھا۔ اس لیے یہ درمیانی راستہ نکالا گیا ہے تاکہ بچوں کا تعلیمی عمل متاثر نہ ہو۔”
اگرچہ یہ طریقہ عارضی حل کے طور پر اختیار کیا گیا ہے، مگر اس کے اثرات والدین پر واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ متعدد والدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے روزمرہ کے کاموں کے ساتھ ساتھ اب بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری بھی اٹھا رہے ہیں، جو کہ ان کے لیے ایک اضافی بوجھ بن گیا ہے۔ ایک بچے کے والد نے کہا، "میں خود ملازمت کرتا ہوں، اب ہر ہفتے سکول جا کر ہوم ورک لینا اور دینا ایک اضافی ذمہ داری بن گئی ہے۔ بچوں کو پڑھانا بھی آسان نہیں کیونکہ تمام والدین درس و تدریس سے وابستہ نہیں ہیں۔”
اسی طرح، گھریلو خواتین بھی اس صورتِ حال کا سامنا کر رہی ہیں، خاص طور پر وہ جو ایک سے زیادہ بچوں کی تعلیمی ذمہ داریوں کو نبھا رہی ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی ذمہ داری نے والدین کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے دیگر کاموں کے ساتھ بچوں کی تعلیم میں بھی زیادہ وقت گزارنے پر مجبور ہیں۔
ماہرین تعلیم اس نئے طریقہ کار پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ یہ ایک ہنگامی حل ہے جو موجودہ حالات میں قابلِ فہم ہے، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ اس سے تعلیمی معیار متاثر ہو سکتا ہے۔ حماد حسین، جو کہ ایک تعلیم کے ماہر ہیں، نے کہا، "والدین کی جانب سے ہوم ورک دینا اور لینا، تعلیم کا مکمل متبادل نہیں ہو سکتا۔ کلاس روم میں جو تعامل ہوتا ہے، وہ گھر پر ممکن نہیں۔ خاص طور پر چھوٹے بچوں کی سیکھنے کی رفتار، دلچسپی اور سمجھ بوجھ اس نظام کے باعث متاثر ہو سکتی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ، "اس طریقے سے بچوں کی تربیت اور ان کے سیکھنے کی فطری رفتار متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ اس میں کلاس روم کی وہ باہمی سرگرمیاں اور اساتذہ سے براہ راست تعلق نہیں ہوتا جو بچوں کے لیے ضروری ہیں۔”
پاکستان میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کی کلاسز آن لائن منتقل کی جا چکی ہیں، لیکن سکول کے طلبہ کے لیے یہ آپشن ہر جگہ دستیاب نہیں ہے۔ پاکستان میں انٹرنیٹ تک رسائی، ڈیوائسز کی دستیابی اور بجلی کی فراہمی جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں، جس کی وجہ سے آن لائن تعلیم کو مکمل طور پر نافذ کرنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں، کئی سکولوں نے والدین کے ذریعے ہوم ورک کے تبادلے کا طریقہ اختیار کیا ہے، جو کہ کم وسائل میں ایک قابلِ عمل حل سمجھا جا رہا ہے۔
یہ تعلیمی تبدیلیاں براہ راست مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتِ حال سے منسلک ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، فضائی آپریشن میں خلل اور معاشی دباؤ نے حکومت کو کفایت شعاری کے لیے اقدامات کرنے کی جانب متوجہ کیا ہے۔ ان اقدامات کے تحت نہ صرف سرکاری دفاتر بلکہ تعلیمی ادارے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ توانائی کی بچت، اخراجات میں کمی اور وسائل کے بہتر استعمال کے لیے یہ فیصلے کیے گئے ہیں۔ تاہم ان فیصلوں کے اثرات عام شہریوں، خاص طور پر والدین اور طلبہ پر براہ راست مرتب ہو رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس نئے رجحان پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ لوگ اسے ایک "عملی حل” قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے تعلیم کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا، "اب بچے نہیں بلکہ والدین سکول جا رہے ہیں، یہ وقت کی ضرورت ہے یا نظام کی ناکامی؟” دوسری جانب، کچھ والدین کا کہنا ہے کہ وہ اس صورتِ حال کا ادراک رکھتے ہیں اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نتیجہ:
پاکستان میں جاری معاشی بحران اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے دوران تعلیمی نظام میں ہونے والی تبدیلیاں ایک غیر معمولی حل کے طور پر ابھری ہیں۔ یہ صورتِ حال والدین پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہے اور تعلیم کے معیار پر اثرات مرتب کر رہی ہے۔ اگرچہ یہ اقدامات عارضی طور پر کیے گئے ہیں، مگر ان کے اثرات طویل المدت میں تعلیمی نظام کی فعالیت اور معیار پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں، حکومت کو اس بات کا توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے کہ تعلیمی معیار پر اثرات کم سے کم ہوں اور والدین کو اس بوجھ سے بچایا جا سکے، تاکہ بچوں کی تعلیم کا تسلسل برقرار رہے اور ان کی فلاح و بہبود پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔


