
رپورٹ سید عاطف ندیم-کنٹری ہیڈ پاکستان چپٹر،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان میں حالیہ مہینوں کے دوران ادویات کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کی خبروں نے عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ایک جانب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) ان خبروں کی تردید کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف ملک بھر کے صارفین اور ماہرین صحت ادویات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
عوامی سطح پر بڑھتی شکایات
لاہور سے تعلق رکھنے والے شہری محمد ارسلان کے مطابق ان کے بھائی کی ذہنی صحت کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا (ریسپیریڈون) کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ دوا پہلے 500 روپے میں دستیاب تھی، لیکن کچھ عرصہ مارکیٹ سے غائب رہنے کے بعد اب 800 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق فارمیسی مالکان بھی اس اضافے کو کمپنی کی جانب سے قیمت بڑھانے کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔
اسی طرح نورین علی، جن کی والدہ ذیابیطس کی مریض ہیں، نے بتایا کہ انسولین انجیکشن کی قیمت 2200 روپے سے بڑھ کر 4720 روپے ہو گئی ہے، جو 100 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ "یہ جان بچانے والی ادویات ہیں، ان کی قیمتوں میں اس طرح کا اضافہ انتہائی پریشان کن ہے۔”
ماہرین اور وکلاء کی تشویش
پاکستان ڈرگ لائر فورم کے صدر نور محمد ماہر نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کو "منظم” اور "ظالمانہ” قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق ایک مخصوص لابی مارکیٹ کو کنٹرول کر رہی ہے اور گزشتہ دو برسوں میں ادویات کی قیمتوں میں مرحلہ وار اضافہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے مختلف ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ:
- انسولین پین: 2200 سے 4720 روپے
- لوموٹل ٹیبلیٹ: 1100 سے 2000 روپے (82 فیصد اضافہ)
- مائرن-پی فورٹے: 2200 سے 3700 روپے (68 فیصد اضافہ)
- ہیومولین انسولین: 1507 سے 1613 روپے
اس کے علاوہ Gaviscon، Zyrtec اور بچوں کی غذائی مصنوعات جیسے Pediasure اور Ensure میں بھی نمایاں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔
حکومتی اور ادارہ جاتی موقف
دوسری جانب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے واضح طور پر ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں کسی منظم انداز میں اضافہ کیا گیا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق نہ تو ذیابیطس کی ادویات اور نہ ہی دیگر ضروری دواؤں کی قیمتوں میں سرکاری سطح پر اضافہ کیا گیا ہے۔
اسی طرح پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ ضروری ادویات کی قیمتیں مستحکم ہیں اور ان کی سپلائی میں کوئی رکاوٹ نہیں۔
فارما انڈسٹری کا مؤقف
فارماسیوٹیکل انڈسٹری سے وابستہ ماہر ڈاکٹر طاہر خان کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں ادویات کی قیمتوں میں کم از کم 20 فیصد اضافہ ہونا چاہیے، کیونکہ ایندھن اور درآمدی لاگت میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، خصوصاً خلیجی خطہ میں بحران کے باعث خام مال کی درآمد، فریٹ چارجز اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کا براہ راست اثر ادویات کی تیاری پر پڑ رہا ہے۔
اصل حقیقت کیا ہے؟
ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ تکنیکی طور پر تمام فریق کسی حد تک درست ہیں۔
ان کے مطابق حکومت نے باضابطہ طور پر ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا، تاہم فروری 2024 میں جاری ہونے والے ایک نوٹیفکیشن کے تحت قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل کیا گیا۔
اس نئی پالیسی کے مطابق اگر کسی دوا ساز کمپنی کی قیمت بڑھانے کی درخواست پر ڈریپ ایک ماہ میں فیصلہ نہ دے، تو کمپنی خود ہی اپنی تجویز کردہ نئی قیمت نافذ کر سکتی ہے۔
اسی میکانزم کے تحت گزشتہ دو برسوں میں ادویات کی قیمتیں بتدریج بڑھتی رہی ہیں، جس کی وجہ سے اب صارفین کو نمایاں فرق محسوس ہو رہا ہے۔
پالیسی اور مارکیٹ کا تضاد
ماہرین کے مطابق ڈرگ پرائسنگ پالیسی 2018 اور 2024 کے نوٹیفکیشن کے بعد ہزاروں ادویات جزوی طور پر ڈی کنٹرول ہو چکی ہیں۔
دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پانچ ہزار سے زائد برانڈز کی قیمتوں میں 80 فیصد سے 247 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔
نتیجہ
پاکستان میں ادویات کی قیمتوں کا معاملہ ایک پیچیدہ شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں حکومتی اعداد و شمار، فارما انڈسٹری کے دلائل اور عوامی تجربات ایک دوسرے سے مختلف نظر آتے ہیں۔
اگرچہ حکام قیمتوں میں سرکاری اضافے کی تردید کر رہے ہیں، لیکن مارکیٹ میں بڑھتی قیمتیں اور عوامی شکایات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ زمینی حقائق مختلف ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر اس مسئلے کو بروقت اور شفاف طریقے سے حل نہ کیا گیا تو آنے والے مہینوں میں ادویات کی دستیابی اور affordability دونوں ہی بڑے چیلنجز بن سکتے ہیں، خاص طور پر کم آمدنی والے طبقات کے لیے۔



